آپ آف لائن ہیں
جمعہ29؍محرم الحرام 1442ھ 18؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

خواتین وزیر، منشور، پالیسی اور نوجوان؟

کمال ہوگیا اس د فعہ تو، اقوام متحدہ کا خواتین سے متعلق اجلاس میں 6 ہزار کے قریب خواتین شامل ہوئیں بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ خواتین و حضرات شامل ہوئے کہ یہ پہلا موقع تھا کہ مرد تقریباً برابر کی تعداد میں شامل تھے۔ پاکستان سے صرف دو افراد پر مشتمل وفد تھا۔ خاور ممتاز چیئرپرسن ویمن کمیشن اور سیکرٹری انسانی حقوق وفاق۔پہلے تو یواین میں متعین پاکستانی وفد نے ان دونوں کے ساتھ، پرانا کھیل کھیلنا چاہا اور کہا کہ اس سیشن کو ہم خود دیکھ لیں گے،آپ جہاں چاہیں امریکہ کی سیر کریں۔ انہیں کیا خبر تھی کہ یہ چیئرپرسن یوں باتوں میں نہیں آئے گی۔ وفد کے دونوں اراکین کی ضد پر کہ ہم پورے دس دن کے سیشن میں یہیں رہیں گے اور ساری سفارشات میں شریک ہوں گے بس پھر کیا تھا پاکستانی سفارت کار کو خاموش ہونا پڑا۔
دراصل ایجنڈا ہی ایسا تھا کہ اس میں پاکستان سے متعلق سفارشات دیئے بغیر کام نہیں بننا تھا۔ ہرچند ترقی پذیر ممالک کی فہرست میں پاکستان کا146 واں نمبر ہے اور یہ بھی معلوم تھا کہ کانگو جیسے ملک میں بھی تعلیم اور صحت میں پاکستان سے زیادہ خرچ کیا جاتا ہے۔ وہاں پاکستان کی عورتوں کی حالت زار ساری دنیا کو معلوم ہونے کے باوجود یہ تو بتانا تھا کہ ہرچند ہم نے قبائلی خواتین میں عورت کو طلاق کا حق دیا ہوا ہے مگر نکاح کے وقت اس حق پہ لکیر پھیر دی

