آپ آف لائن ہیں
منگل22؍ذیقعد 1441ھ 14؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

موجودہ حکومت نہ آئین کو اہمیت دیتی ہے، نہ قوانین کو اور نہ کئی اہم ایشوز پر مرکزی حکومت اور صوبائی حکومتوں کے درمیان ہونے والے معاہدوں کو‘ آئین کی کئی اہم شقوں پر یا تو مکمل طور پر عملدرآمد نہیں کیا جارہا یا ان کو تسلیم نہ کرتے ہوئے ان میں مزید ترامیم کرکے ان آئینی ترمیموں کی شکل کو ہی بگاڑنے کے عزائم ظاہر کیے جارہے ہیں جن آئینی شقوں پر عملدرآمد سے کنارہ کشی کی جارہی ہے وہ بھی کافی ہیں‘ میں اس وقت ان میں سے فقط اس آئینی شق کا حوالہ دے رہا ہوں جس کے تحت قومی مالیاتی کمیشن بنایا گیا ہے۔ جہاں تک ان آئینی شقوں کا تعلق ہے جن کی شکل بگاڑنے کی کوششیں ہورہی ہیں ان میں پاکستان کی تاریخ کی انتہائی اہم آئینی ترمیم جسے 18ویں آئینی ترمیم کے طور پر جانا جاتا ہے، شامل ہے ۔ میں نے اپنے پچھلے کالم میں بھی 18ویں آئینی ترمیم کا ذکر کیا تھا مگر اس بار میں 91کے پانی کے معاہدے کی ایک اور خلاف ورزی کے عنوان سے کالم لکھ رہا ہوں‘ 91کا پانی معاہدہ 1991 ء میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے درمیان تفصیلی مذاکرات کے بعد طے پایا اور بعد میں اس معاہدے پر وزیراعظم نواز شریف اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے دستخط کئے‘ اس معاہدے کی ایک اہم شق کے تحت صوبوں میں پانی کی تقسیم کے اختیارات واپڈا کو دینے کے بجائے انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کے نام سے بنائے جانے والے ایک نئے ادارے کو دیے گئے‘ اس وقت سندھ کے وزیراعلیٰ جام صادق علی تھے۔ اس معاہدے کی ایک اہم شق میں یہاں پیش کررہا ہوں‘ جس میں کہا گیا ہے کہ :

"For the implementation of this accord, The need to establish an "Indus River System Authority" was recognised and accepted. It was to have headquarters at Lahore and its members were to be from all the four provinces"

یہ شق حکومت سندھ کی طرف سے پیش کی گئی تھی جس کو مرکز اور پنجاب نے ایک دو نکات کے علاوہ تسلیم کر لیا جس اہم نکتہ کو پنجاب نے تسلیم نہیں کیا وہ یہ تھا کہ ارسا کا ہیڈ کوارٹر سکھر میں ہونا چاہئے بلکہ پنجاب نے زور دیکر کہا کہ ارسا کا ہیڈ کوارٹر لاہور ہوگا‘ بعد میں حکومت سندھ نے بھی پنجاب کے اس موقف کی مخالفت نہیں کی‘ اس طرح کافی عرصے تک ارسا کا ہیڈ کوارٹر لاہور رہا مگر پاکستان کے ایک سابق فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف نے ارسا کا ہیڈ کوارٹر لاہور سے اسلام آباد منتقل کردیا‘ اس شق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ارسا میں چاروں صوبوں کے نمائندے ممبر ہوں گے۔ جہاں تک اس شق پر عملدرآمد کا تعلق ہے تو اب تک اس پر عملدرآمد ہوتا رہا مگر ارسا کے گزشتہ اجلاس میں بشمول سندھ اور کچھ دیگر صوبوں کے نمائندوں کو ہٹا دیا گیا ہے‘ اس فیصلے کے خلاف حکومت سندھ نے سخت احتجاج کیا ہے۔ یہ بات بھی واضح کرنی ہوگی کہ 91کے پانی کے معاہدے میں ترمیم کرنے کا مجاز ارسا کا چیئرمین نہیں بلکہ ایسا فیصلہ صرف سی سی آئی جیسا ادارہ کر سکتا ہے مگر وفاقی حکومت نہ حکومت سندھ کے احتجاج کا مثبت جواب دے رہی ہے اور نہ متعلقہ قانون پر عملدرآمد کرنے کے لئے تیار ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 91کے پانی کے معاہدے کی یہ کوئی پہلی خلاف ورزی نہیں‘ اس سے پہلے بھی اس معاہدے کی کئی خلاف ورزیاں کی جاچکی ہیں۔ مثال کے طور پر اس معاہدے کی ایک شق میں کہا گیا ہے کہ :

"The need for certain minimum escapage to sea, below kotri,to check sea intrusion was recognized. Sindh held the view, that the optimum level was 10 MAF which was discussed at length while other studies indicated lower / higher figures/ It was, therefore decided that further studies should be undertaken to establish the minimum escapage needs down stream kotri."

حالانکہ اس شق کے تحت اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اس سلسلے میں مزید ’’اسٹڈیز‘‘ کی ضرورت ہے مگر یہ نہیں کیا گیا حالانکہ حکومت سندھ بار بار وفاقی حکومت کے سامنے یہ ایشو اٹھاتی رہی ہے‘ بس یہ طے کیا گیا کہ کوٹری کے نیچے سمندر کی طرف 10ایم اے ایف پانی چھوڑا جائے گا مگر بعد میں یہ بھی نہیں کیا گیا اور پنجاب اور مرکزی حکومت کی طرف سے یہ موقف اختیار کیا جاتا رہا ہے کہ دریائے سندھ کا جو پانی سمندر میں جاتا ہے وہ ضائع ہو جاتا ہے حالانکہ دوسری طرف نہ فقط ملکی تحقیقاتی ادارے بلکہ بیرون ملک کے تحقیقاتی ادارے دلائل سے ثابت کرتے رہے ہیں کہ کوٹری کے نیچے سمندر میں مطلوبہ مقدار میں پانی نہ چھوڑنے کی وجہ سے سمندر Sea Intrusion کا شکار ہورہا ہے۔ علاوہ ازیں یہ بھی شکایات آتی رہی ہیں کہ دریا کا پانی سمندر میں کم مقدار میں چھوڑنے کی وجہ سے ملک پلا (مچھلی) سے محروم ہو گیا ہے حالانکہ مچھلی کی ساری قسموں میں پلا سب سے زیادہ لذیذ تھی۔ علاوہ ازیں دریا کا پانی کم مقدار میں سمندر میں چھوڑنے کی وجہ سے سمندری مچھلی کی پیداوار میں بھی بہت کمی ہوگئی۔ واضح رہے کہ یہ سمندری مچھلی وافر مقدار میں بیرون ملک برآمد کئے جانے کے نتیجے میں ملک کوکثیر زرمبادلہ حاصل ہوتا تھا۔ اس معاہدے کی جو دیگر خلاف ورزیاں کی گئی ہیں ان پر میں ایک الگ کالم لکھوں گا۔