آپ آف لائن ہیں
ہفتہ19؍ذیقعد 1441ھ11؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کاوش صدیقی

مَیں، جسے دنیا کا سب سے واہیات کام سمجھتا تھا ،اُسی میں مبتلا ہو چُکا تھا، جب مَیںنے شارق کو بتایا تو اس نے ترحم بَھری نگاہوں سے مجھے دیکھتے ہوئے کہا’’ اچھا تو پھر تمہارا جنازہ پڑھنےکب آئوں؟‘‘’’ یار! تم کیسے دوست ہو ؟‘‘ مَیں نے غصّے سے کہا۔شارق ہنسا’’ مَیں امّاں (ہماری دادی )کو جانتا ہوں اور پھر تمہیں بھی زمانے بھر میں ایک یہی ملی تھی۔ سچ کہتے ہیں، بڑے بول کا سر نیچا ۔ مجھے تم نے کیسی جلی کٹی سنائی تھیں ،جب مَیں نے تمہیں اپنی محبّت کابتایا تھا؟‘‘ ’’ہاں یہ سچ ہے!‘‘مَیں نے سر جُھکا کے کہا۔’’ وہ محبت جو میرے نزدیک پہلےایک بے تکا اور بے ہودہ کام تھی ، اب میں خوداس میں مبتلا ہو چُکا ہوں اور وہ بھی جیسمین سے۔ بتاؤ اب مَیں کیا کروں؟‘‘’’اپنے مرحوم ہونے کا انتظار ‘‘ شارق نے بے ساختہ کہا۔وہ سچ کہہ رہا تھا ۔ میری دادی امّاں ،جن کو وہ اچھی طرح جانتا تھا ،ذات پات ، مذہب کی سخت قائل تھیں، انہیںا پنی اعلیٰ نسبی پر بڑا فخر تھا اور مَیںتیس برس کا اچھا بھلا ڈاکٹر ہونے کے باوجود ابھی تک کسی کی زلف کا اسیر نہیں ہوا تھا۔

خاندان ہی نہیں ،کالج میں بھی بے شمار دوست بنیں،مگر کبھی حد سے آگے بڑھنے کی کوشش نہیں کی ، کیوں کہ محبت میرے نزدیک محض بکواس تھی، مگر جب اس اسپتال آیا ، تواس ’’بکواس ‘‘میں خود کو مبتلا ہونے سے نہیں روک سکا۔ جیسمین کوئی حسین و جمیل پری ، اپسر ا یا حور نہیں تھی، مگر وہ مجھے پہلی ہی نظر میں اتنی اچھی لگی کہ میں خود پر قابو ہی نہیں رکھ پایا، بے اختیار ہی اُ س سے پوچھ بیٹھا کہ’’ آپ مجھ سے شادی کریں گی؟‘‘ مگر اس نےبڑےسکون و اطمینان سے انکار کردیا ’’جی نہیں!مَیں اپنی دنیا میں بہت خوش ہوں۔‘‘’’کیا مطلب؟‘‘ مَیں ہڑبڑا گیا’’کیا آپ شادی شدہ ہیں؟‘‘’’ یہ مَیں نے کب کہا؟مَیںاپنے والد کے ساتھ اپنی دنیا میں خوش ہوںاور انہیں تنہا نہیں چھوڑ سکتی۔‘‘اس نے جواب دیا اور کھٹ کھٹ کرتی چلی گئی ۔مَیں اپنا سا منہ لے کے رہ گیا۔اورمَیں نے جب یہ سب شارق کو بتایا تو وہ لوٹ پوٹ ہوگیا ’’بھول جائو اُسےاور اپنی امّی سے کہو کہ تمہارے لیے کوئی اچھی سی لڑکی ڈھونڈ لیں۔‘‘

سچّی بات تو یہ ہے کہ خود مجھے بھی معلوم نہیں تھا کہ آخر جیسمین مجھے اس شدّت سےکیوں پسند آ گئی ۔نہ کوئی وعدہ ،نہ قول و قرار ۔مَیں پھر بھی اس کا دیوانہ ہوا جا رہا تھا۔ امّی کو بتایا تو انہوں نے تو میری رہی سہی ہمّت بھی توڑ دی۔ ’’ اس گھر میں امّاں کا فیصلہ ہی حرفِ آخر ہوتا ہے۔ تم تو پوتے ہو ،انہوں نے تو اپنے خون کو اجازت نہیں دی تھی اپنی مَن مانی کرنے کی، کھڑے قدموں گھر سے نکال دیا تھا۔‘‘ ’’ کون …کس کو ؟ امّی! کس کا ذکر کر رہی ہیں آپ؟‘‘مَیں سخت حیران تھا۔’’ تمہارے چھوٹے تایا، فرحان بھائی کا۔

