آپ آف لائن ہیں
جمعرات10؍ذیقعد 1441ھ2؍جولائی2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

لاک ڈاؤن کے دوران ویڈیو گیمز انڈسٹری عروج پر، اربوں ڈالر کی آمدنی

کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والے لاک ڈاؤن کے باعث کم از کم ایک انڈسٹری کو بہت فائدہ ہوا۔

 امریکا کے مارکیٹ ریسرچ گروپ،  نیشنل پرچیز ڈائری یا این پی ڈی کے مطابق  سہ ماہی تجزیہ میں یہ بات سامنے آئی کہ ویڈیو گیمز اسپینڈنگ بشمول گیمز کی سیل اور اس کی خرید و فروخت  اس برس کی پہلی سہ ماہی میں تاریخی بلندی پر پہنچی اور اس نے 10 اعشاریہ 86 ارب امریکی ڈالر کا کاروبار کیا۔

یہ آمدنی گزشتہ  سال کے اسی عرصے کے کاروبار سے دس فیصد زیادہ ہے۔ این پی ڈی کی اس رپورٹ کے مطابق اس آمدنی میں سے 9 اعشاریہ 5 ارب ڈالر تو براہ راست ویڈیو گیم کونٹینٹ کی خرید سے متعلق ہے۔

 ریسرچ فرم کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کے اقدامات کے باعث بلاشبہ سیلز میں بہت زیادہ اضافہ ہوا۔ این پی ڈی کے ریسرچ تجزیہ کار میٹ پسکٹیلا کے مطابق ویڈیو گیمز لوگوں کو ذہنی تفریح اور لاکھوں لوگوں سے جوڑے رکھتا ہے، اور اس چیلنجنگ ٹائم میں یہ ان کے لیے تفریح کا ذریعہ رہا ہے۔

 اسکی وجہ یہ ہے کہ لوگ گھروں میں بند ہوکر رہ گئے تھے، تو انہوں نے نہ صرف اس گیم کو اپنے ذہن کو کسی اور طرف مصروف رکھنے کے لیے استعمال کیا بلکہ دوستوں اور خاندانوں سے رابطے میں بھی رہے۔

 ویڈیو گیم سیل میں بالخصوص اینیمل کروسنگ، نیو ہوریزن کی سیل بہت زیادہ رہی۔ جبکہ حال ہی میں متعارف ننٹینڈوز سوئچ، کمپنی کا سب سے زیادہ فروخت ہونے والا گیم رہا، اور گزشتہ ماہ تو اس کی فروخت سال بہ سال فروخت کے لحاظ سے دگنی رہی۔

خاص رپورٹ سے مزید