آپ آف لائن ہیں
پیر14؍ذیقعد 1441ھ 6؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کورونا وبا غریب ممالک کو زیادہ نقصان پہنچائے گی، عالمی ادارہ خوراک

کراچی (نیوز ڈیسک) جس وقت دنیا کورونا وائرس کے مسئلے سے نمٹنے میں مصروف ہے، غریب ممالک میں معاشی صورتحال کی وجہ سے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے اور ہر شخص تک خوراک کی رسائی کا معاملہ خراب ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ غریب ممالک میں نہ صرف معیشت کو خطرات لاحق ہیں بلکہ خوراک کا عدم تحفظ بھی بڑھ رہا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی ادارہ خوراک (ورلڈ فوڈ پروگرام) نے اپنی معاشی آئوٹ لوک رپورٹ میں بتایا ہے کہ خوراک سے جڑے خطرات اور سلامتی کے معاملات پر بدستور گہرے بادل چھائے ہیں اور ان کی وجہ کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال ہے، خطرات کا سامنا کرنے والے خطوں میں افریقہ سر فہرست ہے جو پہلے ہی شدید غربت کا شکار ہے۔ رپورٹ میں بتایا گی اہے کہ 2020ء میں مجموعی طور پر 26؍ کروڑ 50؍ لاکھ سے زائد افراد بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں۔ یہ تعداد 2019ء کی تعداد کا دوگنا زیادہ ہے۔ ماہرین نے بتایا ہے کہ جس انداز سے معاشی بحران کم آمدنی والی معیشتوں کو نقصان پہنچا رہا ہے اس سے واضح طور پر اثرات کی پیشگوئی کی جا سکتی ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کی اکنامکس اینڈ مارکیٹس یونٹ کی سربراہ سوزانا سینڈ اسٹروم کا کہنا ہے کہ ایسے ممالک جن کا خالصتاً انحصار سیاحت، غیر ملکی زر مبادلہ، خوراک کی درآمد اور بنیادی ضروریات کی چیزوں کی برآمد پر ہے وہ سخت صورتحال کا سامنا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ خراب صورتحال کا سامنا کرنے والے ممالک کو ایک نہیں بلکہ ایک ہی مسئلے کی وجہ سے پیدا ہونے والے دیگر مسائل کا سامنا بھی ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ 2020ء میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 40؍ فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ممالک جہاں لوگ پہلے ہی غربت کی لکیر کی بین الاقوامی حد سے نیچے رہ رہے ہیں وہاں لوگ اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں، یہی وہ ممالک ہیں جہاں زیادہ نقصان کا اندیشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کسی بھی ملک میں آنے میں کمی اور لوگوں کا ملازمتوں سے ہاتھ دھونا ہی خوراک کے عدم تحفظ کا سبب بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے غیر قانونی تارکین وطن جو مختلف کیمپوں تک محدود ہیں، انہیں بھی شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا جبکہ ایسے ممالک جنہیں سنگین موسمی حالات کا سامنا رہتا ہے، مثلاً بنگلادیش، وہاں بھی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

دنیا بھر سے سے مزید