انہوں نے ایک انگریز میم پسند کر لی تھی اور اسی سے شادی بھی کی ، جب امّاں کو پتا چلا تو انہوں نے زمین آسمان ایک کر دیا اور فیصلہ سنا دیا کہ اگر اس گھر میں رہنا ہے ،تو اسے چھوڑنا ہو گا ۔‘‘ ’’پھر…‘‘ مَیں ہونق سا کھڑا تھا۔ ’’تمہارے چھوٹے تایا بھی ایک ہٹ دھرم تھے۔ کہہ دیا، امّاں جان! جس عورت نے اپناسب کچھ چھوڑ کر، اپنے سارے رشتے توڑ کر مجھ سے ناتا جوڑا ہے، مَیں اُسےکیسےچھوڑ سکتا ہوں؟اور امّاں جان نے بھی ان سےمنہ پھیرنے میںایک لمحہ نہیں لگایا۔فرحان بھائی کواُسی وقت گھر سے نکال دیااورہم سب کو بھی قسم دے دی کہ اگر کسی نے بھی ان سے کوئی رشتہ رکھا ،تو وہ امّاں کامَرا منہ دیکھےگا۔اور… اب تم چلے ہو وہی کہانی دُہرانے ۔‘‘امّی نے ایک رو میں سب کہہ ڈالااور مَیں خاموشی سے اُٹھ کر اپنے کمرے میں آ گیا۔

ذرا دیر بعد چھوٹی بہن ،سویرا کمرے میں آئی اور خوش ہو کے بتانے لگی۔’’ بھیا! رمضان کا چاندہو گیا ہے ،مبارک ہو!‘‘ ’’خیر مبارک!‘‘ مَیںنے جواب دیااور منہ دھونے غسل خانے چلا گیا۔باہر آیا تو سب امّاں کے کمرے میں انہیں سلام کرنے جمع تھے اور وہ مُسکرا مُسکرا کے سب کو خیر مبارک کے ساتھ دعائیں دے رہی تھیں۔ مَیں بھی سلام کر کے ایک طرف بیٹھ گیا۔ ’’ کیا بات ہے ارسلان !خیر تو ہے؟‘‘ انہوں نے میرا بجھا سا چہرہ دیکھ کر پوچھا۔ مَیں ان کاسب سے لاڈلاپوتا جو تھا۔’’لگتا ہے اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ۔‘‘ امّی نے جلدی سے بات سنبھالی ۔’’ کیا ہوا، میرے پاس آؤ ۔‘‘انہوں نے مجھے بلایا۔

وہ کسی بچّےکی ذرا سی بھی خراب طبیعت سے سخت پریشان ہو جاتی تھیں۔ امّاں سر تا پا محبّت، شفقت اور ممتاکی مورت تھیں۔مجھے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ وہ اتنی سخت دل بھی ہو سکتی ہیں کہ اپنے ہی بیٹے کویوں گھر سے نکال دیا کہ ان کا تذکرہ بھی جرم ٹھہرا۔ ’’ کیا ہوا …؟؟‘‘ انہوں نے میرا سر اپنی گود میں رکھ لیا۔’’ کچھ نہیں، بس ذراسر میں درد ہے ۔‘‘ مَیں نے کہا اور پتا نہیں کیوں بے ساختہ رو دیا۔’’ ارے اتنا بڑا ڈاکٹر ہو کر بچّوں کی طرح رو رہا ہے !‘‘ امّاں نے پیار سے پچکارا اور میرا سر سہلانے لگیں۔

رمضان کی گہما گہمی شروع ہو چکی تھی ۔ ایک دن امّاں نے مجھے بلایا اور بولیں’’ مَیں دیکھ رہی ہوں کہ آج کل تم کچھ پریشان سے رہتے ہو ،کیا بات ہے؟‘‘ ’’ کچھ نہیں آج کل ڈیوٹیز کچھ سخت ہیں، اس لیےتھکاوٹ ہو جاتی ہے۔‘‘مَیں نے دھیرے سے کہا۔’’ مَیں نے تمہارے لیے ایک لڑکی دیکھی ہے ۔تم تو اپنی کوئی پسند بتائو گے نہیں، اس لیے مَیں سوچ رہی ہوں کہ اب یہ کام ہو ہی جائے۔ تمہاری وجہ سے سویرا اور ریحان کا معاملہ بھی اٹکا ہوا ہے۔‘‘وہ گویا ہوئیں۔’’ جی… ؟‘‘ میں بھونچکا ساان کی شکل دیکھنے لگا۔’’ تمہیں کوئی ا عتراض ہے؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔مَیں چُپ رہا اوروہ بھی خاموش رہیں ،پھر اچانک بولیں۔’’ تم کسی کو پسند کرتے ہو؟‘‘ مَیں چُپ چاپ انہیں دیکھتا رہا۔’’ بتائو‘‘ انہوں نے اصرار کیا۔’’ جی مگر…! ‘‘مَیںنے کچھ کہنا چاہا، مگر وہ میری بات پر دھیان دیئے بغیر بولیں’’ اُسے مجھ سےملواؤ۔‘‘ مَیں نے امّی کی طرف دیکھا ، مگروہ خاموش رہیں۔ 

امّاں کے آگے کوئی کیا بولتا۔کمرے سے باہر آتے ہوئےاُن کی آواز آئی ۔ وہ کہہ رہی تھیں ’’ تاریخ خود کو دُہرا رہی ہے، مگر مَیں اس کو دُہرانے نہیں دوں گی۔‘‘ ’’ میری دادی تم سے ملنا چاہتی ہیں۔‘‘اگلے دن میں نے جیسمین سے کہا ۔ ’’ کیوں؟‘‘ ’’ تمہیں دیکھنا چاہتی ہیں ۔مَیں نے انہیں بتایا ہے کہ مَیں تمہیں پسند کرتا ہوں ۔‘‘’’ تو پھر اصولاً انہیں ہمارے گھر آنا چاہیے۔کون سی لڑکی خود کو پسند کروانے لڑکے کے گھر جاتی ہے؟‘‘ اس نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بڑے اعتماد سے کہا اور چلی گئی۔ رات کھانے کے بعد مَیںنے دادی کو ڈرتے ڈرتے جیسمین کا جواب بتایا، تو وہ خلافِ توقع اُس کے گھرچلنے کو تیار ہو گئیں۔

ہم دو دن بعد افطار کے بعد جیسمین کے گھر گئے۔ دو کمروں کے چھوٹے سے گھرکے آنگن میں جیسمین نے ہمارا استقبال کیا اور ایک کمرے میں بٹھایا۔امّی ، امّاں، سویرا ہم چاروں ساتھ تھے۔جیسمین نے بتایاکہ اس کے ابّو ابھی آرہےہیں ۔ امّاںاس کا بغورجائزہ لے رہی تھیں ،انہوں نے پوچھا۔’’ تمہاری امّی کہاں ہیں ؟‘‘ ’’ جب میں پانچ سال کی تھی ،تب ہی ان کا انتقال ہو گیا تھا، مجھے ابّو نے پالا ہے ۔‘‘ جیسمین نے آہستہ سے کہا۔

اُسی وقت باہر سے کسی کی آمد کی آہٹ گونجی اور ساتھ ہی کمرے کے دروازے سے ایک شخص بیساکھیوں کے سہارے آ کھڑا ہوا۔ ’’ابّو آگئے!‘‘ جیسمین نے کہا۔ امّاں اور امّی دونوں ہی بُت بنی انہیں دیکھ رہی تھیں۔ ’’فر… فر… حان!!‘‘ امّاں کے منہ سے بمشکل نکلا۔ ’’امّاں!!‘‘ وہ بیساکھیوں کے سہارے تیزی سے آگے بڑھے اورامّاں کھڑی ہو گئیں ۔’’ کہاں تھا تُواتنے برس… اپنی امّاں کو بے موت مار ڈالا تُو نے ‘‘۔انہوں نے فرحان تایا کوگلے لگا لیا۔ 

ہم سب حیرت سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ ’’ کوئی ایسے اپنی ماں سے منہ پھیرتا ہے، ایک بار تو کہتا مَیں کہیں نہیں جائوں گا۔ تجھے کیا پتا ماں کا دل کیا ہوتا ہے؟‘‘’’ امّاں مجھے معاف کر دیں۔‘‘ انہوں نے آہستہ سے کہا اور ا مّاں کے برابر صوفے پر بیٹھ گئے’’ جیسمین کی ماں کینسر کے باعث اس کے بچپن ہی میں انتقال کر گئی تھی۔ ایک حادثے میں میری ٹانگ بھی ضائع ہو گئی، تب گھر کا خرچ چلانے کے لیے میری بیٹی ہی کو زندگی کے منجدھار میں اترنا پڑا۔‘‘فرحان تایا چُپ ہو گئے۔ 

امّاں نے کہا ’’ مَیں نے برسوں پہلے جو تم سے زیادتی کی تھی ،آج اس کا ازالہ کرنا چاہتی ہوں ۔ تمہاری بیوی کو توقبول نہیں کیا تھا ،مگر تمہاری بیٹی مانگنے آئی ہوں۔‘‘’’ مَیں بھی آپ کا ہوں اور جیسمین بھی…‘‘ فرحان تایا نے آنسو بَھری مسکراہٹ سے کہااوربڑوں نے عید کے چاند ہمارا نکاح پکّا کر دیا۔ امّاں ،جیسمین اور فرحان تایا کو اپنے ساتھ ہی گھر لے آئیں ۔شاید پہلی بارہم نے امّاں کو عید کے دن کُھل کر ہنستے دیکھاتھا، ورنہ وہ ہم سب کو عیدی دینے کے بعد خود کو کمرے میں بند کر لیتی تھیں ،مگراس مرتبہ عید کے چاند نے بچھڑے ہوئوں ہی کو نہیں ملایا تھا ، بلکہ مجھے جیسمین کی صورت ایک بہترین شریکِ حیات کا تحفہ بھی دے دیا تھا۔