جاتی ہے۔ تیزاب پھینکنے کو جرم قرار دیئے جانے کے باوجود، آج بھی پندرہ روپے میں تیزاب کی بوتل ہر جگہ مل جاتی ہے۔ اگرچہ قانوناً16 سال سے کم عمر کی لڑکی کی شادی نہیں کی جا سکتی ہے مگر ذرا دیہات کی طرف نکل جائیے 13 سال کی لڑکی کی عموماً شادی کر دی جاتی ہے۔ ان معاملات کو میڈیا پر لایا ہی نہیں جاتا ہے، نہ بحث کی جاتی ہے اور نہ کوئی پبلسٹی کہ یہ معلوم ہو کہ آخر شعور کیسے بیدار ہوتا ہے۔ نتیجہ کیا ہے کسی کالج میں جاکر لڑکے، لڑکیوں سے پوچھو کہ نئے قوانین کے بارے میں آپ کو کچھ معلوم ہے وہ فوراً انکار میں سر ہلا دیں گی۔ اب جبکہ انتخابات سر پر ہیں۔ پوری قوم سیاستدانوں سے پوچھے، سارے دانشور اور پڑھے لکھے لوگ پوچھیں کہ آپ کی تعلیمی پالیسی کیا ہو گی۔ آپ کی انسانی حقوق کی پالیسی کیا ایسی ہی ہوگی جیسی کہ اب چل رہی ہے۔ جہاں ہندوؤں کی شادی کا کوئی قانون نہیں ہے۔ ان کے مُردے جلانے کے لئے کوئی جگہ مقرر نہیں ہے۔ سوارا جیسی رسموں کی آڑ میں 3 سال کی بچی 80 سال کے بوڑھے کے بدلِ نکاح میں دے دی جاتی ہے۔ کوئی ثقافتی پالیسی نہیں ہے۔ اس لئے ڈانس اور دھمال میں کوئی فرق نہیں کیا جاتا ہے۔ کلاسیکی رقص کو سرکاری تقریبات میں پیش نہیں کیا جاتا ہے۔ سارے میڈیا فضول اچھل کود کو تسلیم کرتے ہیں مگر کلاسیکی موسیقی، رقص اور گائیکی کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔ البتہ نجی محفلوں میں مجرا بھی دکھاتے ہیں اور لطف بھی لیتے ہیں۔
تعلیمی پالیسی میں آج تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ اُردو کی کتاب ہو کہ معاشرتی علوم کی کہ اسلامیات کی سب کتابوں میں اسلامیات اور اسلامی شخصیات کے بارے میں مضامین ہوتے ہیں۔ محمد بن قاسم کے بارے میں سب کچھ معلوم ہونے کے باوجود، یہ غلط بیانی جاری ہے کہ اسلام محمد بن قاسم کے ہونے کے بعد برصغیر میں آیا تھا۔ آج تک طے نہیں ہوسکا کہ مغل حملہ آور تھے کہ اس سرزمین کے باشندے تھے۔ اگر اس سرزمین سے عشق کرتے تھے تو آخر کوئی یونیورسٹی کیوں نہیں بنائی۔
ہم اس وقت پاکستان کی معیشت کو دیکھیں تو ہمارے ملک میں ہیوی کمپلیکس چین نے اور اسٹیل مل روس نے لگا کر دی۔ ہمارے رؤسا نے ٹاٹا کی طرح کوئی مشینری بنانے کا کارخانہ نہیں لگایا۔ انگریز اگر ایک لائن کی ٹرین سروس فراہم نہ کرکے جاتے تو ہم سے یہ بھی نہ ہونا تھا۔ یہیں ہمیں توانائی کی پالیسی کی ضرورت یاد آجاتی ہے۔ ہمارے پاس سمندر ہے صحرا ہے اور دریا ہیں علاوہ ازیں بے پناہ کوئلہ ہے۔ ان وسائل کا ہم نے فائدہ اُٹھایا ہو۔ بچوں سے جبری مشقت لینے کے خلاف قانون پاس ہونے کا کیا فائدہ جب رؤسا کی بیگمات کے ساتھ چھوٹی بچیاں ان کے بچے پکڑے ہوئے ہوتی ہیں اور ہر ورکشاپ میں ”چھوٹا“ ہی کام کررہا ہوتا ہے۔
ہرچند نوجوانوں کو ٹکٹ دینے کی بات ہو رہی ہے مگر وہ پورا محکمہ اور عمارات جو نوجوانوں کی پالیسی لائن کے لئے بنے تھے اس پر ذرّہ برابر عمل نہیں ہوا۔ دوسرے ملکوں میں کمپیوٹر اور فنی تعلیم مفت دی جاتی ہے۔ اس شرط پر کہ جب وہ ملازم ہو جائیں گے تو ان کی تنخواہ میں سے دو فی صد تربیت دینے والے ادارے کو دیئے جائیں گے۔ وہ ادارے ملازمت کے حصول میں بھی مدد دیتے ہیں اور یوں نوجوان لڑکے لڑکیاں مارے مارے نہیں پھرتے۔
اور تو اور پاکستان کی معیشت کی بڑی بنیاد زراعت کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔ جنوبی اور شمالی پنجاب کے گنّے کی ایک ہی قیمت دی جاتی ہے۔ یہی کپاس کا معاملہ ہے مگر شوگر ملوں والے اور کپڑے کی ملوں والے تو ہمارے سیاست دان ہی ہیں۔ ان کی ایک اور فیکٹری اس الیکشن کے بعد لگ جائے گی پالیسی کی کیا ضرورت ہے!