آپ آف لائن ہیں
منگل20؍ذی الحج 1441ھ 11؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سائنس داں ماضی میں پیش آنے والی تباہی کی حقیقت جانے کے لیے تحقیقات کرنے میں سر گرداں ہیں ،اس ضمن میں ماہرین کو ساڑھے چھ کروڑ برس قبل زمین سے شہاب ِثاقب کے ٹکرائو کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کے ثبوت ملے ہیں۔ ان ثبوت سے یہ اندازہ لگا یا جارہا ہے کہ اس ٹکرائو کے سبب ہی دنیا سے ڈائنوسارز ختم ہوئےتھے ۔امریکی ریاست شمالی ڈکوٹا میں کھدائی کے دوران مچھلیوں اور درختوں کے فوسل دریافت کیے گئے ہیں جن پر وہ چٹانی اور شیشے کے ذرات موجود ہیں جو آسمان سے برسے تھے۔ان باقیات کے پانی میں غرقاب ہونے کے بھی ثبوت سامنے آئے ہیں جو کہ شہابِ ثاقب گرنے کے بعد اٹھنے والی دیوقامت لہروں کا نتیجہ ہو سکتے ہیں۔

یونیورسٹی آف کنساس کے ماہرین رابرٹ ڈیپامااور ان کےساتھیوں کا کہنا ہے کہ تانس کے مقام پر ہونےوالی اس کھدائی سے ان واقعات کی شاندار جھلک ملتی ہے جو شہاب ِثاقب کے زمین سے ٹکراؤ کےچند گھنٹوں کے دوران رونما ہوئے تھے۔ماہر ین کے مطابق جب 12کلو میٹر چوڑا شہابیہ اس مقام پر گرا ہوگاجہاں آج خلیج میکسیکو ہے تو اس سے اربوں ٹن پگھلی ہوئی چٹانیں ہر سمت پھیل گئی ہوں گی اور یہ ملبہ ہزاروں کلو میٹر کے فاصلے تک گیا ہو گا ۔تانس کے مقام پر موجود فوسل اُس وقت کی نشانی ہے جب یہ ملبہ اچھلنے کے بعد دوبارہ گرا اور اپنی راہ میں آنے والی ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لیتا گیا۔

یہ ملبہ مچھلیوں کے فوسل میں ان کے گلپھڑوں میں ملا جو ممکنہ طور پر سانس لینے کے عمل کے دوران ان کے جسم میں داخل ہواہوگا ۔علاوہ ازیں درختوں کے رکاز میں بھی اس ملبے کے ذرات ملے ہیں ۔ارضیاتی کیمیا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ذرات کا تعلق خلیج میکسیکو میںچکسولب کے نام سے موجود مقام سے ہے ۔اور ان کا مزید کہنا ہے کہ یہ ملبہ چھ کروڑ 57 لاکھ 60 ہزار برس قدیم ہے ۔یہ وہی وقت ہے جب شہاب ِثاقب زمین سے ٹکرایا تھا اور اس کے ثبوت دنیا کے دیگر مقامات سے بھی مل چکے ہیں ۔تانس سے جو باقیات دریافت ہوئی ہیں ان کو دیکھ کر سائنس دانوں نے اندازہ لگایا ہے کہ وہ پانی کی ایک بہت بڑی لہر میں بہہ کر آئی ہیں ۔

اگرچہ یہ بات قابل ِقبول ہے کہ شہاب ِثاقب ٹکرانے سے ایک بہت بڑا سونامی آیا تھالیکن اس لہر کو خلیج میکسیکو سے شمالی ڈکوٹا پہنچنے میں کئی گھنٹے لگے ہوں گے ۔محققین کا خیال ہے کہ دس یا گیارہ درجے کے زلزلے سے ملتی جلتی شاک ویو نےاس سونامی کے آنے سے کہیں پہلے علاقے کے سمندر میں تلاطم برپا کیا ہوگا اور یہی پانی بڑی لہر کی شکل میں زمین پر آیا ہو گا۔ یہ لہر اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو بہا کر لے گئی ہو گی اور ان چیزوں کو اس مقام پر جا پھینکا ہو گا جہاں وہ اب دریافت ہوئی ہیں۔ڈاکٹر ڈیپالما کے مطابق زمین پر چڑھنے والی لہر نے تازہ پانی کی مچھلیوں، فقاریہ جانوروں، درختوں، شاخوں، تنوں سمیت بہت سی چیزوں کو یہاں تہہ در تہہ بچھا دیا۔

اورسونامی کو اس مقام پر پہنچنے میں کم از کم 17 گھنٹے لگے ہوں گے لیکن سیسمک لہریں اور پھر سمندری لہر یہاں چند منٹوں میں ہی پہنچ گئی ہو گی۔ارضیاتی ماہر والٹر آلو ارز نے اس بات کی نشان دہی بھی کی ہے کہ زمین کے قدیم جغرافیائی ادوار میں چونے کی تہہ میں اریڈیئم دھات کثرت سے موجود ہے جو شہاب ثاقب اور شہابی پتھروں میں پایا جانے والا جزوی عنصر ہے۔اریڈیئم دھات کے ذرات تانس میں موجود باقیات سے بھی ملے تھے۔پروفیسر آلوارز کا کہنا ہے کہ جب ہم شہاب ثاقب کے زمین پر گرنے سے ڈائنو سارز کے دنیا سے ختم ہونے کے مفروضے کی بات کرتے تھے تو یہ اریڈیئم دھات کی موجودگی کی بنا پر کہتے تھے جو کسی شہاب ثاقب یا دم دار ستارے میں پائی جاتی ہے۔ 

تب سے ہم اس کے ثبوت بتدریج اکھٹے کر رہے تھے لیکن مجھے کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ ہم اس طرح کی جگہ تک رسائی حاصل کر سکیں گے جہاں اس وقت کے جانوروں کے فوسل بڑی تعداد میں موجود ہوں۔یونیورسٹی آف مانچسٹر سے تعلق رکھنے والے فل ماننگ کے مطابق یہ دنیا کی اہم جگہوں میں سے ایک جگہ ہے، آپ جانتے ہیں کہ اگر آپ کو ڈائنوسارز کے دنیا میں آخری دن کے بارے میں واقعی جاننا ہے تو اس کے لیے یہ ہی جگہ ہے۔

چکزولوب کا آتش فشائی عمل

12 کلومیٹر چوڑے پتھر نے 100 کلومیٹر تک زمین پر گڑھا بنا دیا جو 30 کلومیٹر گہرا ہے۔یہ گڑھا پھر منہدم ہوگیا اور آتش فشاں کے دہانے کو 200 کلومیٹر تک پھیلایا اور چند کلومیٹر گہرائی تک محدود کیا گیا۔آج اس آتش فشاں کا زیادہ تر حصہ ساحل میں 600 میٹر زمین کی تہہ میں دفن ہو گیا ہے۔زمین پر اس کو چونے کی چٹانوں نے ڈھانپ لیا ہے۔سائنسدانوں نے حال ہی میں یہاں کھدائی کی ہے، تاکہ وہ اس آتش فشاں کی ساخت اور اس کے بننے کی وجوہات جان سکیں۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید