آپ آف لائن ہیں
منگل 15؍ذیقعد 1441ھ 7؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ترکش جہاز نے آسمان پر دنیا کا سب سے بڑا قومی پرچم بنادیا


ترکی کی قومی خودمختاری اور بچوں کے دن کو منانے کے لیے ترکش ایئر لائن کی خصوصی پرواز نے انقرا کی فضائی حدود میں پرواز کرکے آسمان پر دنیا کا سب سے بڑا قومی پرچم ڈرائنگ کیا۔

کورونا وائرس لاک ڈاؤن کی وجہ سے ترکش ایئر لائنز نے اس اہم موقع کو اُجاگر کرنے کے لیے گزشتہ روز یہ خصوصی مشن پورا کرنے کے لیے لگ بھگ دو گھنٹے 38 منٹ کی ٹیکنیکی پرواز کی۔

ترکش میڈیا کے مطابق ترکی کو گرینڈ نیشنل اسمبلی بننے کے 100 سال بعد یہ موقع ملا اور روز اس ملک نے خود کو ایک خودمختار قوم قرار دیا تھا۔ یہ دن پوری دنیا کے بچوں کے لیے بھی منایا جاتا ہے۔ اس روز ترکی میں قومی تعطیل کی جاتی ہے اور اس دن عام طور پر پریڈ اور دیگر رنگا رنگ تقریبات شامل ہوتی ہیں تاہم کورونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے لگ بھگ پوری دنیا میں لاک ڈاون ہے۔

اس صورتحال نے سب کو گھر پر رہنے اور اجتماعات سے اجتناب کرنے پر مجبور کردیا ہے۔

ترکش ایئر لائنز نے اس موقع کو خصوصی انداز میں منانے کے موقع کا فائدہ اُٹھایا اور ہر ایک شہری کو محفوظ کیے جانے کو بھی یقینی بنایا۔ اس اہم مشن کے لیے انقرہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو چنا گیا اور ترکش ایئر کی خصوصی پرواز ٹی کے 1920 مقامی وقت کے مطابق صبح 9 بج کر 39 منٹ پر انقرہ ایئرپورٹ سے ترکی کے نیشنل فلیگ کے لیے ڈرا کی گئی لائن پر روانہ ہوئی اور دو گھنٹے 38 منٹ بعد 12:17 بجے ٹیکنیکی طور پر کھینچی گئی فلیٹ کی لائن پر پرواز کرتے ہوئے انقرہ ائرپورٹ پر ہی اُتری۔

ترکی کے قومی پرچم میں شامل چاند کو ڈرائنگ کرتے ہوئے پرواز نے زیادہ سے زیادہ 26 ہزار فٹ کی بلندی پر 400 سے 490 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کیا تاہم ستارہ بنانے کے دوران ماہر پائلٹ نے جہاز کو 14 ہزار فٹ کے آس پاس کی بلندی پر رکھا اور اس دوران طیارے کی رفتار ڈھائی سو سے 180 کلومیٹر فی گھنٹہ کے درمیان رہی۔

اس خصوصی فلائٹ نے انقرہ کے قریبی شہروں اکسرے، پولاٹلی، سنکیری، سورگن، سائیرالان، بوگازلیان اور گولباسی کے اوپر پرواز کی۔ ترک نیشنل فلیگ بنانے کے اس مشکل اور انتہائی خوبصورت منظر کو ایئرلائن نے ٹریکنگ کے ذریعہ خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے۔ 

خاص رپورٹ سے مزید