آپ آف لائن ہیں
اتوار20؍ذیقعد 1441ھ 12؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

یہ بات تو واضح ہے کہ موجودہ بھارتی قیادت کی ایسی کوئی پالیسی نہیں ہے جس سے اس خطے میں امن و آشتی کا ماحول قائم ہو بلکہ آر ایس ایس جیسی دہشت گرد تنظیم کے ایجنڈے کے مطابق ہندوتوا کا نظریہ فروغ پذیر ہے اور یہ تنظیم تمام اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی دشمن ہے۔ 

حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اسی نظریہ اور ایجنڈے کے مطابق چل رہی ہے۔ 

اس پر طرہ یہ کہ بھارتی وزیراعظم کے دماغ میں نازی ازم بھی رچا بسا ہے۔ یہ عجیب حکومت ہے جو اپنے ملک کے اندر بھی بدامنی کو فروغ دیتی ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی موذی حرکتوں سے پڑوسی ممالک تو کیا خود بھارت کے اندر رہنے والے مسلمان بھی محفوظ نہیں ہیں۔

 نہ تو خود امن سے رہتے ہیں نہ کسی کو امن سے رہنے دیتے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ مسلسل حالتِ دشمنی میں تو ہیں ہی، نیپال سے بھی چھیڑ چھاڑ کی اور ابھی وہ معاملہ ختم نہیں ہوا تھا کہ چین کے ساتھ پنجہ آزمائی کی کوشش کی

۔ پاکستان نے ہر مذموم کوشش کرنے پر بھارت کے دانت کھٹے کئے ہیں لیکن بے شرم دشمن کہاں باز آتا ہے۔ نیپال نے بھارت کا منہ کالا کر کے بھگایا اور چین نے تو بھارتی فوجیوں کی ایسی ٹھکائی کی کہ وہ ایک عرصے تک یاد رکھیں گے۔ 

اسی طرح ہر طرف سے تذلیل کے باوجود نہ تو موجودہ بھارتی قیادت کو شرم محسوس ہوئی نہ عبرت۔ چین سے مار بھی کھائی اور اب ہاتھ بھی جوڑ رہا ہے یعنی سو پیاز بھی اور سو جوتے بھی۔

چین نے بھارت کو متنازع علاقہ میں دخل اندازی پر تو وہاں سے بھگا دیا ہے لیکن چین کچھ اور تیاری بھی کر چکا ہے۔ امریکہ نے اسرائیل کے ملاپ سے بھارت کو چین کے خلاف استعمال کرنا چاہا لیکن لینے کے دینے پڑ گئے اور یوں اپنی اپنی جگہ امریکہ، اسرائیل اور بھارت تینوں کا نقصان ہوا۔

 اس تمام رسوائی اور پے درپے شکست کے باوجود بھارت نے نئی دہلی میں پاکستانی سفارتی عملے کے دو ارکان کو تشدد کا نشانہ بنایا اور ناپسندیدہ قرار دیتے ہوئے بھارت چھوڑنے کا حکم دیا اور اس طرح تمام سفارتی آداب و قوانین کی دھجیاں بکھیر دیں۔ 

اس کے ساتھ ساتھ ایل او سی پر پاکستان کے شہری علاقوں پر گولا باری کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ نام نہاد آپریشن کے نام پر کشمیری مسلمانوں کے گھروں میں زبردستی گھس کر تلاشی کا ڈرامہ ہوتا ہے۔ 

عمر رسیدہ اور بزرگ کشمیری مسلمانوں کو کورونا کے متاثرین قرار دیا جاتا ہے اور انہیں پکڑ کر قرنطینہ مراکز کے نام پر قائم عقوبت خانوں میں رکھا جاتا ہے جہاں علاج تو درکنار نہ کھانے کا خاطر خواہ انتظام ہے نہ صفائی کا۔ 

نام نہاد آپریشن اور تلاشیوں کے دوران کشمیری نوجوانوں کو دہشت گرد قرار دے کر گرفتار کیا جاتا ہے اور نامعلوم مقامات پر منتقل کر دیا جاتا ہے۔

ان بے گناہ گرفتار نوجوانوں کے بارے میں ان کے گھر والوں کو کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ ان کو کہاں رکھا گیا ہے اور ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جا رہا ہے۔ نام نہاد آپریشن اور تلاشیوں کے دوران بھارتی فوجی درندوں نے گزشتہ تین دنوں میں 18کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا۔ 

چونکہ سلسلہ جاری ہے اس لئے اس کالم کی اشاعت تک غاصب بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں شہید ہونیوالوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ دوسری طرف کورونا وائرس سے بھی مقبوضہ کشمیر میں جاں بحق ہونیوالے مسلمانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، تادم تحریر مرنے والوں کی تعداد 36ہو گئی ہے۔ 

ان مظالم پر دنیا کی مجرمانہ خاموشی بدستور قائم ہے۔ کہاں ہیں انسانیت کے دعویدار، کہاں ہے او آئی سی، کہاں ہیں انسانیت کے نام پر کروڑوں ڈالرز وصول کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیمیں؟

بھارت کو نریندر مودی نے تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ شائننگ انڈیا کا نعرہ لگانیوالوں کے ہاتھوں ہی بھارت اب ڈوبتا انڈیا بن رہا ہے۔ سرحدوں پر بھارت کی کمزور پوزیشن اور بھارتی جرنیلوں کی بڑھکوں کی قلعی کھل گئی ہے جس سے ظاہر ہوا کہ بھارت دفاعی طور پر محض ایک غبارہ ہے، حقیقت میں بھارت دفاعی طور پر وہ نہیں ہے جو ظاہر کیا جا تا رہا ہے۔

 بھارتی فوجی بشمول فضائی اور بحری افواج کے لڑنے کی سکت ہی نہیں رکھتے۔ مقبوضہ کشمیر میں اب تک متعدد فوجیوں نے خود کشیاں کی ہیں اور مودی سرکار ان فوجیوں کو چینی اور پاکستان فوجیوں کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے تو پھر انہوں نے مارہی کھانی ہے۔

یہ سب مودی سرکار کی متعصبانہ اور ناکام معاشی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ سفارتی سطح پر بھی اب بھارت کی پوزیشن بہت خراب ہو چکی ہے اور رہی سہی کسر کورونا نے پوری کر دی ہے۔ 

کورونا کے متاثرین میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور اموات کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ لاک ڈائون میں نرمی کے باوجود کارخانے اور کاروبار بند ہیں۔ وہ مزدور جو دور دراز علاقوں سے بڑے شہروں میں آکر ملازمت اور مزدوری کرتے تھے، وہ مشکل سے پیدل چل کر اپنے علاقوں کو واپس جا چکے یا جا رہے ہیں۔ 

ان تمام حالات سے اپنے عوام کی توجہ ہٹانے اور مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بربریت پر پردہ ڈالنے کے لئے مودی سرکار بلوچستان اور کے پی میں دہشت گردی کو ہوا دے سکتی ہے اور اس کے علاوہ کسی بھی وقت کوئی بھی شرارت کر سکتی ہے۔ 

اس لئے پاک فوج تو ہمہ وقت تیار ہے۔ حکومت ذاتی انا کے خول سے اب نکل آئے اور ملک و قوم کا سوچے۔ خطے میں حالات بہت نازک ہیں۔