کورونا نے دنیا کو دہشت زدہ کر رکھا ہے۔ نومولود ہو یا ایسے افراد جو زندگی کی سو بہاریں دیکھ چکے، کورونا نے عمر اور جنس کی تفریق کیے بغیر لوگوں کو نشانہ بنایا ہے۔سب سے زیادہ خطرہ کسے ؟طبی ماہرین کے مطابق پچپن سال سے زیادہ عمر کے افراد کو وائرس کا شکار ہونے کا زیادہ خطرہ ہے،، کینسر اور عارضہ قلب میں مبتلا افراد بھی اس وائرس کا باآسانی شکار بن سکتے ہیں تاہم دمے یا پھیپھڑوں کے مرض میں پہلے سے مبتلا مریضوں کے لیے یہ بیماری انتہائی خطرناک ہے۔
دیگر ایسے امراض جھیلنے والے افراد جن کی قوت مدافعت کمزور ہے، ان کے لیے بھی کورونا وائرس سے لڑنا آسان نہیں ۔ نیویارک میں مقیم پاکستانی امریکن ڈاکٹر ماہم اکبر کا کہنا ہے کہ کورونا کے جو مریض ان کے پاس آتے ہیں ان میں ایک بات مشترک ہوتی ہے کہ ان کے دوستوں یا خاندان والوں میں کوئی وائرس کا شکار ہوچکا ہوتا ہے۔ ان میں شوگر کے مریضوں کی ایک بڑی تعداد ہوتی ہے۔ ڈاکٹر ماہم اکبر کہتی ہیں کہ یوں تو بیس، تیس اور چالیس سال کی عمر کے افراد بھی کورونا وائرس سے متاثر ہو کر آتے ہیں لیکن بڑی عمر کے افراد میں مرض آگے جاکر بگڑ جانے کا امکان زیادہ دیکھا گیا ہے۔ ایسے میں طبی ماہرین کو فوری فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ اگر مریض کا آکسیجن لیول بہتر نہیں ہورہا تو انہیں ہنگامی بنیادوں پر انکیوبیٹ کرنا پڑتا ہے۔
کمزور مدافعت والے مریض ایسی صورتحال سے واپس نہیں آپاتے اور جان سے چلے جاتے ہیں۔ جبکہ سنگین کیسز میں مریضوں کو دل کا دورہ بھی پڑسکتا ہے۔عورتوں کے مقابلے میں مرد زیادہ نشانہامریکا سمیت کئی یورپی ممالک میں بھی وائرس سے ہلاک ہونیوالے افراد میں مردوں کی تعداد عورتوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ تاہم عالمی ادارہ صحت کے مطابق جنس سے بالاتر ہوکر ہر عمر کے افراد کو احتیاط کی ضرورت ہے۔کورونا کیخلاف حکمت عملیکورونا وائرس کو بڑے پیمانے پر پھیلنے سے روکنے کے لئے دنیا بھر میں ممالک نے لاک ڈاون اور سماجی فاصلے کی پالیسی اپنائی۔ امریکا کی ڈیوک یونی ورسٹی کے شعبہ پبلک ہیلتھ کے ڈائیریکٹر مائیکل میرسن کا کہنا ہے کہ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ "flatten the curve" کے اصول کو کب تک اپنایا جاسکتا ہے۔ یا یہ کہ وائرس نے پلٹ کر وار کیا تو کیا حکمت عملی ہوگی۔ تاہم تمام ممالک کو چین کی جانب بغور دیکھتے رہنا ہوگا کہ وہاں ووہان میں زندگی کی سرگرمیاں بحال ہونے کے بعد حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں۔
کورونا کیخلاف کامیاب ممالک چین میں ووہان سمیت کورونا سے متاثرہ علاقوں میں پوری آبادی کے کورونا ٹیسٹ مفت کیے گئے اور مشتبہ افراد کو سرکاری مراکز میں قرنطینہ کیا گیا۔چین نے پورے ملک کے لیب ورکرز ، ڈاکٹرز اور پیرا میڈکس کو جمع کر کے اور تربیت دے کر ووہان بھیجا تھا جس کی وجہ سے پوری آبادی کا کورونا ٹیسٹ کرنا ممکن ہوا ۔ متاثرہ علاقوں کی پوری آبادی کو گھروں تک خوراک کی فراہمی بھی یقینی بنائی گئی جس کے سبب لاگوں نے لاک ڈاون قبول کرلیا۔جنوبی کوریا اور جرمنی جیسے ممالک جو کورونا سے ہونیوالی اموات کی تعداد کم رکھنے میں کامیاب ہوئے، انہوں نے بھی ابتدا ہی میں بڑی تعداد میں مفت ٹیسٹنگ، کونٹیکٹ ٹریسنگ اور موبائل فون ایپ کے ذریعے کورونا وائرس کے ممکنہ مریضوں کی مانیٹرنگ کی ۔
جنوبی کوریا، سنگاپور، ہانگ کانگ اور جاپان نے ماضی کے تجربات سے سیکھا۔ سنگاپور اور ہانگ کانگ 2003 میں سارس وائرس سے بدترین متاثر ہوئے تھے۔ جبکہ 2015 میں جنوبی کوریا MERS وبا سے مکمل طورپر مفلوج ہوگیا تھا۔ امریکا، اٹلی، برطانیہ کی غلطیاںامریکا اور جنوبی کوریا میں کورونا کیسز ایک دن کے فرق سے سامنے آئے لیکن امریکا میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی جبکہ جنوبی کوریا میں ہزاروں میں رہی۔ جنوبی کوریا بروقت ٹھوس اقدامات کے ذریعے کورونا کے نو سو یومیہ کیسز کو ایک سو پر لانے میں کامیاب ہوا۔ جنوبی کوریا کی curve کو flatten کرنے میں کامیاب ہونے کی بنیادی وجہ ابتدا میں اور بڑی تعداد میں ٹیسٹنگ تھی۔ جنوبی کوریا "ٹریسنگ" کو بلند ترین سطح پر لے گیا۔ حکومتی احکامات کے تحت سیول ائیرپورٹ پر اترنے والے تمام مسافروں کا ٹمپریچر چیک کرنے کے بعد انہیں ہیلتھ منسٹری کی سیلف ڈائگنوسس ایپ ڈاون لاوڈ کرنے کو کہا جاتا۔
اپنی منزل پر پہنچنے کے بعد انہیں ایپ کو روزانہ استعمال کرنا ہوتا اور کورونا کی علامات کی صورت میں انہیں ایپ کے ذریعے رپورٹ کرنا ہوتا۔ کورونا پازیٹیو افراد کی حرکات و سکنات پر نظر رکھی جاتی۔ اور ان کے علاقے میں دوسرے افراد کو سماجی فاصلہ رکھنے کے لئے موبائل فون الرٹ بھیجے جاتے۔ لوگوں کی سہولت کے لئے حکام نے ڈرائیو تھرو ٹیسٹ بھی متعارف کروائے۔ جنوری میں پہلا کیس سامنے آنے کے ایک ہفتے کے اندر ہی جنوبی کوریا نے بیس میڈیکل اور فارمسیوٹکل کمپنیز سے ہنگامی بنیادوں پر ٹیسٹنگ کٹس کی پیداوار کے لئے رابطہ کیا۔ پہلاکیس سامنے آنے کے نو دن کے اندر لوگوں کو معلومات فراہم کرنے اور مریضوں کا ڈیٹا رکارڈ کرنے کے لئے کال سینٹر 1339 قائم کردیا۔اور پھرایمرجنسی نافذ کردی۔
جرمنی نے بھی ٹیسٹنگ کو مفت اور باآسانی دستیاب بنایا، خصوصی کورونا ٹیکسیز متعارف کروائیں، کونٹیکٹ ٹریسنگ کو اپنا کر اموات کی تعداد کو کم رکھنے میں کامیاب ہوا۔اس کے برعکس امریکا میں ٹرمپ انتظامیہ نے کورونا کیخلاف فیصلوں میں تین سے زائد ہفتے ضائع کردیے۔ امریکا اٹلی اور دیگر ملکوں میں ٹیسٹ ہوئے ہی ان لوگوں کے جن میں علامات ظاہر ہوئیں اور اس دوران متاثرہ افراد سے وائرس دوسروں میں منتقل ہوتا رہا۔ امریکا میں مفت ٹیسٹنگ بھی صرف سرکاری لیبارٹریز تک محدود رہی۔پاکستان کو کیا کرنا چاہئے؟عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس نے کورونا کے تیزی سے پھیلاو پر قابو پانے کے لئے ٹیسٹ، ٹیسٹ اور ٹیسٹ کو سب سے موثر حکمت عملی قراردیاہے۔ اور پاکستان جیسے ممالک کو ناکافی ٹیسٹنگ سے متعلق مسلسل خبردار کیا جارہا ہے۔ٹیسٹنگ اور کونٹیکٹ ٹریسنگ یونی ورسٹی آف میری لینڈ کے ماہر امراض انفیکشن ڈاکٹر فہیم یونس کا کہنا ہے کہ بیس کروڑ آبادی کے ملک پاکستان کو روزانہ کم از کم دس ہزار ٹیسٹ کرنے چاہئیں۔
بخار، گلے میں تکلیف، کھانسی، سانس لینے میں دشواری، سونگھنے اور چکھنے کی صلاحیت میں کمی جیسی علامات کے ساتھ اسپتال آنیوالے ہر شخص کا کورونا ٹیسٹ کیا جائے۔ کورونا پازیٹیو مریضوں کے کے خاندان والوں کو بھی ٹیسٹ کیا جائے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کورونا پازیٹیو مریضوں کے خاندان والوں میں کورونا ہونے کا دس سے پندرہ فیصد امکان پایا جاتا ہے۔ پھر ان کے دوستوں کو ٹریس کیا جائے اور یہ ہی عمل ان کے ساتھ بھی دہرایا جائے۔کورونا کیخلاف طاقتور ویکسینکورونا سے لڑنا ہے تو ملک کی سیاسی قیادت اور اپوزیشن کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ پیچھے چھوڑ کر عوامی مفاد مقدم رکھنا ہوگا۔ اختلافات بھلا کر متحد ہونا کورونا کے خلاف سب سے طاقتور ویکسین ثابت ہوسکتا ہے۔