آپ آف لائن ہیں
منگل22؍ذیقعد 1441ھ 14؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ہم انتہائی مخدوش حالات سے دوچار ہو رہے ہیں مگر کم لوگوں کو اندازہ ہے کہ ہم تاریخ کے انتہائی دور سے گزر رہے ہیں

کورونا وائرس ایک خطرناک وبائی بیماری ہے اس میں لوگ مر رہے ہیں مگر صحت یاب بھی ہو رہے ہیں۔ گویا اس کا کوئی نہ کوئی علاج ہے جس سے ہم بچ پکتے ہیں مگر غور کریں ایٹمی جنگ یا گلوبل وارمنگ کی متوقع تباہی سے کسی کا بچنا ناممکن ہے

یہ حقیقت بہت پہلے واضح ہو چکی تھی کہ وبائی امراض بتدریج واضح ہوتے جا رہے ہیں گزرے پندرہ برس قبل سارس وائرس سے اندازہ ہو چکا تھا کہ دُنیا مختلف وبائی امراض کا شکار ہونے جا رہی ہے۔ وائرس پھیلنے کے ساتھ ہی اس کی ویکسین بھی تیار ہوتی رہی ہیں

نوم چومسکی

نوم چومسکی شہرئہ آفاق امریکی دانشور، سیاسی تنقید نگار، ماہر لسانیات، سماجی سائنس داں اور تاریخ داں ہے انہوں نے مذکورہ مضامین اور دیگر موضوعات پر ایک سو سے زائد کتابیں تحریر کی ہیں ان کی سیاسی تنقید اور آراء کو پوری دُنیا میں مناسب پڑھا جاتا ہے۔ حال ہی میں نوم چومسکی نے اپنی ایک تازہ تحریر میں لکھا ہے امریکی حکومت نے حالیہ کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے جو حکمت عملی اپنائی اور کوتاہی برتی اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ مزید لکھتے ہیں کہ امریکہ کو اور دُنیا کو بھی سمجھ لینا چاہئے کہ کورونا وائرس کے خاتمے کے بعد زیادہ گھمبیر مسئلہ نیوکلیائی جنگ اور گلوبل وارمنگ کا ہے۔

کورونا کے بعد والے چیلنجز
نوم چومسکی

ان کا کہنا ہے کہ یہ کورونا وائرس بڑا مسئلہ نہیں تھا اس کے بارے میں تمام معلومات میسر تھیں۔ اس کی بآسانی روک تھام کی جاسکتی تھی۔ اکتوبر 2019ء میں جب کورونا وائرس کا حملہ سامنے آیا تب امریکہ میں اس سے نمٹنے کے طریقہ اور سامان موجود تھا۔ اس حوالے سے جان ہاکنس سینٹر برائے سائنس مرکز صحت اور ورلڈ اکنامک فورم بمع بل ملینڈا گیٹس فائونڈیشن کے اشتراک سے ایک مکمل ویڈیو، تصاویر اور وائرل بیماریوں سے محفوظ رہنے کے طریقہ کار کی نمائش کی جس کو تمام پریس میں بھی ارسال کیا گیا تھا مگر اس پر دھیان نہیں دیا گیا۔ 

وباء پھوٹ پڑی اور وائرس پھیلتا گیا۔ اکتوبر 2019ء میں بتا دیا گیا تھا کہ وبائی امراض کی روک تھام کے لئے نجی سیکٹر پرائیوٹ سیکٹر اور حکومتیں مشترکہ لائحہ عمل تیار کریں۔ 31 دسمبر کو چین نے عالمی ادارئہ صحت کو اطلاع دی تھی کہ ایک نامعلوم وباء عام ہو رہی ہے اس حوالے سے زیادہ معلومات میسر نہیں ہیں۔ ایک ہفتے بعد چینی سائنس دانوں نے بتایا کہ یہ کورونا وائرس ہے۔ 

بعدازاں چینیوں نے اس بارے میں معلومات ترتیب دے کر پوری دُنیا کو اس وبائی بیماری کے حوالے سے بتا دیا۔ نوم چومسکی کہتے ہیں دُنیا کے ماہرین وائرس امراض کے عالمی ادارہ صحت کی طرف سے روزانہ جاری پریس توجہ سے پڑھتے تھے تو کہا جا سکتا ہے کہ ہاں ایک بڑی تعداد وہ معلوماتی پریس نوٹ پڑھتے رہے ہیں۔ اس حوالے سے بیشتر ماہرین نے اپنی کوشش بھی کی۔ مثلاً چین، جنوبی کوریا، سنگاپور اور تائیوان کے ماہرین نے کوششیں کیں اور اس وبائی مرض کی روک تھام کرنے میں بڑی حد تک کامیاب رہے۔ دُوسرے لفظوں میں اس موج کو روکنے میں کامیاب رہے۔

چومسکی کہتے ہیں یورپی ممالک نے اپنا اپنا طریقۂ کار اپنایا، جرمنی کے پاس زیادہ مواقع تھے اس نے دُوسروں کی پروا نہیں کی مگر بڑی حد تک اس وباء پر قابو پانے کی کوشش کی ہے۔دُوسرے یورپی ممالک نے اس وباء کو سنجیدگی سے نہیں لیا اس حوالے سے نوم چومسکی کو افسوس ہے کہ برطانیہ اور امریکہ جیسے ترقی یافتہ معاشرے بھی ٹھوکر کھا گئے۔ ایک دن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا یہاں کوئی بحران نہیں ہے یہ صرف فلو ہے۔ دُوسرے دن سب کوا پنے اپنے کام پر جانے کی اجازت تھی کیونکہ صدرٹرمپ الیکشن کے بارے میں سوچ رہے تھے، غالباً اس کی سوچ یہ تھی کہ پوری دُنیا ان کی مٹھی میں ہے وہ جیسا چاہیں گے ویسا ہی ہوگا۔ نوم چومسکی کہتے ہیں امریکہ میں ڈھائی لاکھ سے زیادہ کورونا کے مریض ہیں اور اب ساڑھے چھ ہزار امریکی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ 

چومسکی کہتے ہیں ایک سو اَسّی سے زیادہ ممالک اس وبائی مرض میں مبتلا ہو چکے اور پچپن ہزار کے قریب ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ وائرس بہرحال چین ہی سے پھیلا۔ نوم چومسکی امریکی صدر کے بارے میں لکھتے ہیں کہ وہ سماج دُشمن واقع ہوئے ہیں۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ہم انتہائی مخدوش حالات سے دوچار ہو رہے ہیں مگر کم لوگوں کو اندازہ ہے کہ ہم تاریخ کے انتہائی دور سے گزر رہے ہیں۔ مگر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے اطراف کے لاڈلے نہیں جانتے کہ وہ تیزی سے پاتال کی طرف دوڑ رہے ہیں۔ چومسکی کہتے ہیں درحقیقت ہم دو بھیانک ترین صورت حال سے دوچار ہونے جا رہے ہیں پہلا نیوکلیائی جنگ کا خطرہ اور دُوسرا گلوبل وارمنگ کی حقیقت۔

نوم چومسکی کہتے ہیں کورونا وائرس ایک خطرناک وبائی بیماری ہے اس میں لوگ مر رہے ہیں مگر صحت یاب بھی ہو رہے ہیں۔ گویا اس کا کوئی نہ کوئی علاج ہے جس سے ہم بچ پکتے ہیں مگر غور کریں ایٹمی جنگ یا گلوبل وارمنگ کی متوقع تباہی سے کسی کا بچنا ناممکن ہے۔ دُوسرے لفظوں میں سب کچھ ختم۔نوم چومسکی نے اپنی تحریر میں شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ امریکی صدرٹرمپ نے ایران پر سخت پابندیاں عائد کر کے اس ملک کی معیشت معاشرت متاثر کر کے اور ایرانی عوام کو کس بات کی سزا دے رہا ہے۔

چومسکی نے عالمی معاشی نظام پر بھی تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ اس نظام کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنا چاہیے جو آقا اور غلام بنانے کا نظام ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایران پر سے تمام اقتصادی پابندیاں ختم کی جائیں آج وہ ملک کورونا وائرس سے شدید متاثر ہے اور ہزاروں اموات ہو چکی ہیں۔ نوم چومسکی لکھتے ہیں کہ کورونا وائرس کیونکہ اتنا پھیلا یہ اس معاشی بھاری بھرکم مارکیٹ سسٹم کی ناکامی ہے جو انتہائی سفاکی سے دُنیا کے عوام کو بلکتا دیکھ کر بھی انجان ہے۔ اس کی وجہ سے دُنیا شدید معاشی اور سماجی مسائل کا شکار ہے۔

