آپ آف لائن ہیں
جمعرات10؍ذیقعد 1441ھ2؍جولائی2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

PIAکی پرواز25 اپریل کو اسلام آباد سے اوسلو جائے گی

پاکستان سے نارویجن باشندوں اور نارویجن پاکستانیوں کو ناروے لے جانے کے لیے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی خصوصی پرواز25 اپریل کو اسلام آباد سے اوسلو روانہ ہوگی۔

اسلام آباد میں ناروے کے سفارتخانہ کی ویب سائیٹ پر شائع ہونے والے ایک بیان میں کہاگیا ہے کہ پرواز کے لیے ٹکٹس پی آئی اے کے دفاتر اور پی آئی اے کے مقرر کردہ ٹریول ایجنٹس سے خریدے جاسکتے ہیں۔بیان کے مطابق ٹکٹ کی قیمت پی آئی اے نے مقرر کی ہے اور اس پرواز سے استفادہ کرنے والے ہرفرد کو اپنی ٹکٹ کی قیمت خود ادا کرنا ہوگی۔

بیان میں یہ بھی کہاگیا ہے کہ اگر آپ کے پاس پی آئی اے کی کسی منسوخ شدہ پرواز کی کارآمد ٹکٹ ہے تو اس سلسلے میں بھی پی آئی اے والوں سے رابطہ کریں۔

بیان میں بتایاگیا ہے کہ 25 اپریل کو یہ خصوصی پرواز ہے اور ابھی تک اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے کہ معمول کی پروازیں کب شروع ہوں گی۔ نیز یہ کہ اسلام آباد سے اوسلو کے لیے سکینڈے نیوین (ساس) ایئرلائنز کی اگلی پرواز کے بارے میں بھی ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

یاد رہے کہ حکومت پاکستان نے ملک کے تمام ایئرپورٹس سے معمول کی پروازیں 30 اپریل تک معطل کی ہوئی ہیں البتہ بیرون ممالک میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کو واپس لانے اور پاکستان سے غیرملکی باشندوں کو ان کے ممالک لے جانے کے لیے خصوصی پروازوں کا سلسلہ جاری ہے۔

قبل ازیں دس روز پہلے دو پروازیں پاکستان میں موجود سینکڑوں نارویجن پاکستانیوں کو ناروے لے جاچکی ہیں۔ یہ پاکستانی پچھلے چند ماہ کے دوران پاکستان آئے تھے اور اب واپس اپنے اہل عیال کے پاس ناروے جارہے ہیں۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی پرواز9 اپریل کو اسلام آباد سے اوسلو گئی اور اسی طرح سکینڈے نوین ایئرلائنز (ساس) کی پرواز11 اپریل کو اسلام آباد سے اوسلو پہنچی۔

9اپریل کو پی آئی اے کی پروازسے اوسلو پہنچنے والے نارویجن پاکستانیوں نے مہنگی ٹکٹ کے حوالے سے شکایات کی ہیں۔ شکایت کنندگان کا کہنا ہے کہ انتہائی مہنگا یکطرفہ ٹکٹ خرید کر وہ پاکستان سے واپس ناروے پہنچے ہیں۔ پی آئی اے سے اوسلو پہنچنے والے ایک مسافر نے بتایاکہ انہوں نے9اپریل کو دس ہزارنارویجن کراؤن (ڈیڑہ لاکھ سے زائد پاکستانی روپے) کی رقم دے کر اسلام آباد سے اوسلو تک کے لیے پی آئی اے کا انتہائی مہنگا یکطرفہ ٹکٹ حاصل کیا جو عام حالات سے ٹکٹ کی قیمت سے تین گنا زیادہ ہے۔

ان مسافروں کی طرف سےیہ شکایت بھی تھی کہ انہیں پہلے بتایا گیا کہ وہ پی آئی اے سے آن لائن ٹکٹ خرید سکتے ہیں لیکن بعد میں آن لائن ٹکٹیں پی آئی اے کی ویب سائیٹ سے غائب کردی گئیں اور بعد میں مسافروں کو پی آئی اے کے دفاتر اور پی آئی اے کے مقررہ ایجنٹس سے ٹکٹیں خریدنے کے لیے کہاگیا۔

اس کے علاوہ سکینڈے نیوین ایئرلائن (ساس) کی پرواز کے ذریعے اوسلو پہنچنے والے مسافروں نے بتایاکہ انہوں نے ساس کی ٹکٹیں آن لائن خریدیں اور یہ ٹکٹیں پی آئی اے کی نسبت بہت سستی تھیں۔ ایک مسافر کے بقول اسلام آباد سے اوسلو کے لیے ساس ایئرلائنز کی ایک یکطرفہ ٹکٹ چارہزار سات سو ڈینش کراؤن (تقریباً ایک لاکھ دس ہزار روپے) میں فروخت ہوئی۔

اس وقت بھی بہت سے نارویجن پاکستانی پاکستان میں مجبوراً رکے ہوئے ہیں جن کی معمول کی پروازیں کرونا بحران کے باعث معطل ہوگئی تھیں۔ ان کے علاوہ بہت سے پاکستانی ناروے میں بھی ہیں جو اپنے عزیزوں کے پاس پاکستان آنا چاہتے ہیں۔

اب پی آئی اے کے سربراہ کی طرف سے زیادہ کرایوں پر نوٹس لینے کے بعد اُمید کی جارہی ہے کہ پی آئی اے حکام خصوصی پروازوں کے ٹکٹوں کی قیمت کم کردیں گے۔

واضح رہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران پی آئی اے کی خصوصی پروازوں میں اضافی کرائے کے معاملہ پر پی آئی اے کے سی ای او ائیرمارشل ارشد ملک نے گزشتہ روز نوٹس لیتے ہوئے کرائے فوری کم کرنے کا حکم دیا ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید