آپ آف لائن ہیں
بدھ21؍ذی الحج1441ھ12؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کمزوری اور بیماری کے باعث کسی دوسرے کو روزہ رکھوانا

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال :۔ اگر کوئی شخص کمزور یا بیمار ہو اور وہ روزہ رکھنے سے نقاہت محسوس کرے تو کیا وہ کسی دوسرے کو سحری اور اِفطاری کا سامان دے کر روزہ رکھواسکتا ہے؟ کیا اس طرح اس کے روزے کا کفارہ ادا ہو جائے گا؟(محمد طارق)

جواب:موطّا امام مالک میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کا فتویٰ مذکور ہے کہ کوئی کسی کی طرف سے نہ نماز پڑھے اور نہ روزہ رکھے ،حضرت عائشہؓ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلادیا کرے۔ ان شرعی ہدایات کی روشنی میں اصول یہ مقرر ہے کہ بدنی عبادت میں نیابت جائز نہیں،یعنی کوئی شخص کسی دوسرے کی جگہ بدنی عبادت ادا نہیں کرسکتا۔

روزہ چوںکہ بدنی عبادت ہے، اس لیے کوئی شخص دوسرے سے اپنے لیے روزہ نہیں رکھواسکتا۔ اگر کوئی خود ایسا بیمار یا کمزور ہے کہ روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتا اورآئندہ بھی صحت سے ناامیدی ہے تو اسے روزوں کے بدلے فدیہ دے دینا چاہیے۔ اس فدیے کا مقصد بھی صدقے کی صورت میں غریب کی مالی اعانت ہے،اس سے روزہ رکھوانا نہیں۔