آپ آف لائن ہیں
جمعرات13؍ صفر المظفّر 1442ھ یکم اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ملائیشیا... تیزی سے ترقی کرتا، رنگا رنگ تہذیب و ثقافت کا حامل ملک

دنیا کے کئی ممالک کی سیّاحت کےبعد،اس بار ہم نے جنوب مشرقی ایشیامیں واقع مسلم ملک ،ملائیشیا کی سیّاحت کا قصد کیا۔ کثیر النسلی اور کثیر الثقافتی سماج کے حامل اس ملک میں 1971ء میں مقامی ثقافت کی بنیاد پر ’’قومی ثقافتی پالیسی‘‘ تشکیل دی گئی، جس میں اسلامی ثقافت کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔ یہاں اگرچہ وفاقی آئینی، اختیاری شہنشاہیت قائم ہے، تاہم برطانوی طرز پر پارلیمانی نظام بھی رائج ہے، جس میں بادشاہ ریاست کا سربراہ، جب کہ وزیراعظم حکومت کا سربراہ ہوتا ہے۔ملک کی معیشت تیزی سے ترقی کرتی اور نسبتاً کُھلی ریاستی پالیسی پر مبنی ہے۔ سرکاری مذہب اسلام ہے۔ 

گو کہ ملائیشیا نے پاکستان کی آزادی کے دس برس بعد برطانیہ سے آزادی حاصل کی، مگر آج اس کا شمار دنیا کی ابھرتی ہوئی مضبوط معیشتوں کے حامل ممالک میں ہوتاہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ملکی لیڈر شپ کا اپنے ملک سے مخلص اور بدعنوانی سے پاک ہونا ہے۔ برطانیہ سے آزادی کے بعد بابائے ملائیشیا اور ملک کے پہلے وزیر اعظم، تنکو عبدالرحمان نے اپنے وژن سے اس ملک کو ابتدا ہی سے ترقی کی راہ پر گام زن کردیاتھا۔ بعدازاں، دیگر رہنمائوں، خصوصاً ڈاکٹر مہاتیر محمد نے سچّی لگن اور خلوصِ دل سے ملک کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا، یہی وجہ ہے کہ آج اسے ’’ایشین ٹائیگر‘‘ کہا جاتا ہے،جودنیا کی سیاست میں عموماً اور مسلم دنیا کے مفادات کے تحفظ کے لیے خصوصاً اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

ہم نے اپنے سفر کا آغاز پاکستان سے کوالالمپور براستہ بنکاک کیا۔ بنکاک سے کوالالمپور تک دو گھنٹے کا فضائی سفر انتہائی دل کش اور سحر انگیز تھا۔ خلیج تھائی لینڈ کے اوپر آسمان کی وسعتوں پر پرواز کرتا ہوا جہاز، جب ملائیشین سرزمین میں داخل ہو تا ہے، تو نیچے پام (کھجور)کے سرسبز جنگلات شروع ہوجاتے ہیں۔ رن وے کے اطراف میں تاحدِنگاہ لہلہاتے کھجوردرخت کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے، جیسے ائرپورٹ اور رن وے کی زمین بھی ان جنگلات کو صاف کرکے نکالی گئی ہے۔ درختوں کا یہ طویل سلسلہ شہر کی طرف آنے والی مرکزی سڑک کے ساتھ ساتھ چلتا رہتا ہے۔ مرکزی شہر سے تقریباً اٹھائیس کلومیٹر کے فاصلےپر واقع کوالالمپور ائرپورٹ کا شمار انتہائی مصروف ایئرپورٹس میں ہوتا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق یہاں سے ہر سال تقریباً چھے کروڑ مسافروں کی آمدورفت ہوتی ہے۔ دو گھنٹے پر محیط سفر کے بعد جب ہم کوالالمپور ائرپورٹ پہنچے، تو امیگریشن آفیسر تیکھی نگاہوں سےہماری طرف دیکھتے ہوئے پاسپورٹ کو خاصی دیر تک الٹ پلٹ کرتا رہا، اس پر لگے دیگر ویزے بہت غور سے دیکھنے کے بعد بڑی بے دلی سے مہرلگا کر پاسپورٹ ہمارے ہاتھ میں تھمادیا۔ اس کے طرزِ عمل پر ہمیں غصّہ تو بہت آیا، مگر یہ سوچ کرخاموش ہوگئے کہ دراصل، پچھلے کچھ عرصے سے خاصی بڑی تعداد میں پاکستان سے افرادی قوت کا رُخ ملائیشیا کی طرف ہوگیا ہے۔ اسی وجہ سے کئی مسائل پیدا ہورہے ہیں، جن میں ایجنٹس کے ذریعے غیرقانونی داخلے اور پھر بدقسمتی سے منشّیات کی اسمگلنگ میں بھی زیادہ تر پاکستانی ہی ملوّث پائے گئے ہیں، جن میں سے بہت سے تو وہاں کی جیلوں میں قید ہیں۔

