آپ آف لائن ہیں
منگل 10؍ شوال المکرم 1441ھ 2؍ جون 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کوئی بندہ کام نہیں کررہا، سب فنڈز کی بات کررہے ہیں، چیف جسٹس


سپریم کورٹ اسلام آباد میں وزارت قانون نے قیدیوں کی ضمانت پر رہائی کی مخالفت کرتے ہوئے اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی، چیف جسٹس کورونا کی وباء پر ریمارکس دیئے کہ کوئی بندہ کام نہیں کررہا، سب فنڈز کی بات کررہے ہیں۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے انڈرٹرائل قیدیوں کی ضمانت پررہائی کے معاملے کی سماعت کررہا ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ قیدیوں کی رہائی سے متعلق فیصلہ آج جاری کریں گے، کیس میں دیگر معاملات کو کل سنیں گے۔

کیس کی سماعت کے دوران وزارت قانون نے اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جس میں بتایا گیا کہ سیکشن 401 کے تحت انڈر ٹرائل قیدیوں کو ضمانت نہیں دی جاسکتی۔

رپورٹ کے مطابق آئین کے آرٹیکل 45 کے تحت صدر پاکستان کے پاس اختیار ہے کہ وہ ضمانت کی اجازت دیں، تاہم آرٹیکل 45 کے تحت صدر پاکستان کو انڈر ٹرائل قیدیوں کو ضمانت پر رہائی کا اختیار نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اب تو جیلوں میں بھی ماسک بنائے جا رہے ہیں، جبکہ اتنی بڑی بڑی ٹیکسٹائل انڈسٹریاں ہیں۔

سندھ حکومت نے اٹارنی جنرل کے مؤقف کی تائید کی، ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت میں بتایا کہ 519 قیدیوں کو معزز ہائیکورٹ کے حکم پر رہا کیا گیا،تاہم جس انداز سے ضمانت دی گئی میں حمایت نہیں کرتا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ قانون میں زبانی ہدایت کی کیا اہمیت ہوتی ہے؟یہ قومی معاملہ ہے کسی ایک جماعت کا نہیں، آئین موجود ہے، عدالتوں، مقننہ اور انتظامیہ کو آئین کے تحت ہی کام کرنا ہے۔

جسٹس گلزار نے ریمارکس دیئے کہ عدالتوں کو مکمل طور پر قانون کے تحت فیصلے دینے ہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے عدالے کو بتایا کہ قانون کے مطابق ہائیکورٹ کے حکم کی حمایت نہیں کی جاسکتی، چیف جسٹس نے کہا کہ قانون نے ایسی ضمانتوں کا اختیار صرف سپریم کورٹ کو ہی دیا ہے۔

چیف جسٹس نے کوروناوائرس معاملے پر وفاقی، صوبائی حکومتوں کی رپورٹس پر اظہار عدم اطمینان کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ یہ کس قسم کی ایمرجنسی ہے کہ تمام اسپتال بند ہیں، پرائیویٹ کلینک بھی بند ہیں، گراونڈ پر کیا ہورہا ہے، کسی کو علم ہی نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ شوگر اور امراض قلب کے مریض کہاں جائیں؟ عوام کو تو خدا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، لوگوں کو ٹی وی پر بتایا جا رہا ہے گھر سے نہ نکلیں اور ہاتھ 20 بار دھوئیں، ٹی وی صبح سے شام تک لوگوں کو ڈرا رہا ہے۔

جسٹس گلزار نے ریمارکس دیئے کہ کوئی بندہ کام نہیں کررہا، سب فنڈز کی بات کررہے ہیں، صوبائی حکومتیں پیسےبانٹ دو اور راشن بانٹ دو کی باتیں کررہی ہیں، تمام چیف منسٹر گھروں سے آرڈر دے رہے ہیں، گراونڈ پر کچھ بھی نہیں ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ صوبوں کے پاس ٹیسٹ کیلئے کٹس ہی موجود نہیں، صوبے کہہ رہے ہیں 10 ارب دے دو، گلوز اور ماسک لینے ہیں۔

جسٹس گلزار نے ریمارکس میں کہا کہ سب کاروبار بند کر دیے گئے، ہمارا ملک اس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے چیف جسٹس سے چیمبر میں بریفنگ کی استدعا کی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ چیمبر میں آپ کیا بتائیں گے، ہمیں سب پتہ ہے۔

چیف جسٹس نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ پتہ نہیں ظفر مرزا صاحب کی کیا کوالیفکیشن ہے، وہ صرف ٹی وی پر پروجیکشن کرتے ہیں۔

جسٹس گلزار نے کہا کہ ہمیں احساس ہے کہ امریکا جیسا ملک بھی ہلا ہوا ہے، ہم کورونا اسپیشلسٹ نہیں، ہم صرف یہ دیکھ رہے ہیں شہریوں کے آئینی حقوق کادفاع ہو رہا ہے یا نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہر ایک اسپتال اور کلینک لازمی کھلا رہنا چاہے، یہاں تو وزارت ہیلتھ نے خط لکھا کہ سپریم کورٹ کی ڈسپنسری بند کی جائے،

کیوں بھائی یہ ڈسپنسری کیوں بند کی جائے؟ کیا اس طرح سے اس وباء سے نمٹا جارہا ہے؟

سپریم کورٹ نے کہا کہ وفاق کے پاس تو کچھ ہے ہی نہیں، وفاق تو کچھ کر ہی نہیں رہا، آپ نے جو رپورٹ جمع کرائی ہے یہ اس بات کو واضح کررہی ہے۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ایک رپورٹ آج بھی جمع کرائی ہے، وفاق بھرپور طریقے سے اقدامات کررہا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اب وہ وقت آگیا ہے دوسرے ملک والے کچھ نہیں دیں گے، سب کچھ خود پیدا کرنا ہوگا، کھانے اور اناج کا بھی خود بندوبست کریں، ہم لوگوں کی زندگیاں بچانے کیلئے ادویات تک باہر سے منگواتے ہیں،حکومت کو عوام کو اعتماد میں لینا ہوگا۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ پارلیمنٹ کے ذریعے حکومت معاملات حل کرے، روزانہ بند کمرے میں بیٹھ کرکوئی حکومتی نمائندہ بیان جاری کردیتا ہے، اٹارنی جنرل صاحب آپ حکومت کی معاونت کریں۔

قومی خبریں سے مزید