آپ آف لائن ہیں
منگل22؍ذیقعد 1441ھ 14؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

’عیدُ الفطر‘ رب العالمین کی جانب سے اہلِ ایمان کیلئے عظیم تحفہ

مولانا سیّد شہنشاہ حسین نقوی

یومِ عیدالفطر سے متعلق اِس مختصر سے مضمون میں آئیے آج ہم سورۃ الشمس ، جو نمازِ عید میں پڑھی جاتی ہے، اُس کے ترجمے کا مطالعہ کرتے ہیں،اوراُن عظیم القدر مطالب اور نِکات پر غور و خوض کرتے ہیں، جو اِس گراں قدر سورۂ مبارکہ میں مضمر ہیں: ’’اللہ کے نام سے (شروع کرتا ہوں)جو بڑا مہر بان نہایت رحم والا ہے۔ سورج کی قسم اور اُس کی روشنی کی اور چاند کی جب اُس کے پیچھے نکلے اور دن کی جب اُسے چمکا دے اور رات کی جب اُسے ڈھانک لے اور آسمان کی جس نے اُسے بنایا اور زمین کی اور جس نے اُسے بچھایا اور جان کی جس نے اُسے دُرست کیا اور پھر اس کی بدکاری اور پرہیز کاری کو اسے سمجھا دیا(قسم ہے)جس نے اس(جان) کو (گناہ سے)پاک رکھا وہ توکامیاب ہوا اور جس نے اسے(گناہ کرکے)دبا دیا وہ نامراد رہا۔قومِ ثمود نے اپنی سرکشی سے (صالح ؑ پیغمبرکو)جھٹلایا جب ان میں ایک بڑا بدبخت اُٹھ کھڑا ہوا تو اللہ کے رسول(صالح ؑ) نے ان سے کہا کہ اللہ کی اُونٹنی اور اس کے پانی پینے سے تعرّض نہ کرنا، مگر اُن لوگوں نے پیغمبرؑ کو جھٹلایا اوراس (اُونٹنی) کی کونچیں کاٹ ڈالیں تو اللہ نے ان کے گناہ کے سبب ان پر عذاب نازل کیا پھر ہلاک کرکے برابر کردیا اور اُس کو ان کے بدلے کا کوئی خوف تو ہے نہیں۔‘‘

سورۂ اعلیٰ بھی نمازِ عید میں عموماً پڑھی جاتی ہے ،اُس میں پروردگارِ عالم نے ارشاد فرمایا :ـٔ ’’ اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔(اے نبیؐ)اپنے بلند و برتر پروردگارکے نام کی تسبیح کیجیے(1)جس نے(ہر چیز کو)پیدا کیا پھر دُرست کیا(تناسب قائم کیا)(2)جس نے تقدیر مقرر کی(ہر چیز کا اندازہ مقرر کیا)اور(سیدھی)راہ دِکھائی(3)اُس نے(جانوروںکے لیے)زمین سے چارہ نکالا(4) پھراسے(خشک کرکے)سیاہی مائل کُوڑا بنادیا(5)ہم آپ کو (ایسا )پڑھائیں گے کہ پھر آپ نہیں بھولیں گے(6) مگر جو اللہ چاہے( بھلا دے)بے شک وہ ظاہر کو بھی جانتا ہے اوراُسے بھی جو چھپا ہوا ہے(7) اور ہم آپ کو آسان(شریعت) کی سہولت دیں گے(8)پس آپ نصیحت کیجیے اگر نصیحت کچھ فائدہ پہنچائے(9)وہ شخص نصیحت قبول کرے گاجو (اللہ و آخرت سے)ڈرتا ہوگا(10) اور جو بد بخت ہے وہ اس سے گریز کرے گا(11)جو بڑی آگ میں داخل ہوگا(12)پھر وہ اُس میں نہ مرے گا نہ جیے گا(13)وہ شخص فائز المرام ہوا جس نے اپنے آپ کو (بد اعتقادی و بد عملی سے )پاک کیا(14)اور اپنے پروردگار کا نام یاد کیا اور نماز پڑھی(15)مگر تم لوگ دنیا کی زندگی کو (آخرت پر)ترجیح دیتے ہو(16)حالانکہ آخرت بہتر ہے اور پائیدار ہے(17)یقیناً یہ بات پہلے صحیفوں میں بھی ہے(18)یعنی ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں‘‘۔

یہ سورت بھی نہایت قابلِ غور ہے۔اِس کے مطالب بھی ارفع و اعلیٰ ہیں۔ نمازِ عید الفطردو رکعت ہے۔آئیے آج اُس کے ترجمے پر بھی غور کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں :’’اے صاحبِ کبریاو عظمت اے صاحبِ جُود و جبروت، اے صاحبِ عفو و رحمت اے صاحبِ تقویٰ و مغفرت، میں تجھ سے اِس دن کے حق سے سوال کرتا ہوںجس کو تُونے مسلمانوں کے لیے روزِ عید بنایا اور آنحضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے لیے شرف و کرامت کے مقام کا سبب بنایا،محمد ؐوآلِ محمدؐپر رحمت نازل فرما اور ہم کو اُس نیکی میں داخل کردے جس میں محمدؐ وآلِ محمدؐ کو داخل کیا ہے اور ہر اُس بُرائی سے نکال دے جس سے محمدؐ وآلِ محمدؐ کو دُور رکھا ہے۔ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اُس خیر کے بارے میں جس کا صالحین نے تجھ سے سوال کِیا اور پناہ مانگتا ہوں اُن بُرائیوں سے جن سے تیرے مخلص بندوں نے پناہ چاہی ۔‘‘(ماخوذ از کتاب مفاتیح الجنان)

حضرت علیِ مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ نے فلسفۂ عید کا مفہوم مختصر ترین اور جامع الفاظ میں کیا خوب بیان فرمایا ہے :’’ہر وہ دن جس میں اللہ کی نافرمانی نہ کی جائے ، عید کا دن ہے۔‘‘(نہج البلاغہ)

سب سے عظیم عید درحقیقت اللہ تبارک وتعالیٰ کی رضا ہی ہے۔جس کسی کو پورے روزے رکھنے کی توفیق ملی اور اُس نے پورے روزے رکھے، واجبات بجا لایا، محرّمات سے اجتناب کیا،حقوق اللہ اور حقوق العباد کا خیال رکھا، اُس کے لیے عید کا دن واقعی پروردگارِ عالم کے شکرانے کی ادائیگی کا دن ہے۔اِس دن غریبوں اور مستحقین کا خیال رکھنا بھی نہایت ضروری ہے ۔ کپڑوں کا ایک جوڑا اگر آپ نے اپنے لیے خریدرہے ہیں تو ساتھ ہی ایک جوڑا کسی غریب اور مستحق کے لیے خرید لیں۔یہ بھی خیال رہے کہ اوّل خویش بعدہٗ درویش ۔آپ کا جوڑا تو کچھ عرصے بعد ناپید ہوجائے گا،لیکن وہ جوڑا جو آپ نے کسی غریب ، مسکین اورمستحق کے لیے خریدا ہے، وہ روزِ محشر آپ کی مشکلات میں کام آئے گا۔اِسی طرح عید کے دن عمدہ اور لذیذ پکوان میں اگر آپ کسی محروم انسان کو شریک کرلیں گے، تو وہی غذا ربُ العزت کی مہر بانی سے آپ کے توشۂ آخرت میں شامل ہوسکتی ہے۔