• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانوی وزیراعظم کا ڈیجیٹل شاخت قانون پر بڑا یوٹرن، یہ اب لازمی نہیں اختیاری ہوگی

تصویر سوشل میـڈیا۔
تصویر سوشل میـڈیا۔

برطانوی وزیراعظم نے ڈیجیٹل شاخت کے قانون کے نفاذ پر ایک بڑا یوٹرن لے لیا، لازمی ڈیجیٹل آئی ڈی کے اپنے منصوبوں کو ترک کرنے کے کیساتھ لیبر حکومت کو مختلف حلقوں کی طرف سے تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے۔

وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے برطانیہ میں کسی شخص کے کام کرنے کے حق کی تصدیق کے لیے ڈیجیٹل شناخت کو لازمی قرار دے کر غیر قانونی امیگریشن کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کا عہد کیا تھا۔

لیکن وہ وزیراعظم بننے کے بعد سے 13ویں مرتبہ اہم فیصلے پر یوٹرن لینے پر مجبور ہوئے ہیں، انہوں نے عوامی ردعمل کے بعد شناختی اسکیم کے لازمی عنصر کو ختم کر دیا ہے جس کے بعد ڈیجیٹل آئی ڈیز اب اختیاری ہوں گی۔

تاہم 2029 میں متعارف کرائے جانے کے بعد ان پر عملد رآمد محدود پیمانے پر شروع ہونے کی توقع ہے، کارکنوں کو اپنی شناخت کی ڈیجیٹل طور پر تصدیق کے لیے دیگر دستاویزات استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔

اسکیم کے دیگر تمام پہلوؤں کو رضاکارانہ طور پر مقرر کیا گیا، یعنی برطانوی شہریوں کو متعارف کرائے جانے پر انہیں بالکل بھی سرکاری ڈیجیٹل آئی ڈی کو اپنانا نہیں پڑے گا۔

شیڈو کیبنٹ آفس کے وزیر مائیک ووڈ، ٹوری جسٹس کے ترجمان رابرٹ جینرک، شہری آزادی کے گروپ بگ برادر واچ کی ڈائریکٹر سلکی کارلو سمیت کئی قد آور شخصیات نے کھل کر اس یو ٹرن پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔

برطانیہ و یورپ سے مزید