نوم چومسکی لکھتے ہیں ان کی یونان کے سابق وزیر خزانہ یانس٭٭ سلواج اور کروشیا کی دانشور انجیلا ٭٭ سے کہ یورپی ممالک کی جمہوریت میں جو خرابیاں دَر آئی ہیں انہیں جڑ سے اُکھاڑنے کی ضرورت ہے اس پر یورپ کے علمی اور سیاسی حلقوں میں پذیرائی ہو رہی ہے۔ امکانات یہ ہیں کہ آئندہ پانچ برسوں میں یورپی خطہ میں نمایاں تبدیلیاں رُونما ہو چکی ہوں گی۔ موجودہ معاشی نظام زیادہ عرصے تک اپنی اجارہ داری برقرار نہیں رکھ سکتا۔ نوم چومسکی اس بات پر پُرامید ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ کورونا وائرس کے بعد دُنیا کے عوام یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں کہ انہیں کس طرح کی دُنیا کی ضرورت ہے۔

یہ حقیقت بہت پہلے واضح ہو چکی تھی کہ وبائی امراض بتدریج واضح ہوتے جا رہے ہیں گزرے پندرہ برس قبل سارس وائرس سے اندازہ ہو چکا تھا کہ دُنیا مختلف وبائی امراض کا شکار ہونے جا رہی ہے۔ وائرس پھیلنے کے ساتھ ہی اس کی ویکسین بھی تیار ہوتی رہی ہیں۔

دُنیا بھر میں مختلف بڑی تجربہ گاہیں مختلف بیماریوں کی دوائیں تیار کرنے میں پوری صلاحیت رکھتی ہیں، مگر کورونا وائرس کے لئے انہوں نے کیا ،کیا کیا، مارکیٹ کی جانب سے اشارہ تھا، ادویات تیار کرنے والی بڑی کمپنیاں حائل تھیں، پھر کیا وجہ ہے، ہم نے اپنی قسمت کی ڈور نجی اداروں کے ہاتھ سونپ رکھی ہے یہ اجارہ دار کمپنیاں کارپوریشن کہلاتی ہیں۔ بڑی دوائوں کی کمپنیاں باڈی کریم اور دیگر تعیشات آرائشات کا سامان تیار کر کے زیادہ پیسہ کماتی ہیں وہ وبائی امراض کی ویکسین تیار کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتی ہیں۔

واضح رہے کہ پولیو ویکسین امریکہ اور جگہ استعمال سے اس مرض پر قابو پایا گیا۔ پولیو کی دوا جو سالک ویکسین کہلاتی ہے سرکاری لیبارٹری میں تیار کی گئی تھی اور پچاس کی دہائی میں اس کا استعمال شروع ہوا۔ سرکاری دوا تھی اس لیے اس کو پیٹنٹ کرنے کی اجازت نہ تھی اس وجہ سے پولیو جیسا مہلک مرض ختم ہو پایا۔ مگر نیو لبرل اَزم نے سب اُلٹ پلٹ کر رکھ دیا ہے اب دوائوں پر بھی اجارہ داریاں ہیں اگر کسی بیماری کو ختم کرنے کی دوا تیار بھی ہوتی ہے تو اجارہ دار دوائوں کا ریکٹ اس دوا کو بازار میں آنے سے روک دیتا ہے۔ یہ نیو لبرل اَزم کا پلیگ ہے جو دُنیا کی معیشت اور سیاست پر شدت سے اثرانداز ہو رہا ہے۔

آج آپ کسی ذمہ دار فرد سے بات کریں کہ کیا صورت حال ہے وہ وضاحت کرتا ہے کہ کورونا وائرس نے پوری دُنیا کو شدید متاثر کیا ہے۔ ہمارے ڈاکٹر، طبّی عملہ محاذ پر ہیں وہ انسانی جانوں کو بچانے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اُدھر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو کہتے ہیں دُنیا کو دُوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی بار اس طرح کی صورت حال کا سامنا ہے، اس طرح کی بیان بازی عام ہے۔ دراصل عوام کو سمجھنا ہے۔ بات کو بڑھا چڑھا کر بتانا ہے۔

کورونا کے بعد بھی ہم خطروں سے گھرے رہیں گے۔ کرّئہ اَرض پر انسانی اور دیگر حیاتیات کو بے شمار خطرات لاحق ہیں۔ انسان کو اور بھی مسائل درپیش ہیں ان کو کون حل کرے گا؟ امریکہ میں ریپبلکن پارٹی کی حکومت ہے وہ گلوبل وارمنگ کو تسلیم ہی نہیں کرتے۔ صدر ٹرمپ قدرتی کوئلہ، تیل اور دیگر ذرائع کے استعمال کو ترقی کا نام دیتے ہیں۔ پیرس معاہدہ کو کاغذ کا پرزہ تصورکرتے ہیں۔ فیصلہ عوام کریں گے۔