آپ آف لائن ہیں
جمعرات12؍شوال المکرم 1441ھ4؍جون2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آج کی دنیا میں جس طرح ایک جان لیوا جرثومہ پھیل رہا ہے، بالکل اسی طرح ایک اور شے کی بھرمار ہے: تجویزوں کی یلغار۔ نہ پوچھئے کیسی کیسی تدبیریں سُجھائی جارہی ہیں، کیسے کیسے ٹوٹکے بتائے جا رہے ہیں، ایک طومار بندھا ہوا ہے۔ کورونا سے کیسے بچا جائے، اِس سوال کے جواب میں لوگ دور دور کی کوڑیاں لا رہے ہیں۔ اتنی کہ اگر اُن پر عمل ہورہا ہوتا اور وہ واقعی کارگر ہوتیں تو آج ہر طرف سُکھ چین کی بنسی بج رہی ہوتی۔ جیسے یہ وائرس چین سے چلا تھا اسی طرح یہ ٹوٹکا بھارت سے چلا کہ اگر آپ کے کمرے میں گرم بھاپ بھری ہو تو کمرے میں موجود سارے کے سارے وائرس جہنم واصل ہو جائیں گے۔ اس پر ایک صاحب نے کمرے میں پریشر کُکر میں بھاپ اٹھائی اور سانس میں اتنی زیادہ بھاپ کھینچی کہ سانس کی نالی جل گئی۔ کیسی مضحکہ خیز خبر بنی ہوگی کہ ایک صاحب سانس کی نالی جھلس جانے سے مر گئے۔ بھارت کی بات چلی تو ایک نرالی ہی بات سنی، ویسے میں حیران نہیں ہوا، اِس کا سبب ابھی بتاؤں گا۔ بات یہ تھی کہ وہاں یہ خیال تیزی سے پھیل رہا ہے کہ ملک بھر میں موبائل فون کے جو برقی سگنل موسلا دھار بارش کی طرح برس رہے ہیں، اُن کی وجہ سے یہ نیا نرالا وائرس پیدا ہوا اور انہی کی وجہ سے یہ کورونا پھل پھول رہا ہے۔ چنانچہ مطالبہ یہ ہے کہ ہر نکّڑ پر لگے ہوئے موبائل فون کے سگنل ابلنے والے کھمبے اُکھاڑ پھینکے جائیں۔ بلکہ کہیں کہیں تو لوگوں نے اُن کھمبوں کو آگ بھی لگادی۔ مجھے اس خبر پر حیرت اس لیے نہیں کہ ابھی چند مہینے پہلے میں ہندوستان میں تھا، جہاں میرا موبائل فون ٹھیک طرح کام نہیں کر رہا تھا۔ میرا قیام روڑکی کے ٹیکنالوجی کے بہت ہی بڑے انسٹیٹیوٹ کے مہمان خانے میں تھا جہاں میں نے ایک اہلکار سے پوچھا کہ میرا موبائل فون مجھ سے خفا لگتا ہے۔ اس نے کہا کہ آپ پریشان نہ ہوں، پبلک کی زبردست مانگ کی وجہ سے موبائل سگنل کے کھمبے کم کر دیے گئے ہیں اس وجہ سے یہ دشواری پیدا ہوئی ہے۔ ظاہر ہے میرا اگلا سوال یہی تھا کہ کھمبے کیوں کم کردیے گئے؟ پتا چلا کہ وہاں ایک عام خیال یہ ہے کہ فضا میں جو برقی سگنل کی بھرمار ہے اس سے مرد حضرات کی قوتِ تولید کم ہو جاتی ہے، آسان لفظوں میں یہ کہ ماحول میں اتنے زیادہ برقی سگنل گردش کر رہے ہیں کہ ان کے اثر سے مردوں میں بچے پیدا کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔ لوگ اس پر برہم ہیں، اتنے کہ سرکار کو کتنے ہی کھمبے اکھاڑنا پڑے۔ ملک میں اب برقی سگنل سے زیادہ بچوں کی بہتات ہو گی۔