ملائیشیاکے لیے پام کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ انڈونیشیا کے بعد پام آئل پیدا کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔ شروع میں پام کے پودے 1870ء کی دہائی میں نائیجیریا سے سجاوٹ کے لیے لاکر لگائے گئے تھے۔ تاہم، باقاعدہ طورپر کمرشل بنیادوں پر ان کی پیداوار 1960ء کی دہائی میں شروع ہوئی اوربعدازاں، مربوط پلاننگ کے باعث جلد ہی ملائیشیا پام آئل برآمد کر نے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک بن گیا،جس سے ملک میں غربت کی سطح میں کمی لانے میں خاصی مدد ملی۔ آج ملک کے15فی صد رقبے پر پام کی کاشت ہوتی ہے۔شہر میں داخل ہوئے تو دوپہر ڈھل رہی تھی، بھوک بھی لگ رہی تھی۔ قریب ہی ایک دیسی سا ریسٹورنٹ نظر آیا، تو بلاسوچے سمجھے اندر داخل ہوگئے۔ ریسٹورنٹ کا ماحول اپنے ملک کے ماحول سے کچھ زیادہ مختلف نہیں تھا، مینیو دیکھ کر دال چاول اور چکن کا آرڈر دے دیا، کھانا بہت مزے دار تھا، خوب پیٹ بھر کے کھایا۔ برسبیلِ تذکرہ بتاتے چلیں کہ ملائیشیا اگرچہ ایک مسلمان ملک ہے، مگر ضروری نہیں کہ یہاں کے ہر ریسٹورنٹ میں حلال کھانا دستیاب ہو، اس لیے بہتر یہی ہے کہ آرڈر دینے سے پہلے دریافت کرلیا جائے۔

ہمارا ہوٹل شہر کے عین وسط میں واقع تھا، کمرے کی کھڑکی کھولی تو فلک بوس عمارتوں کا دل فریب منظر سامنے تھا۔ یہاں جدید کے ساتھ ساتھ نوآبادیاتی دور کی عمارات بھی خاصی تعداد میں موجود ہیں۔ کوالالمپور شہر کی آبادی تقریباً اٹھارہ لاکھ نفوس پر مشتمل ہے، جن میں چینی، بھارتی، قدیم مالے اور یورپین کلچر کا حسین امتزاج ہے۔کھانے کے بعد ہوٹل میں داخل ہوئے اور تھکن کے باعث کچھ دیر آرام کا سوچ ہی رہے تھے کہ کمرے کے فون پر اطلاع ملی کہ سٹی ٹور کے لیے پانچ بجے بس روانہ ہوگی، اس لیے فوری تیار ہوجائیں۔ ہوٹل سے باہر نکلے، تو معلوم ہوا کہ بارش کا ایک دَور ہوچکا ہے۔خطِ استوا پر ہونے کی وجہ سے کوالالمپور کا موسم سارا سال ایک جیسا رہتا ہے،بارشیں زیادہ ہونے کی وجہ سے ہوا میں نمی کا تناسب بہت زیادہ ہے۔ یاد رہے،کوالالمپورمیں ایک سال میں دو سو دن بارش کا منفرد ریکارڈ بھی موجود ہے۔

ٹور کے پہلے مرحلے میں بادشاہ کے محل کی سیر کروائی گئی۔ اس محل کو مالے زبان میں استانہ نگارہ کہتے ہیں۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ مالے زبان کا رسم الخط عربی طرز کا ہے۔ گو ملائیشیا نے برطانیہ سے 1957ء میں آزادی حاصل کی، مگر حکومتی نظام اب تک برطانوی طرزِ حکومت ہی پر چل رہا ہے، جس میں بادشاہی نظام کا تسلسل بھی ہے، اور ہر پانچ سال بعد ملائیشیا کی نو ریاستوں میں سے کسی ایک کا سربراہ مملکت بادشاہت کے منصب پر فائز ہوجاتا ہے، جب کہ سربراہِ حکومت وزیراعظم کہلاتا ہے، جسے پارلیمنٹ منتخب کرتی ہے۔محل کی اصل عمارت مرکزی دروازے سے خاصی دور اونچائی پر واقع ہے، جہاں عام افراد کا داخلہ ممنوع ہے، البتہ مرکزی دروازے اور اطراف کے علاقے خاص و عام کے لیے کھلے رہتے ہیں۔ عمارت کے ستونوں پر قرآنِ پاک کی آیات کی عمدہ خطّاطی کی گئی ہے۔ اگلی منزل شہداء کی یادگار تھی، جو کچھ ہی فاصلے پر موجود ہے۔ ایک بڑے پارک میں نیلی ٹائلز کے تالاب میں نصب فوّاروں کی دھار عین بیچ میں واقع چبوترے پر کانسی سے بنے، اسلحے سے لیس سپاہیوں کے مجسّموں پر گررہی تھی۔ 

