آپ آف لائن ہیں
جمعرات 15؍ ذی الحج 1441ھ6؍اگست2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مرتب: محمّد ہمایوں ظفر

یہ سّچا واقعہ میرے دوست کے ماموں کے ساتھ پیش آیا۔ اُن ہی کی زبانی پیشِ خدمت ہے۔

’’1977ء میں، مَیں میجر کی حیثیت سے لاہور میں تعینات تھا۔ مُلک بھر میں اپوزیشن جماعتوں کی تحریک عروج پر تھی، تو میں بوجوہ استعفیٰ دے کر کراچی آگیا۔ اب مسئلہ نوکری کا تھا۔ کئی جگہ درخواست دی، مگرکوئی جواب نہ آیا۔ ایک سال گزر گیا، تو پریشانی بڑھنے لگی۔ ایک دن میرے ایک قریبی دوست نے مجھ سے کہا کہ ’’خان! تم نے روزگارکے حصول کے لیے بہت کوششیں کیں، لیکن اس کا کوئی روحانی حل تلاش نہیں کیا۔ میرے ساتھ چلو، میں تمہیں ایک بابا، سمندری بابا سے ملواتا ہوں، لوگ دُور دُور سے اُن سے مرادیں پانے آتے ہیں۔‘‘ میں ان باتوں کو نہیں مانتا تھا، مگر دوست کے بے حد اصرار پر یہ سوچ کر چل دیا کہ دیکھتے کیسے بابا ہیں۔ اُن دنوں سمندری بابا کراچی میں سی ویو کے ایک خالی پلاٹ پر رہتے تھے۔ جب ہم وہاں پہنچے، تو دیکھا کہ بابا جی ایک اونچے چبوترے پر بیٹھے ہیں اور بہت سے لوگ ان کے گرد جمع ہیں۔ ب

ابا بہت جلال میں تھے اور لوگوں سے مسلسل صرف یہی کہے جارہے تھے کہ ’’جائو، میرے پاس کچھ نہیں۔ جائو، بھاگ جائو۔‘‘ مگر جب تک لوگ بابا سے دُعا نہ کروالیتے، وہاں سے ہٹتے نہیں تھے۔ مَیں اور میرا دوست دُور کھڑے سب کچھ دیکھ رہے تھے۔ معاً بابا کی نظر ہم پر پڑی، تو انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے ہمیں بلایا۔ ہم حیران تھے کہ بابا، تو کسی کی بات نہیں سُن رہے، کسی کی طرف نہیں دیکھ رہے، تو ہم پر ان کی کیسے نظر پڑگئی۔ بہرحال، ہم ڈرتے ڈرتے اُن کے پاس گئے، تو وہ چبوترے سے اُتر آئے اور کہا۔ ’’بولو برخوردار! کیوں آئے ہو؟‘‘ قبل اس کے کہ میں کچھ بولتا، میرا دوست بول پڑا۔ ’’بابا! ان کی نوکری کا مسئلہ ہے، بہت پریشان ہیں، کچھ رہنمائی کریں۔‘‘ بابا نے غور سے مجھے دیکھا اور آنکھیں بند کرکے سر نیچے جُھکا لیا۔ کچھ دیر بعد آنکھیں کھولیں اور بولے ’’ہوجائے گا، ایک ہفتے تک مسئلہ حل ہوجائے گا۔‘‘ پھر خاموش ہوگئے۔ مَیں نے دوست کو اشارہ کیا کہ چلو اب چلتے ہیں۔ ہم نے اجازت چاہی، تو بابا بولے ’’کھانے کا وقت ہوگیا ہے، کھانا کھا کرجائو۔‘‘ ہم نے بہت منع کیا، مگر بابا کے بے حد اصرار پر ہم ان کی کٹیا کے اندر آگئے۔ وہاں دو کمرے تھے، ایک سامنے اور دوسرا اس کے پیچھے۔ 

ہم وہاں بچھی چٹائی پر بیٹھ گئے۔ کچھ دیر بعد بابا اندر سے گرم گرم دال اور روٹیاں لے آئے۔ اس قدر لذیذ دال تھی کہ ہم فوراً ہی چٹ کرگئے، تو بابا اور لے آئے۔ ہم مزے لے لے کر کھاتے رہے اور بابا دیکھتے رہے۔ جب ہم سیر ہوکر کھا چکے، تو بابا سے اجازت طلب کی۔ بابا بھی اٹھ کر ہم سے پہلے آگے بڑھ گئے۔ اس دوران میرے دوست کو نہ جانے کیا سوجھی، اچانک ہی اندر والے کمرے میں جھانکنے لگا۔ جب پلٹا تو اس کی رنگت اُڑی ہوئی تھی اور چہرے پر ہوائیاں اُڑ رہی تھیں، اس نے دروازے کی طرف دوڑ لگاتے ہوئے قریباً چلّاتے ہوئے کہا ’’نکل یہاں سے۔‘‘

بابا باہر ہمارے منتظر تھے، ہم نے ان سے اجازت لی اور موٹر سائیکل کی طرف لپکے۔ مجھے اس کا خوف زدہ چہرہ دیکھ کر تشویش ہورہی تھی، مَیں نے بے تابی سے اس سے پوچھا کہ ’’کیا ہوا، ایسا کیا دیکھ لیا کمرے میں؟‘‘ وہ بولا ’’خان! اللہ کی قسم کمرا بالکل خالی تھا، نہ برتن نہ روٹیاں، نہ توا۔ بھاگ یہاں سے۔‘‘ وہ بُری طرح سہم گیا تھا۔ خیر، بات آئی گئی ہوگئی۔ میں نے اپنے دوست کو یہ نہیں بتایا تھا کہ میں نے لندن کے ایک نجی بینک میں بھی درخواست دے رکھی تھی۔ پورے ایک ہفتے بعد ان کا خط آیا کہ آپ ویزا لگواکر فوراً پہنچیں۔ مَیں نے دوست کو فون کرکے بتایا، تو وہ بولا ’’چلو بابا کا شکریہ ادا کرآتے ہیں۔‘‘ لیکن وقت کم تھا، کئی ضروری کاغذات تیار کرنے میں کافی وقت لگ گیا، جس کی وجہ سے بابا کے پاس جانے کا موقع ہی نہیں ملا اور مَیں اگلے ہی ہفتے لندن چلا آیا۔

ایک سال بعد واپس آیا، تو دوست کو لے کر بابا کے پاس گیا۔ مگر بابا وہاں نہیں تھے۔ لوگوں سے پوچھنے پر پتا چلا کہ وہ کسی کو بتائے بغیر نہ جانے کہاں چلے گئے۔ مجھے بہت افسوس ہوا، بہت معلوم کیا، مگر ان کا پتا نہ چل سکا۔ کئی سال بعد معلوم ہوا کہ بابا ملیر کے علاقے میں چلے گئے تھے، وہیں ان کا انتقال ہوگیا،کچھ عرصے بعد ان کے ایک عقیدت مند نے ان کا شان دار مزار بنوادیا۔ جہاں روزانہ دال، روٹی کا لنگر تقسیم ہوتا ہے اور لوگ سکونِ قلب کے لیے جاتے ہیں۔ ان کا اصل نام سیّد غلام نبی تھا اور پنجاب کے کسی علاقے سے آئے تھے۔ شاید ان کی ڈیوٹی یہاں لگائی گئی تھی۔‘‘ (محمد یاسین اعوان، ڈیفینس، کراچی)

ناقابلِ اشاعت نگارشات اور اُن کے تخلیق کاربرائے صفحہ ’’ناقابلِ فراموش‘‘

٭کراچی کے لٹیروں کی دیدہ دلیری (ڈاکٹر محمد فیضان خان کراچی) ٭میری زندگی کا تجربہ (سید شاہ رخ حسین، نارتھ ناظم آباد، کراچی)نیت صاف (محمد طلحہ یاسر، لاہور) ٭امیر حمزہ کم سِن ترین لیکچرار کیسے بنا؟ (صوبیدار (ر) محمد یوسف خان عباسی، رشید پلازا، راول پنڈی) ٭حقیقت پر مبنی کہانی (عرفان علی رحم دل، راول پنڈی) ٭4اپریل 1979ء (سیماب گل) ٭ناکام محبت (مقبول حسین، تحصیل تلہ گنگ، ضلع چکوال) ٭سبزی والا (پروفیسر ظفر، گلشنِ معمار، گڈاپ ٹائون،کراچی) ۔

سُنیے…آپ سے کچھ کہنا ہے…!!

اگر آپ کے ذہن میں کوئی ایسا واقعہ محفوظ ہے، جو کسی کردار کی انفرادیت، پُراسراریت یا واقعاتی انوکھے پن کی بِنا پر قارئین کے لیے دل چسپی کا باعث معلوم ہو، تو فوراً قلم اٹھائیے اور اس صفحے کا حصّہ بن جائیے۔ یہ واقعات قارئین کے شعور و آگہی میں اضافے کے ساتھ اُن کے لیے زندگی کا سفر آسان کرنے میں بھی ممدومعاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ واقعات بھیجنے کے لیے تحریر کا پختہ ہونا ضروری نہیں، صرف سچّا ہونا لازم ہے۔ نیز، اپنا نام و پتا بھی لکھیے تاکہ رابطے کی ضرورت محسوس ہو، تو رابطہ کیا جاسکے۔ ہمیں اپنی تحریریں اس پتے پر بھیجیں۔

ایڈیٹر، ’’سنڈے میگزین‘‘ صفحہ ناقابلِ فراموش، روزنامہ جنگ، شعبہ میگزین، اخبار منزل، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی۔