آپ آف لائن ہیں
اتوار20؍ذیقعد 1441ھ 12؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

شاہ محمود، بلاول پر تنقید کے نشتر کیوں چلا رہے ہیں؟

عید سے صرف دو دن پہلے کراچی میں پی آئی اے کے طیارے کا حادثہ سارے ماحول کو افسردہ کرگیا ، ائیربس 320 کی فلائٹ لاہور سے کراچی کے لئے روانہ ہوئی ، تو ائیرپورٹ پر کورونا کے حوالے سے انتہائی احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں، ہر مسافر کو چیک کیا گیا اور ایس او پیز کے مطابق طیارہ میں سوار ہونے کی اجازت دی گئی ،یہ احتیاطی تدابیر تو ہوتی رہیں ،لیکن شاید طیارہ کی دیکھ بھال کرنے والوں سے چوک ہوگئی ،کیونکہ لاہور سے کراچی تقریباًڈیڑھ گھنٹہ کی فلائٹ میں طیارہ کو اگرحادثہ پیش آتا ہے ،وہ بھی اس وقت جب وہ کراچی ائیرپورٹ پر لینڈنگ کی پوزیشن میں ہو،اور اس کے اندر ایسی خرابی پیدا ہوجائے کہ پائلٹ کو یہ میسج دینا پڑے کہ انجن پر اس کا کنٹرول نہیں رہا ، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ طیارہ کو اڑان بھرنے سے قبل اچھی طرح چیک نہیں کیا گیا ،اب حسب روایت اس حادثہ کی بھی انکوائری ہوگی ،بڑے بڑے بلند بانگ دعوے کئے جائیں گے ،مگر حتمی نتیجہ پھر بھی برآمد نہیں ہوگا ،کیونکہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ملتان فوکرطیارہ کا حادثہ ہو یا اسلام آباد میں ائیربلیو کا حادثہ ،یا گلگت میں اس طیارہ کاحادثہ جس میں جنید جمشید بھی سوار تھے ،کسی کی بھی کوئی حتمی رپورٹ سامنے نہیں لائی جاسکی ،نہ ہی کسی کو ذمہ دارٹھہرایاگیا ،لیکن پی آئی اے کے اس بڑے طیارے کا حادثہ جہاں غم وآلام کی بے شمار کہانیاں چھوڑ گیا ہے وہاں حادثہ کا شکار ہونے والوں کے لواحقین کے لئے زندگی بھر کا روگ بھی بن گیا ہے ، کیا اس حادثہ کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی ؟

کیا ذمہ داروں کاتعین کیا جائے گا ؟یا وہی روایتی ہتھکنڈےاستعمال کرکے اس معاملہ کو بھی دبا دیا جائے گا ،یہ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کا ایک بڑاامتحان ہے ، گزشتہ ہفتہ چینی سکینڈل کی بازگشت نے پوری فضا کو اپنی لپیٹ میں لئے رکھا ،حکومت نے اپنے وعدے کے مطابق اس رپورٹ کو عام کردیا اور بہت سے ایسے نام بھی اس رپورٹ کا حصہ بن گئے ،جو حکومت کے بہت قریب سمجھے جاتے ہیں ،یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے کہ کسی انکوائری کمیشن کی رپورٹ بغیر کسی تحریف کے منظرعام پر لائی گئی،وگرنہ ماضی میں بہت کمیشن بنتے رہے ،بہت سی رپورٹیں تیار ہوئیں ،مگر ایسا نہیں ہوا کہ انہیں منظرعام پر لایا گیا ہو،اس رپورٹ پر حسب توقع پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن نے اعتراضات اٹھائے ہیں ،سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ اس میں چینی سکینڈل کے اصل کرداروں کو بچا لیاگیا ہے۔

ان کا اشارہ وزیراعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی طرف ہے، جنہوں نے چینی برآمد کرنے کی منظوری دی اور اس کے بعد اس پر سبسڈی بھی دی گئی ،خیریہ اعتراض اس لئے بھی زیادہ اہمیت کا حامل نہیں کہ ماضی میں ہرحکومت سبسڈی بھی دیتی رہی اور چینی برآمد بھی کی جاتی رہی ہے ،اس ساری رپورٹ نے اصل کام یہ کیا ہے کہ شوگرمافیا کے اس سارے عمل کو بے نقاب کردیا ہے ،جو برس ہابرس سے پاکستانی معیشت کو جکڑے ہوئے ہے اور اس کے ذریعے ایک طرف عام آدمی کی جیب پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے اورراتوں رات قیمتوں میں اضافہ کرکے چینی کی جنس کو نایاب بنادیتے ہیں ،دوسری طرف اس میں گنے کے کاشت کاروں کے استحصال کا بھی بھانڈا پھوڑا گیا ہے کہ کس طرح انہیں کم قیمت پر گنا فروخت کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے ،لیکن کاغذوں میں گنے کا ریٹ زیادہ دکھا کر ایک طرف ٹیکس بچایا جاتا ہے ،تو دوسری طرف قیمتیں بڑھانے کاجواز پید ا کیا جاتا ہے۔

