سپر پاور کی بےبسی
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بےشک، اللہ کی لاٹھی بےآواز ہے۔ دنیا کے جن ملکوں نے خود کو انتہائی طاقتور سمجھ کر قدرت سے لڑائی لے رکھی تھی کورونا وائرس کے پھیلاؤ نے ان سب کی بےبسی دنیا کے سامنے عیاں کردی۔ کوئی ملک کتنی ہی ٹیکنالوجی حاصل کر لے، کتنے ہی خطرناک، خوفناک تباہی پھیلانے والے ہتھیار تیار کر لے، وہ دنیا میں اپنے دشمنوں پر تو رعب ڈال سکتا ہے لیکن اللہ سے نہیں لڑ سکتا۔ قدرت نے ایک جرثومہ کے سامنے انسان کی ساری طاقت اور ٹیکنالوجی کو زیرو کردیا۔ سمجھنے والوں کے لئے اس میں بہت بڑا سبق ہے اور نہ سمجھنے والوں کو اللہ ہدایت دے۔ خود امریکہ کے سابق صدر جارج بش جونیئر کے دورِ صدارت کے آخری ادوار کی ایک پرانی وڈیو منظر عام پر آگئی ہے جس میں امریکی صدر نے دنیا کو خبردار کیا تھا کہ ایک وقت آئے گا بائیو لوجیکل اور اور بڑے پیمانے پر انفلوئنزا کی بیماری کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔ اگر آج سے اس پر کام شروع نہ کیا تو آنے والے دنوں میں بہت ہلاکتیں ہوں گی۔ آج پندرہ سال بعد امریکہ کے سابق صدر کی بات سچ ثابت ہو رہی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ نہ امریکہ کی اسٹیبلشمنٹ اور نہ وہاں کی حکومتوں نے اپنے سابق صدر کی بات پر کوئی دھیان دیا نہ دیگر عالمی طاقتوں نے اس بات کو سنجیدگی سے لیا۔ دنیا کی تمام سپر طاقتیں بدقسمتی سے صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے کے بجائے دنیا میں جنگیں لڑنے اور جنگی سازو سامان اور ہتھیاروں کی تیاری اور فروخت میں مصروف رہیں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج پوری دنیا لاک ڈاؤن ہونے کے باوجود کورونا وائرس کے پنجوں میں بری طرح پھنس چکی ہے اور سماجی فاصلے رکھنے اور خود کو محدود جگہ پر پابند رکھنے کے سوا دنیا کے بڑے بڑے دماغوں کے پاس اس وبا سے نمٹنے کا کوئی چارہ نظر نہیں آتا۔ یہ وقت ہے کہ سیکورٹی کونسل کے پانچ مستقل ارکان امریکہ، روس، فرانس۔ چین اور برطانیہ کو اجلاس بلا کر دنیا میں انصاف کی جانب اقدام اٹھانا چاہیے۔ جہاں جہاں تنازعات موجود ہیں ان کو انصاف کی بنیاد پر طاقت کے بجائے مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر حل کرنا چاہیے کیونکہ اب جنگوں کا زمانہ چلا گیا۔ دنیا میں اتنی سکت نہیں رہی کہ وہ لڑے۔ دنیا بھر کے ملکوں کو یہ سوچنا ہوگا کہ وہ کورونا جیسی وباؤں سے لڑیں گے یا آپس میں۔ دنیا میں لاک ڈاؤن آج ہوا ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں لگ بھگ دس ماہ سے لاک ڈاؤن ہے۔ سال کے 365دن ہوتے ہیں اور بھارت میں مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم کہ جو پہاڑ توڑے ہیں ان کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ مودی دنیا کا بدترین حکمران ثابت ہوا ہے اور انتہائی شرمناک بات ہے کہ پوری دنیا جب کورونا سے لڑ رہی ہے ان حالات میں بھی مودی سرکار کنٹرول لائن پر کشیدگی بڑھا رہی ہے۔ پاکستان نے فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے پر بھارتی ڈرون طیارہ مار گرایا۔ ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف پابندیاں لگانے والے ملک اور وہاں کے حکمران کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا شدہ صورتحال کے سامنے گھٹنے ٹیک چکے ہیں اور اللہ کو یاد کرنے لگے ہیں اور مسلمانوں سے اللہ کے حضور دعائیں کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔ اسپین جہاں اذان دینے پر پابندی تھی وہاں اذان شروع ہو گئی ہے۔ چینی صدر مسلمانوں کی مسجد میں پہنچ گئے ہیں۔ اس بےبسی کی صورتحال میں صرف اللہ تعالی کی ذات ہے جو ہمیں بچا سکتی ہے، ہمیں دعائے توبہ کرنی چاہیے، گڑگڑا کر دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس موذی مرض سے اپنی مخلوق کو بچا لے۔

ان تمام ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل عملے کے افراد کو شاباش ہے جو کورو نا سے پیدا شدہ صورت حال سے نبرد آزما ہیں اور متاثرہ مریضوں کی دیکھ بھال کر رہے ہیں اور اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر اپنا فرض نبھا رہے ہیں۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ پاکستان میں ہم کورونا کو اسی وقت شکست دے سکتے ہیں جب 22کروڑ عوام خود یہ جنگ جیتنے کے لیے تیار ہوں اور خود کو اس بیماری سے محفوظ رکھنے اور اس وائرس کو زیرو کرنے کا عزم کر لیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہجوم نہ لگائیں، کسی ایسی جگہ پر مت جائیں جہاں ہجوم کا خدشہ ہو۔ حدِ ممکن تک خود کو سماجی فاصلے پر رکھ کر اس وائرس سے بچائیں، جس قدر ممکن ہو سکے گھروں پر رہیں اور غیرضروری طور پر باہر مت نکلیں۔ ہاتھوں کو بار بار دھوئیں۔ انتہائی اور غیرمعمولی صورتحال میں باہر نکلنا پڑے تو ہاتھوں پر دستانے پہنیں۔ وہ تمام احتیاطی تدابیر اختیار کریں جو حکومت اور ڈاکٹروں کی جانب سے انہیں بتائی جارہی ہیں اور اس سلسلے میں کسی قسم کی لاپروائی اور غفلت نہ برتیں۔ اس وقت ملک میں جو صورتحال ہے اس میں ہر شخص کے لیے خود کو بچانا ہی ملک کو بچانے کے مترادف ہوگا۔ حکومت نے لاک ڈاون کے حوالے سے جو مشکل فیصلے کیے ہیں وہ وقت کی ضرورت تھے، عوام کو چاہیے کہ حکومتی اقدامات اور فیصلوں پر عمل کریں اور حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ راشن کی تقسیم اور راشن کے حصول کے وقت ہجوم نہ لگائیں اور تمام احتیاطی تدابیر کا پورا خیال رکھیں۔ دنیا بھر میں ایک لاکھ افراد اس موذی مرض کی وجہ سے موت کے منہ میں جا چکے ہیں جبکہ لاکھوں افراد اس مرض سے متاثر ہو چکے ہیں۔ بڑی تعداد میں لوگ صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔ پاکستان میں بھی مریضوں کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی تھی اگر لاک ڈاؤن نہ کیا جاتا اور پابندیاں نہ لگائی جاتیں۔ خطرہ ابھی ختم نہیں ہوا، اگر ذرا سی غفلت لاپروائی برتی گئی تو اب تک کی جانے والی ساری محنت پر پانی پھر سکتا ہے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ماہرین کی ہدایات اور حکومتی اقدامات کو سمجھا جائے اور حکومت کے ساتھ تعاون کیا جائے۔

تازہ ترین