یہ اُن شہداء کے مجسمے ہیں، جنہوں نے برطانیہ سے آزادی کے لیے طویل جدوجہد کی۔ کچھ دیر محل کے بیرونی احاطوں میں مٹر گشت کرنے کے بعد مردیکا اسکوائرمیں واقع تاریخی سلطان عبدالصمد بلڈنگ جاپہنچے۔ انیسویں صدی کے اواخر میں مغلیہ طرزپر تعمیر کی جانے والی اس عمارت کی وجۂ شہرت یہاں برطانوی دورِ حکومت کے سرکاری دفاتر تھے۔ آج کل اس عمارت میں وزارتِ اطلاعات و ثقافت کے دفاتر ہیں۔ اس تاریخی عمارت کے سامنے ایک وسیع و عریض کرکٹ گراؤنڈ پر 31اگست 1957ء کو برطانوی راج کے خاتمے پرپہلی بار ملائیشیا کا قومی پرچم لہرایا گیا تھا، جس کے بعد سے ہر سال اس واقعے کی یاد میں یہاں پرچم کشائی اور روایتی مردیکا پریڈ ہوتی ہے۔ اطراف میں بلند و بالا الٹراماڈرن عمارتیں گھنے بادلوں کے پس منظر میں ایک دل کش منظر پیش کرتی ہیں۔ قریب ہی کوالالمپور کا قدیم ریلوے اسٹیشن بھی موجود ہے، جو اب تک فعال ہے۔ 

ذرا فاصلے پر جامع مسجد کی خُوب صُورت عمارت ہے۔مشرقِ بعید کے ہر بڑے شہر کی طرح کوالالمپور میں بھی ایک چائنا ٹاؤن موجود ہے، جہاں کوالالمپور آنے والا ہر سیّاح جانےکے لیے بے تاب رہتا ہے۔ پیٹالنگ اسٹریٹ پر انواع و اقسام کی اشیاء سے مزیّن بازار’’جیلان پیٹالنگ‘‘ یہاں کا مشہور بازار ہے، جہاں چائنیز جڑی بوٹیوں سے لے کر ایمی ٹیشن جیولری، کاسمیٹکس، چشمے، پرس، جوتے، موبائل فونز، گھڑیاں، گارمنٹس غرض ہر شے کی ورائٹی مل جاتی ہے۔ بازار کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں کی سب دکان دار خواتین ہیں اور حسبِ معمول قیمتوں میں بھائو تائو کا مارجن بھی بہت زیادہ ہے۔

رات کا کھانا ایک مشہورپاکستانی ریسٹو رنٹ میں کھایا، جو ہو ٹل سے قریب ہی تھا۔کھانے کا ذائقہ توٹھیک ہی لگا، مگر ریٹ کچھ زیادہ تھے۔اگلے روز کے پروگرام میں مشہور پیٹرو ناس ٹوئن ٹاورز اور جینٹنگ ہا ئی لینڈز کی سیر شامل تھی۔ اس لیے صبح وقتِ مقررہ پر ہوٹل کی لابی پہنچ گئے۔ پیٹرو نا س ٹوئن ٹاورزکوکوالا لمپور میں آئیکو ن کی حیثیت حاصل ہے ،جنہیں مالے زبان میں ’’منارہ پیٹروناس‘‘ بھی کہتے ہیں۔ یہ ٹاورز جدیداسلامی طرزِ تعمیر کا شاہ کار ہیں، جنہیں دیکھنے کے لیے روزانہ ہزاروں سیّاح یہاں کا رُخ کرتے ہیں۔ پیٹرو ناس، درحقیقت نیشنل پٹرولیم لمیٹڈ کا مخفّف ہے۔ یہاں دیگر کمپنیز کے دفاتر اوررہائشی اپارٹمنٹس بھی ہیں۔ 1998 ء میں تعمیر کردہ 88منزلہ ٹوئن ٹاورز کی اونچائی 452 میٹرز ہے۔ 

ہر ٹاور پر جدید ترین 38 لفٹس موجود ہیں۔ دبئی کے برج خلیفہ کی تعمیر سے قبل 2004ء تک پیٹرو ناس ٹوئن ٹاورز کو دنیا کی بلند ترین عمارت کا اعزاز حاصل تھا۔ ٹاورز کے ٹاپ پر جانے کے لیے اسّی رنگٹ فی ٹکٹ مقرر ہے، یعنی تقریباً تین ہزار پاکستانی روپے۔41ویں اور42 ویں فلورز پر ڈبل ڈیکر کی صُورت میں دونوں ٹاورز کو باہم جوڑا گیا ہے، جنہیں اسکائی برج کہا جاتا ہے۔192 فٹ طویل اور زمین سے558 فٹ بلند یہ برج یہاں کے رہائشیوں اوردفاتر میں کام کرنے والے ملازمین کو ایک برج سے دوسرے برج تک جانے کی سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ایمرجینسی ایگزٹ کا کام بھی انجام دیتا ہے۔86 ویں فلور پر واقع آبزرویشن ڈیک سے دوربین کی مدد سے پورے شہر کا پینو رامک نظارہ کیا جاسکتا ہے۔ بارش یا ابر آلود موسم میں یہ ٹاورز بادلوں سے گِھرجاتے ہیں اور ہر طرف سوائے گہرے بادلوں کے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔

کوالالمپور شہر سے 45 منٹ کی مسافت پرجینٹنگ ہائی لینڈز ایک پہاڑی تفریحی مقام ہے، جو سطحِ سمندر سے5850 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ یہاں کادرجہ حرارت شہرسے نسبتاًکم اور موسم انتہائی خوش گوار ہوتا ہے۔ ساڑھے تین کلومیٹربلند جینٹنگ ہائی لینڈز پر تیز ترین کیبل کار پندرہ سے بیس منٹ میں پہنچادیتی ہے۔ جس کا یک طرفہ ٹکٹ آٹھ رنگٹ یعنی تین سو پاکستانی روپے ہے۔ کوالالمپور ایک ملٹی کلچرل شہر کا نمونہ ہے، جہاں مالے،بھارتی اور چا ئنیز مل جل کر رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سال بھر ان سب کمیونٹیز کے مختلف تہوار بڑے ذوق و شوق سے منائے جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے سرکاری چھٹیوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔مختلف مارکیٹس میں مختلف تہذیبوں اور معاشرت کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔ قصّہ مختصر،کوالالمپور جنوب مشرقی ایشیا کا نسبتاً تیزی سے ابھرتا ہوا شہرہے، جس نےبہت کم عرصے میں بین الاقوامی اہمیت حاصل کرلی ہے۔

کچھ دل چسپ حقائق.....

٭ملائیشیا میں کوبرا سانپ بہ کثرت پائے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے اسے سانپوں کی سرزمین بھی کہا جاتا ہے۔٭ملائیشیا دو بڑے جزیروں پر مشتمل ملک ہے، جنہیں ساؤتھ چائنا سی علیٰحدہ کرتا ہے۔اس کے دوسرے حصّے کو بورنیو کہتے ہیں، جو کرئہ ارض پرگرین لینڈ اور پاپوا نیوگنی کے بعد تیسرا بڑاجزیرہ ہے۔٭سنگاپور آزادی کے بعد سے 1965ء تک ملائیشیاکا حصّہ رہا۔ یہ ایک پُل کے ذریعے ملائیشیا سے ملا ہوا ہے، جس کے ذریعے ہر سال لوگوں کی بڑی تعداد سیرو تفریح کی غرض سے جاتی ہے۔٭ملائیشیا دنیا کا تیسرا بڑا قدرتی ربڑ پیدا کرنے والا ملک ہے۔٭اسلام کا نُور یہاں دسویں صدی عیسوی میں پھیلا، اس سے قبل یہاں ہندو اور بدھ مت کے ماننے والوں کی اکثریت تھی۔٭ مالے، جو یہاں کے قدیم باشندے ہیں، ننانوے فی صد مسلمان ہیں۔ ٭ یہاں پانچ سال سے بڑی ہر مسلمان لڑکی ایک خاص قسم کے اسکارف سے سر ڈھانپتی ہے۔