آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

چینی آٹا اسکینڈل رپورٹ آنے کے بعد تبدیلی کی جو لہر شروع ہوئی ہے وہ رکی نہیں۔ اب کپتان نے اپنی میڈیا ٹیم میں تبدیلیاں کی ہیں، نہایت جانفشانی سے حکومت کا جائز ناجائز دفاع کرنا اور اپوزیشن کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنانے کے باوجود ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو معاونِ خصوصی برائے اطلاعات کے عہدے سے آناً فاناً ہٹا دیا گیا۔ ایک سال تک اطلاعات کے شعبہ کو اپنے خون پسینےسے سنوارنے کے باوجود ان کا جانا ٹھہر گیا۔ دراصل وزیراعظم اپنی سیماب صفت طبیعت کی وجہ سے اپنے میڈیا کھلاڑیوں کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔ میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے انہوں نے ندیم افضل چن، ڈاکٹر شہباز گل ماضی میں مرحوم نعیم الحق اور یوسف بیگ مرزا کی خدمات سے استفادہ کیا اور کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے اگرچہ اپنے تجربہ اور قابلیت کی بنیادوں پر بہترین کارکردگی دکھانےکی بھرپور کوشش کی مگر وزیراعظم عمران خان نے آخر ان کی چھٹی کروا دی اور ان کی جگہ سابق ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کو اپنا معاونِ خصوصی برائے اطلاعات مقرر کر لیا۔ وزیر اطلاعات کے لیے ان کی نگاہِ انتخاب ایک سنجیدہ پارلیمنٹرین اور سینیٹ میں قائدِ ایوان شبلی فراز پر پڑی ہے۔ انہوں نے وزیر اطلاعات کی حیثیت سے حلف اٹھانے کے بعد اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ عاصم سلیم باجوہ کو میڈیا ہینڈلنگ کا وسیع تجربہ ہے۔ جنرل راحیل شریف کے دور میں انہوں نے اپنے فرائض نہایت جانفشانی سے سر انجام دیے۔ میڈیا کو ہر طرح سے بریف کیا اور اپنا نقطہ نظر موثر انداز میں پیش کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ اب سویلین سیٹ اپ میں ان کی کارکردگی کیا ہوگی یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا مگر امید رکھنی چاہیے کہ اب وزیراعظم کی میڈیا پالیسی میں ڈسپلن پیدا ہو جائے گا۔ شبلی فراز کا تعلق چونکہ ملک کی نامور ادبی فیملی سے ہے اور ان کی سنجیدہ شخصیت کے طور پر پہچان میڈیا پالیسی کو ایک نئی جہت سے روشناس کروائے گی مگر ان تمام خوش فہمیوں کا تعلق پالیسیوں کو منظم انداز میں نافذ کرنے سے ہے۔

تحریک انصاف کی موجودہ حکومت نے اپنے قلیل مدت کے دور میں جتنی تیزی سے عہدوں پر اکھاڑ پچھاڑ کی ہے اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ کسی بھی ذمہ دار شخصیت کو اس کے محکمے میں پالیسی نافذ کرنے اور اس کے نتائج حاصل کرنے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے مگر اس حکومت نے جتنی تیزی سے پنجاب میں چیف سیکرٹریز، آئی جی اور دیگر افسران کو تبدیل کیا اس میں تو صرف یہ نظر آتا ہے کہ پنجاب میں صرف وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے علاوہ ہر ایک کو تبدیل کیا گیا۔ جسے تبدیل کرنا چاہئے تھا اس کو تبدیل نہیں کیا گیا، بات ہو رہی تھی میڈیا ٹیم کی تبدیلی کی۔ محکمہ اطلاعات و نشریات کو بہت عرصہ بعد ایک سنجیدہ اور باوقار شخصیت نے سربراہ کے طور پر سنبھالا ہے اور شبلی فراز کا ادبی پسِ منظر میڈیا شخصیات کے ساتھ تعلقات محکمے کے وقار میں اضافے کا سبب بنیں گے۔ تحریک انصاف کا بانی رکن ہونے کی حیثیت سے پارٹی میں بھی انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ لہٰذا حکومتی میڈیا پالیسی ماضی سے بہت بہتر ہونے کی توقع ہے۔

عاصم سلیم باجوہ اور شبلی فراز کا کمبی نیشن ڈسپلن اور ادب کا بہترین امتزاج ہے۔ ماضی میں عوامی اسٹائل میں حکومتی دفاعی پالیسی کو عوامی حلقوں میں خصوصاً اپوزیشن کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے میں رکاوٹ سمجھا جاتا تھا۔ جس بھونڈے انداز میں الفاظ کا اظہار کیا جاتا تھا، اس سے حکومتی نیک نامی میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا تھا بلکہ عوامی حلقوں میں ناپسند کیا جاتا تھا۔ میڈیا کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ عمران خان سب سے زیادہ اسے اہمیت دیتے ہیں جس کے لیے انہوں نے بہترین افراد کا ہمیشہ انتخاب کیا مگر پالیسیوں کے نتائج آنے سے قبل ہی افراد کا ان عہدوں سے ہٹا دینا ثمرات کو ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ نئے آنے والوں کو کام کرنے، پالیسی وضع کرنے اور اس کو لاگو کرنے کا پورا وقت دیا جائے گا اور ان کی صلاحیتوں سے بھر پور استفادہ کیا جائے گا۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)