اس پر یاد آیا کہ جن دنوں لاک ڈاؤن کا سلسلہ شروع ہوا اور طے پایا کہ اب سب لوگ اپنے گھروں میں رہیں گے، ہمارے ایک دوست نے پہلی بات یہ کہی کہ خدا خیر کرے، اگلے برس ہر طرف بچے ہی بچے ہوں گے اور برطانیہ کی گرما گرم خبر مجھ سے سن لیجئے کہ جب سے ہر مرد و زن کو رات دن گھر میں رہنے کا حکم ہوا ہے، مرد بےدریغ بیویوں یا گرل فرینڈز پر ہاتھ اُٹھا رہے ہیں۔ گھریلو مار پیٹ یا خانگی تشدد کے واقعات اتنے بڑھ گئے ہیں کہ مظلوموں کی مدد کے لیے، جن میں بعض اوقات مرد بھی ہوتے ہیں، خاص ٹیلی فون لائن قائم کردی گئی ہے۔

آئیے ایک بار پھر لاک ڈاؤن کی بات کریں۔ جی چاہتا ہے ہر جگہ ہر گوشے میں ایک سروے کرایا جائے اور گھروں میں بند بیٹھے ہوئے ہر روپ رنگ، ہر نسل اور قبیلے کے افراد اور ہر مشہور و گمنام سے پوچھا جائے کہ آپ اس قید کے عالم میں اپنا وقت کیسے گزار رہے ہیں، آپ نے اپنے لیے کیا مشغلہ چنا ہے، مجھے یقین ہے کہ اس سوال کے جواب میں بھانت بھانت کے ایسے عجیب و غریب جواب ملیں گے کہ عقل حیران رہ جائے گی۔ کوئی باغبانی کر رہا ہے، کوئی سلائی کڑھائی کے کام میں مصروف ہے، کسی نے کتّے یا بلّیاں پال لی ہیں، کوئی ناول پڑھ رہا ہے، کسی نے پرانے گانوں کے ریکارڈ لگا کر یادیں تازہ کرنے کی ٹھانی ہے۔

چلیے لگے ہاتھوں مجھ سے بھی پوچھ لیجئے کہ میں اپنا وقت کیسے گزار رہا ہوں۔ میرے پاس میرے اپنے اتارے ہوئے فوٹو گراف ہزاروں کی تعداد میں جمع ہیں۔ اُن سے بھرے ہوئے بکس فرش پر اُنڈیل کر اُن کو چھانٹ رہا ہوں۔ اور اس سے بھی بڑھ کر اکثر تصویروں سے وابستہ لوگوں اور واقعات کو یاد کر رہا ہوں۔ کچھ کو بھول چکا تھا، ان کی یاد تازہ کررہا ہوں اور کچھ کو ذخیرے میں پاکر حیران ہوں کہ ان کو بچا کر رکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ ان تصویروں کو فارغ کر رہا ہوں۔

اس کے علاوہ ایک اور کام کررہا ہوں۔ سنہ اسّی کے آخری برسوں میں جب میں بی بی سی کی اردو سروس سے وابستہ تھا اور کئی دوسرے پروگراموں کے علاوہ بچوں کا مقبول پروگرام ’شاہین کلب‘ پیش کیا کرتا تھا، میں نے بچوں کے گیت، نغمے اور ترانے لکھے تھے، ان کی طرزیں بنائی تھیں اور اسٹوڈیو میں ریکارڈنگ کی تھی، خوش قسمتی سے وہ نغمے میر ے پاس محفوظ ہیں۔ اب ان کا متن لکھ کر فیس بُک پر عوام کے لیے پوسٹ کر رہا ہوں۔ وہ شاعری اور طرح کی ہے اور چونکہ میں شاعر نہیں، اس کے بول دوسروں سے مختلف اور نرالے ہیں۔ ان کی ندرت پر میرے فیس بُک کے احباب نہال ہیں اور نئے انداز کے اس لہجے کو بہت سراہ رہے ہیں۔ پاکستان کے ایک بہت بڑے اشاعت گھر نے بچوں کے وہ سارے گیت اور نغمے شائع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور کچھ عجب نہیں کہ ان کی از سر نو ریکارڈنگ کا اہتمام بھی ہو جائے۔ یہ بڑا اچھا کام ہو گیا اور وہ بھی لاک ڈاؤن کی بدولت۔

اپنا لڑکپن یاد آگیا جب ایسے فرصت کے دنوں میں کہا جاتا تھا ’بیکار مباش، کچھ کِیا کر‘ ‘اس پر ہم لڑکے دوسرا مصرع لگاتے تھے... ’کپڑے اُدھیڑ کر سیا کر‘۔

تازہ ترین