یہ رپورٹ اس لئے بھی بڑی اہمیت رکھتی ہے کہ پہلی بار اس حقیقت کو بھی آشکار کیا گیا کہ سیاسی سرپرستی کے ذریعے شوگر مافیا اپنی من مانی کرتا ہے کیونکہ اس کی جڑیں حکومت میں موجود ہوتی ہیں اور من مانے فیصلے کرانے کا اس کے پاس ایک ایسا آپشن ہوتا ہے کہ جسے کوئی حکومت بھی نہیں روک سکتی ، یہ رپورٹ پاکستان کے سیاسی منظر نامے کی ایک ایسی داستان کو بیان کرتی ہے ،جس نے معیشت کے سارے کل پرزے اپنے ہاتھ میں لے رکھے ہیں ،جس سبسڈی پر اپوزیشن وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا استعفیٰ مانگ رہی ہے ،وہ تو پچھلے دس سالوں سے جاری ہے اور اب تک تقریباً 22 ارب روپے کی سبسڈی شوگرملز مالکان کو دی جاچکی ہے۔

جبکہ انہوں نے قیمتوں میں اضافہ کرکے اربوں روپے علیحدہ کمائے ہیں، سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس رپورٹ میں جہانگیر ترین کومین کردار کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس نے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا ہے ، سب کی نظریں اس بات پر لگی ہوئی تھیں کہ اس رپورٹ کے فرانزک آڈٹ میں جہانگیرترین کو کہیں بچانے کی کوشش تو نہیں کی جاتی ،کیونکہ یہ تاثر موجود تھا کہ جہانگیر ترین کی تحریک انصاف میں بڑی اہمیت ہے اور عمران خان کسی صورت یہ نہیں چاہیں گے کہ ان کا نام ایک بڑے کردار کے طورپر اس چینی سکینڈل میں آئے ،لیکن یہ توقعات غلط ثابت ہوئیں اور جہانگیر ترین پر اس رپورٹ میں حکومتی اثرورسوخ استعمال کرکے فائدہ اٹھانے کے الزامات لگائے گئے اور اربوں روپےکی سبسڈی لینے کا ذمہ دار قراردیا گیا ۔

تاہم جہانگیر ترین نے اس رپورٹ کو یکسر مسترد کردیا ہے اور اسے ایک چوں چوں کا مربہ قراردیا ہے ،جس کا کو ئی سر پیر نہیں ہے ،انہوںنےمیڈیا سے گفتگو میں یہ بات بھی کی کہ جس طرح نوازشریف کے خلاف فیصلہ کو بیلنس کرنے کے لئے انہیں نااہل قراردیا گیا تھا ،اس طرح اس رپورٹ میں جان ڈالنے کے لئے انہیں ملوث کیا جارہا ہے حالانکہ ان کا تمام بزنس شفاف ہے اور کوئی بھی الزام نہیں لگایا جاسکتا ۔

ادھر مخدوم شاہ محمود قریشی ملتان آئے ،تو انہوں نے دیگر امور کے ساتھ ساتھ بلاول بھٹو زرداری پر بھی تنقید کے نشتر برسائے ،ان کا کہناتھا کہ بلاول بھٹو کو میں اس وقت سے جانتا ہوں جب وہ اپنی ماں کی انگلی پکڑ کر چلتے تھے ،اب اگر وہ ایک بڑے سیاستدان بن کردوسروں کا احترام نہیں کرتے ،تو یہ خود ان کے لئے کوئی قابل فخر بات نہیں ہے ،انہوں نے مشورہ دیا کہ بلاول بھٹو سندھ کارڈ کھیلنے کی بجائے وفاق کی سیاست کریں ،کیونکہ پیپلزپارٹی ایک وفاقی جماعت ہے اور اسے اپنے مفادات کے لئے سندھ کی سیاست کو استعمال نہیں کرنا چاہئے ،ان کا کہنا تھا کہ 18 ویں ترمیم کو ختم کرنے کا شوشہ بھی ایک سیاسی سٹنٹ ہے کیونکہ تحریک انصاف نہ تو اسے ختم کرنا چاہتی ہے اور نہ ہی اس میںترمیم کےلئے اس کے پاس فی الوقت دوتہائی اکثریت ہے ،بلاول بھٹو کیونکہ سیاست کے لئے دیگر موضوعات کو چھیڑنے سے قاصر ہیں اوروہ سندھ میں پیپلزپارٹی کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنا چاہتے ہیں ،اس لئے انہوں نے 18 ویں ترمیم کا واویلہ مچایا ہوا ہے ،اس کی بجائے انہیں چاہئے کہ وہ وفاق کی بات کریں اور سند ھ میں اپنی بری گورننس کو بہتر بنانے کے ساری توجہ صرف کریں ۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید