• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بینک ملازم کی سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

سندھ ہائی کورٹ نے کراچی میں بینک ملازم الطاف حسین کی سزا کی معطلی کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران مجرم کی رہائی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

عدالتِ عالیہ نے دورانِ سماعت مجرم کی بقیہ 3 ماہ کی سزا کی معطلی کی مخالفت پر نیب پراسیکیوٹر پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔

جسٹس عمر سیال نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ کس قانون کے تحت صرف 3 ماہ کی سزا معطل نہیں کی جا سکتی؟

قومی احتساب بیورو (نیب) کے پراسیکیوٹر نے عدالت کو جواب دیا کہ مجھے نیب آفس سے ہدایت ملی ہے کہ اس کی مخالفت کروں۔

جسٹس عمر سیال نے ان سے پوچھا کہ نیب کی ہدایت پر عمل درآمد کرو گے یا پھر عدالت کی معاونت کرو گے؟

انہوں نے استفسار کیا کہ نیب کی کس قسم کی ہدایات ہیں، اگر کیس بنتا ہی نہیں تب بھی مخالفت کرو گے؟ بہت افسوس ہوتا ہے کہ نیب کی طرف سے شرم ناک ہدایات دی جاتی ہیں۔

سندھ ہائی کورٹ نے کہا کہ غلط بیانی نہیں چلے گی ورنہ آپ کے خلاف اسٹرکچر پاس کریں گے، چیئرمین نیب اور ڈی جی نیب کو جا کر بتا دیں۔

یہ بھی پڑھیئے: جعلی بینک ٹرانزکشن، بینک کا سابق ملازم ملوث نکلا

مجرم کے وکیل ارشد نوری ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ احتساب عدالت نے جرم ثابت ہونے پر بینک ملازم کو 14 سال سزا سنائی، سندھ ہائی کورٹ نے مجرم کی سزا 14 سال سے کم کر کے 7 سال کر دی تھی۔

انہوں نے استدعا کی کہ مجرم 6 سال 9 ماہ جیل میں گزار چکا ہے، لہٰذا اسے رہا کرنے کا حکم دیا جائے۔

عدالتِ عالیہ نے مجرم کے وکیل کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

قومی خبریں سے مزید