آپ آف لائن ہیں
منگل22؍ذیقعد 1441ھ 14؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

فراغت کے دن ہوں، ایک ہاتھ میں کافی کا مگ ہو دوسرے ہاتھ میں کتاب ہو، راوی چین ہی چین لکھتا ہو، اور زندگی میں کیا چاہیے۔ فلسفی لوگ مگر ایسی زندگی کے خلاف ہیں، سچ پوچھیں تو وہ ہر قسم کی زندگی کے خلاف ہیں۔ فلسفیوں کے خیال میں اِس دنیا میں کوئی سچائی ایسی نہیں جس کے بارے میں ہمیں کامل اطمینان ہو سکے کہ یہ ہر قسم کے شک و شبہے سے پاک ہے، حتیٰ کہ ریاضی کے متعلق بھی ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ دو جمع دو چار ہوتے ہیں۔ ڈیوڈ ہیوم نامی ایک مردِ عاقل نے کہا تھا کہ ہم یہ مفروضہ قائم نہیں کر سکتے کہ کل سورج طلوع ہوگا چاہے ہزاروں لاکھوں برس سے ایسا ہی ہوتا آ رہا ہو۔ ہیوم صاحب منطق کے اعتبار سے شاید درست فرما رہے ہیں تاہم اگر انہیں سو ڈالر کی شرط لگانا پڑے تو وہ یقیناً سورج کے طلوع ہونے پر رقم لگائیں گے کہ منطق اور موصوف کی زوجہ دونوں کا یہی تقاضا ہوگا۔ اب تک آپ کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ بندہ آج کل تشکیک پسند فلسفیوں کی کتابیں پڑھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ بتانے کی نوبت اِس لیے پیش آئی کہ اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ ہمیں کون سی کتابیں پڑھنی چاہئیں، میں جواب دیتا ہوں کہ جو کتاب پڑھنے میں مزا آئے بس وہ پڑھیں۔ اِس جواب سے کچھ لونڈے ٹھلوے یہ مطلب نکالتے ہیں کہ شاید میں شہوانی کتب کا ذکر کر رہا ہوں۔ حاشا وکلا میرا یہ مطلب ہی؍ نہیں ہوتا ہے۔ میری مراد فلسفے کی اُن کتابوں سے ہوتی ہے جو دماغ کی کھڑکیاں کھول دیتی ہیں نہ کہ اُن کتابوں سے جن کی ورق گردانی کھڑکیاں دروازے بند کرکے کی جاتی ہے۔

فلسفہ پڑھنے کا لطف اِس لیے آتا ہے کہ جونہی آپ کسی فلسفی کے خیالات سے متاثر ہونے لگتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ اِس مردِ باصفا نے تو کائناتی مسائل کا کلیجہ ہی نکال کر رکھ دیا ہے تو اگلا فلسفی کمر کس کر میدان میں آجاتا ہے اور اپنے پیشرو کے بارے میں نہایت لطیف پیرائے میں سمجھاتا ہے کہ حضرت سے کہاں کہاں خیال کی لغزشیں ہوئیں! صوفی آگستائین سے شروع کرتے ہیں، پانچویں صدی کے اِس مفکر نے مسیحیت قبول کی اور پھر ’’اعترافات‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ اِس کتاب میں جہاں اُس نے اور بہت سی باتیں کی ہیں وہاں یہ بھی کہا کہ ریاضی کی سچائی بھی خدا کی مرہونِ منت ہے، یعنی خدا چاہے تو دو جمع دو پانچ بھی ہو سکتا ہے۔ جبر و قدر کے مسئلے پر بھی صوفی صاحب کا استدلال خاصا دلچسپ ہے جو مجھے بہت پسند ہے۔ آگستائین کہتا ہے کہ خدا وقت سے ماورا ہے، وقت کی بندش ہم انسانوں کے لیے ہے، ہماری دنیا میں وقت کا بہاؤ صرف آگے کی طرف ہے اِس لیے جب ہم اپنی مرضی سے کوئی فیصلہ کرتے ہیں تو اُس کے انجام سے بےخبر ہوتے ہیں، جبکہ خدا اُس سے آگاہ ہوتا ہے کیونکہ وہ وقت کے سمندر میں انسانوں کے ساتھ نہیں بہتا بلکہ اُس کے باہر ہوتا ہے۔ کسی اور کتاب میں یہی بات اِس انداز میں لکھی ہے کہ اگر ایک شخص دیوار کے اوپر بیٹھا ہو تو وہ بیک وقت دیوار کے دونوں طرف دیکھ سکتا ہے جبکہ دیوار کے پیچھے موجود لوگ یہ نہیں جان سکتے کہ دوسری طرف کیا ہے۔ اسی دلیل پر صوفی آگستائین اپنا مقدمہ کھڑا کرتا ہے اور کہتا ہے کہ انسان کو مختار سمجھے بغیر مذہب کا تصور جزا و سزا قابل قبول نہیں ہو سکتا اور یہی استدلال بعد میں بہت سے مسلمان مفکرین نے بھی دیا۔

