آپ آف لائن ہیں
پیر 9؍ شوال المکرم 1441ھ یکم جون 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

سرطان ایک ایسی مہلک بیماری ہے، جس میں جسم کےکسی بھی حصّےمیں خلیات کی غیرمعمولی، نقصان دہ اور بے ترتیب افزایش ہونے لگتی ہے،یہاں تک کہ یہ اضافی خلیے مہاسے، رسولی یا گلٹی جیسی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ سرطان بننے کی اہم وجہ خلیات میں موجود ڈی این اے ہے،جو قدرتی طور پر تبدیل ہوکر خلیات کو مسلسل اور غیرمعمولی طریقے سے تقسیم کرتا رہتا ہے۔ اس تبدیلی کو طبّی اصطلاح میں میوٹیشن (Mutation) کہتے ہیں۔ یعنی ایک سے دو، دو سے چار، چار سے آٹھ۔ اور اسی ترتیب سے مسلسل غیر ضروری خلیات کی افزیش کا سلسلہ جاری رہتاہے۔ ڈی این اے میں اس تبدیلی کی کئی وجوہ ہو سکتی ہیں۔ 

مثلاً تمباکو نوشی،الکحل، چھالیا، گٹکے کا استعمال، بہت زیادہ دھوپ میں رہنا،تیز گرم چائے یا قہوہ پینا، کینڈ فوڈز یا فروزن فوڈز اور کیمیکل مِلی اشیاء یعنی Preservatives کا استعمال وغیرہ۔عمومی طور پر مدافعتی نظام ایک مربوط طریقے سےجسم میں داخل ہونے والے جراثیم ختم کردیتا ہے،لیکن سرطان کے خلیات جسم کے اپنے ہی خلیوں سے مل کربنتے ہیں،اسی لیے امیون سسٹم ان خلیات کو پہچان نہیں پاتا اور یوں وہ جسم میں نشوونما پانےلگتے ہیں۔ سرطان کسی بھی عُمر کے فرد کو لاحق ہوسکتا ہے۔ 

اس کی عام علامات میں رسولی بننا، درد اوروزن میں کمی وغیرہ شامل ہیں،جب کہ یہ جسم کے جس حصّے میں ظاہرہو،اُس عضو سے متعلقہ علامات بھی ظاہرکرتا ہے۔ مثلاً اگرکھانے کی نالی کا سرطان ہوتو کچھ بھی کھانےپینے کی صُورت میں دشواری محسوس ہوتی ہے۔ اِسی طرح پھیپھڑوں کے سرطان میں کھانسی یا سانس لینے میں تکلیف ، خون کے سرطان میں جسم پر نیل یا دھبّےپڑنا یا کسی جگہ سے غیرمعمولی خون خارج ہونا، تھکن اور بخاروغیرہ شامل ہیں۔

سرطان کو دو اقسام میں منقسم کیا جاتاہے۔ ایک قسم بینائن (Benign) اور دوسری میلیگنینٹ (Malignant) کہلاتی ہے۔ بینائن سرطان کی افزایش ایک خاص مدّت کے بعد رُک جاتی ہے اور یہ جسم کے دیگر حصّوں تک نہیں پھیلتا۔البتہ بعض بینائن سرطان بھی خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔مثلاًSchwannoma یعنی نسوں کا سرطان۔ میلیگنینٹ ٹیومرزخطرناک ہونے کے ساتھ مسلسل بڑھنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔یہ جسم کےکسی بھی حصّےمیں پھیل سکتے ہیں۔ 

سرطان کے ایک سے دوسری جگہ پھیلنے کے عمل کو طبّی اصطلاح میں میٹاسٹیسس (Metastasis) کہتے ہیں۔ یہ یونانی لفظ ہے،جس کا مطلب ہجرت کرنا ہے۔ سرطان جسم کے جس حصّےمیں نشوونما پاتا ہے، اُسے پرائمری ٹیومر (Primary Tumor) سے موسوم کیا جاتا ہے۔مثال کے طور پر بریسٹ کینسر اپنی جگہ سے جسم کے کسی بھی حصّے میں داخل ہوجائے،مگرپرائمری ٹیومر وہی کہلائے گا، جہاں سے پھیلا ہو۔جسم میں سرطان پھیلنے کے کئی ذرائع ہوسکتے ہیں۔جیسے ایک بنیادی ذریعہ شریانیں ہیں۔ 

خواہ وہ صاف خون کی شریانیں ہوں، جن میں "Oxgyenated" خون پایا جاتا ہے یا پھر گندے خون کی شریانیں جن میں "Deoxygenated" خون ہوتا ہے۔مثال کے طور پر اگر بڑی آنت کا سرطان لاحق ہوتو یہ سب سے پہلے جگر میں پھیلتاہے، کیوں کہ اس آنت میں سے ایک خون کی نالی، جگر کی خون کی نالی میں نکاس کرتی ہے،جس کے ذریعے سرطان جگر تک رسائی حاصل کرلیتا ہے۔سرطان پھیلنے کا ایک اور ذریعہ لمفاٹکس (Lymphatics) ہیں۔ لمفاٹکس دراصل جسم کی وہ نالیاں ہیں، جن میں پانی جیسا مواد پایا جاتا ہے، جسے لمف (Lymph) بھی کہتے ہیں۔ان لمفس کا کام جسم کی پروٹین اور اُس مواد کو جو خلیات کے درمیان پایا جائے، خون کی نالیوں تک پہنچانا ہے۔یہ لمفس جسم میں موجود غدود سے ہوکرخون میں شامل ہوتے ہیں اور ان غدود کو لمف نوڈ (Lymph Node) کہا جاتا ہے۔

یہ غدود جسم میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر پائے جاتے ہیں اور ایک سپاہی کا کام انجام دیتے ہیں۔یعنی اگر لمف میں کوئی جراثیم موجود ہو، تو ان غدود میں موجود وائٹ بلڈ سیلز انہیں ہلاک کرنے میں مددگارثابت ہوتے ہیں۔واضح رہے کہ سرطان جسم کے جس بھی حصّے میں ظاہر ہو ،سب سے پہلے وہاں کے غدود کا حجم بڑھنے لگتا ہے،جو بڑھتے بڑھتے ایک گلٹی جیسی شکل اختیار کرلیتاہے۔ چوں کہ سرطان کے خلیات، لمفاٹکس کے ذریعے جسم میں پھیلنا شروع ہوتے ہیں،چناںچہ جب یہ غدود میں داخل ہوتے ہیں،تو وہاں بھی ان کی افزیش شروع ہوجاتی ہے اور اسے بھی ایک گلٹی جیسی شکل دے دیتے ہیں۔ سرطان کے پھیلاؤ کا تیسرا ذریعہ یہ ہوسکتا ہے کہ سرطان خودحجم میں بڑھتے بڑھتے اس حد تک پھیل جائے کہ دوسرے عضو میں داخل ہوکر اُسے بھی متاثرکردے۔ جیسا کہ پتّے کا سرطان بڑھتے بڑھتے جگر میں داخل ہوکر اسے بھی متاثر کردیتا ہے۔ اس کے علاوہ سرطان کے خلیات، رگوں کے ذریعے (Perineural Invasion) بھی جسم میں پھیل سکتے ہیں۔

کسی بھی طرح کےسرطان کی حتمی تشخیص کے لیے بائیوآپسی ناگزیر ہے۔بائیوآپسی کے کئی طریقے مستعمل ہیں ۔ایک طریقۂ کارمیںمتاثرہ جگہ کو سُن کرکے چھوٹا سا ٹشونکال کر مائیکرو اسکوپ کے ذریعےجانچا جاتا ہے ۔ یہ عمل پندرہ سے بیس منٹ میںمکمل ہوجاتا ہے اورمریض کو اسپتال میں داخل کروانے کی بھی ضرورت پیش نہیں آتی۔بعض اوقات سرطان کے نزدیک موجود غدود میں ایک چیرا لگا کے پوری گلٹی نکال کر جانچ لی جاتی ہے۔ اس طریقۂ کار کو Excisional Biopsyکہتے ہیں۔ دوسرا طریقہ پنچ آئوٹ (Punch Out) ہے،جو ایک خاص قسم کی سوئی ٹرو کٹ کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

پنچ آؤٹ بائیوآپسی میں بھی ٹشو کا ایک چھوٹا سا حصّہ نکالا جاتا ہے۔اس طرح کی بائیوآپسی لوکل اینستھیزیا کے ذریعے اسپتال میں داخل کیے بغیر بھی کی جاسکتی ہے اور اسپتال میں داخل ہوکربھی ۔اور بعض اوقات مریض کو مکمل بے ہوش کرنے کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔تاہم، یہ فیصلہ ایک سرجن ہی کرسکتا ہے کہ مریض کے لیے کیا بہتر رہے گا۔اگر سرطان کھانے کی نالی ، میدے یا آنتوں کا ہوتو اینڈواسکوپی کے ذریعے بائیوآپسی کی جاتی ہے۔اسی طرح فائن نیڈل اسپیرشن سائٹولوجی (Fine needle aspiration cytology) میں متاثرہ جگہ پر باریک سوئی ڈال کر اندر سے مواد نکالاجاتا ہے، جو عموماً تھائی رائیڈ کے کینسر میں مستعمل ہے۔

ہر طرح کی بائیوآپسی سے لیے گئے ٹشو کی مدد سے عموماًپیتھالوجسٹس یہ جانچتے ہیں کہ سرطان کی قسم(بینائن ہے یامیلیگنینٹ) ، نوعیت اوراصل مقام کیا ہے اور یہ جسم میں کہاں تک پھیل چُکا ہے۔یہی وجہ ہے کہ بائیوآپسی رپورٹ مرتّب ہونے میں سات سے بارہ دِن لگتے ہیں۔ بائیوآپسی کے ذریعے اس بات کی بھی حتمی تشخیص ہوجاتی ہے کہ آیا یہ سرطان ہی ہے یا کوئی بینائن ٹیومر۔آنکولوجسٹس بائیوآپسی کی رپورٹ کےبعد ہی علاج کا طریقۂ کار تجویز کرتے ہیں کہ آیامریض کا علاج سرجری، کیموتھراپی یا پھرشعاؤں کے ذریعےکیا جائےیا پھردونوں طریقےاپنائے جائیں۔ یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ سرطان کےعلاج میں بائیوآپسی بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں یہ تصوّر عام ہے کہ بائیوآپسی کے بعد سرطان تیزی سے جسم میں پھیل جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سرطان کے خلیات بہت ڈھیلے طریقے سےآپس میں جڑے ہوتے ہیں،جو ذرا سا بھی چھیڑنےپر پھیل سکتے ہیں، لیکن اس کے امکانات بہت ہی کم پائے جاتے ہیں، کیوں کہ محققین کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بائیوآپسی میں سرطان پھیلنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ 2014ء میں راجہ راجیشوری ڈینٹل کالج اینڈ اسپتال،بھارت کےمحققین نے بائیوآپسی کے ذریعے پھیلنے والے کینسر سیل بوائی(seeding) سے متعلق 1983ء تا 2012ء تک کے کیسز پر تحقیق کے بعدیہ نتیجہ اخذ کیا کہ بائیوآپسی کے ذریعے سرطان پھیلنے کاخطرہ دو عوامل پر منحصر ہوتاہے۔

پہلا یہ کہ سرطان کی چند بہت ہی خاص اقسام میں پھیلنے کا امکان پایا جاتا ہےاور دوسرابائیوآپسی کے طریقے پر منحصرہے۔بہرحال،زیادہ تر کیسز میںسرطان کی علامات جسم میں پھیلنے کے بعد ہی ظاہر ہوتی ہیں۔ بعض اوقات بائیوآپسی کروانے کے بعد رپورٹ کے ذریعےپتا چلتا ہے کہ کینسر اُس جگہ کا نہیں ، جہاں کا ٹشو لیا گیا تھا، بلکہ یہ جسم کے کسی اور عضو سے پھیل کر یہاں تک آیا ہے۔ہمارے یہاں اکثر مریض بائیوآپسی کروانے میں اس قدرتاخیر کردیتے ہیں کہ اس دوران سرطان پورے جسم میں پھیل جاتا ہے اور جب بائیوآپسی کروائی جاتی ہے، تب تک جسم کے دوسرے حصّوں میں علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔تب یہی سمجھا جاتا ہے کہ بائیوآپسی کے بعد سرطان پھیلا ہے۔دُنیا بَھرمیں کی جانے والی تحقیقات میں یہ ثابت ہوچُکاہےکہ سرطان، بائیوآپسی کے ذریعےہرگزنہیں پھیلتا ۔ 

جانس ہاپکنز اسپتال میں پیتھالوجی، یورو لوجی اور انکولوجی کے پروفیسر اور سرجیکل پیتھالوجی کے ڈائریکٹر ،ڈاکٹر جوناتھن ایپ اسٹائن کے مطابق سرطان کی اکثر اقسام میں بائیوآپسی کسی بھی طرح پھیلائو کا سبب نہیں بنتی ۔ جنوری 2015ء میں، جیکسن ولی، فلوریڈا کے محققین کی ایک تحقیق کے مطابق جن مریضوں کی بائیوآپسی کی گئی، اُن کے علاج سے بہتر نتائج حاصل ہوئے اور وہ طویل عرصے تک زندہ رہے ،بہ نسبت ان مریضوں کے، جن کی بائیوآپسی نہیں ہوئی تھی۔ چناں چہ یہ کہنا غلط ہےکہ بائیوآپسی کروانےسے سرطان پھیل سکتا ہے۔

دُنیا بَھرکے تمام ڈاکٹرز کے لیے بائیوآپسی کے بغیر سرطان کے مریض کا علاج کرنا خاصا مشکل ہوتاہے،مگر افسوس کہ زیادہ تر افرادیہ بات نہیں سمجھتے ۔یاد رکھیے، یہ سوچنے میں ضایع کیا جاتا ہے کہ آیا بائیوآپسی کروائی جائے یا نہیں، سرطان کو بڑھنے کے لیے اتنا ہی موقع مل جاتا ہے۔ علاوہ ازیں،سرطان کے علاج میں بھی تاخیر نہ جائے ،کیوں کہ سرطان مسلسل بڑھتا رہتا ہے اور جتنا زیادہ بڑھے گا، اُتنا ہی اس کا علاج مشکل ہو جائے گا،لہٰذا اگر معالج کی ہدایت کے مطابق بروقت بائیوآپسی کروالی جائے، تو علاج جلد شروع ہونے کے نتیجے میں مرض سے مکمل نجات بھی مل سکتی ہےکہ سرطان لاعلاج مرض نہیں، بشرطیکہ بروقت تشخیص ہوجائے۔

(مضمون نگار،ضیاء الدین یونی ورسٹی اسپتال کے شعبہ انکولوجی سے منسلک ہیں)

سنڈے میگزین سے مزید