آگستائین کو ہم تشکیک پسند فلسفیوں میں شمار نہیں کر سکتے۔ ڈیکارٹ کو کر سکتے ہیں۔ اِن صاحب نے تو گویا ہر بات پر ہی سوال اٹھا دیا حتیٰ کہ اپنی ذات پر بھی۔ ڈیکارٹ کا کہنا تھا کہ یہ بھی تو ممکن ہے کہ وہ کسی ایسے شیطان کی قید میں ہو جس نے اُس کے دماغ میں تمام خیالات مجتمع کر دیے ہوں، ایسے میں بظاہر اٹل سچائیاں بھی غلط ہو سکتی ہیں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اُس شیطان نے کوئی ایسا طلسم رچایا ہو جس سے جھوٹ ہمیں سچ لگتا ہو۔ اگر ڈیکارٹ کی یہ بات درست مان لی جائے تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ اس کے دماغ کو محبوس کرنے والا شیطان خاصا نالائق تھا جو ڈیکارٹ کو یہ سوچنے سے نہ روک سکا۔ جرمن فلسفی لائبنز کا فلسفہ کانٹ کی طرح کافی گنجلک ہے، اس کے پیچیدہ فلسفہ ’موناد‘ کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ بندہ کسی خوبصورت خاتون فلسفی کی اتالیقی میں آ جائے، ویسے تو یہ اوصاف حمیدہ کسی ایک ذات میں یکجا ہونا ناممکن سی بات لگتی ہے (حتیٰ کہ حمیدہ میں بھی) مگر کچھ خواتین میں خداوند نے بہرحال یہ صلاحیت رکھی ہے کہ وہ دقیق فلسفیانہ مسائل بغیر عقل و دانش کا استعمال کیے نہایت چابکدستی سے سلجھا دیتی ہیں۔ تشکیکی فلاسفہ کے دلائل کا جواب جان لاک نے خوب دیا۔ وہ کہتا ہے کہ اگر ہم محض اِس بنا پر ہر بات کو مشکوک سمجھیں گے کہ ہمارے پاس اشیا کا کبھی کامل علم نہیں ہو سکتا تو پھر ہم کہیں بھی نہیں پہنچ پائیں گے، اِس کی مثال اُس شخص کی ہے جو اپنی ٹانگوں کو استعمال کرکے چلنے پھرنے کے بجائے بیٹھا بیٹھا ہی اِس دنیا سے چلا جائے کیونکہ اُس کے پاس اڑنے کے لیے پر نہیں تھے۔ لاک تجربیت پسند تھا، وہ یہ بات مانتا تھا کہ ہمارا علم محدود ہے مگر جتنا بھی علم میسر ہے وہ زندگی گزارنے اور اس سے متعلق اخلاقی فیصلے لینے کے لیے کافی ہے۔ ڈیوڈ ہیوم نے بھی اِس تشکیکی فلسفے پر بہت دلچسپ کام کیا ہے، وہ کہتا ہے کہ ایسا کوئی طریقہ نہیں جس سے ہم حقیقت اور تخیل میں فرق کر سکیں، ماسوائے اس کے کہ ہم ایک کے مقابلے میں دوسرے پر زیادہ یقین رکھتے ہیں۔ ہیوم کہتا ہے کہ ہمارے پاس اِس دنیا کو حقیقی ماننے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں، اِس بات کو ثابت کرنے کے لیے ہمارے پاس کوئی ٹھوس عقلی دلیل ہو یا نہ ہو اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تشکیک پسندوں پر طنز کرتے ہوئے وہ لکھتا ہے کہ اگر اِن لوگوں کو اِس دنیا پر اتنا ہی شک ہے تو اِن میں سے کوئی دوسری منزل سے نیچے اترتے ہوئے دروازے کے بجائے کھڑکی کا استعمال کیوں نہیں کرتا!تشکیک کے فلسفے کی یہ بحث ایسے ہی ہے جیسے چلتی ہوئی ٹرین کی بوگی کے اندر دوڑ لگانا، کچھ بھی کر لیں ریل گاڑی سے آگے نہیں نکل پائیں گے۔ آج کل چونکہ کوئی کام نہیں سو بوگی میں دوڑ لگانے میں کوئی حرج نہیں!