آپ آف لائن ہیں
ہفتہ24؍ذی الحج 1441ھ15؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

انسان مر جاتا ہے مگر اُس کے الفاظ زندہ رہتے ہیں۔ آپ ابن صفی اور مظہر کلیم کی مثال لے لیں، یہ دونوں پاکستانی مصنف ہمارے درمیان موجود نہیں مگر ان کی تحریر کردہ ’’عمران سیریز‘‘ آج بھی ہاتھوں ہاتھ بک رہی ہے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے اسرار احمد المعروف ابن صفی نے ’’عمران سیریز‘‘ کے نام سے جاسوسی ناول لکھنے کا سلسلہ شروع کیا اور جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے مظہر کلیم نے اسے آگے بڑھایا۔ ابن صفی کی زندگی کا سفر 26جولائی 1980کو تمام ہوا جبکہ مظہر کلیم 26مئی 2018کو وفات پا گئے۔ 30سے 50سال کی عمر تک کے پاکستانیوں میں سے شاید ہی کوئی ایسا ہو جس نے بچپن میں عمرو عیار اور ٹارزن کی کہانیاں نہ پڑھی ہوں یا پھر عمران سیریز کا مطالعہ نہ کیا ہو۔ ان جاسوسی ناولوں میں ڈرامہ، سنسنی اور سائنس فکشن سمیت سب کچھ پڑھنے کو ملتا۔ اس سیریز میں بعض ایسی اصطلاحات اور تراکیب استعمال کی گئیں جو تب تک کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھیں۔ اسی طرح ’’عمران سریز‘‘ میں ایسے عجیب و غریب تصورات پڑھنے کو ملتے جن سے عقل دنگ رہ جاتی اور انسان سوچتا کہ کیا عملاً ایسا ہو سکتا ہے لیکن پھر یہ سب باتیں سچ ثابت ہو جاتیں۔ مثال کے طور پر نوے کی دہائی میں جب پاکستان میں کمپیوٹر کا تصور ہی محال تھا اگر کوئی یہ دعویٰ کرتا کہ نیٹ ورک کے ذریعے نہ صرف مختلف کمپیوٹرز کو منسلک کرکے جوڑا جا سکتا ہے بلکہ ’’ماسٹر کمپیوٹر‘‘ کے ذریعے دیگر کمپیوٹرز کو کنٹرول بھی کیا جا سکتا ہے، تو یہ بات سائنس فکشن کے طور پر بھی ہضم نہ ہوتی مگر ’’عمران سیریز‘‘ نے یہ انوکھا تصور پیش کیا اور پھر آئی ٹی ماہرین نے یہ سب کر دکھایا۔ یوں تو ’’عمران سیریز‘‘ میں جولیانہ، کیپٹن شکیل، صفدر سعید، تنویر اشرف، صالحہ، لیفٹیننٹ صدیقی، لیفٹیننٹ چوہان، سارجنٹ نعمانی، گل رُخ اور سلیمان سمیت بیشمار کردار ہیں مگر اس سیریز کا مرکزی کردار اور روح رواں عمران ہے جو ایکس ٹو کے نام سے جانا جاتا ہے۔ عمران جو آکسفورڈ یونیورسٹی لندن کا پڑھا لکھا ہے، یوں لگتا ہے جیسے پڑھائی لکھائی نے اس کا کچھ نہیں بگاڑا۔ یہ ایک ایسا کھلنڈرا، شریر، لاپروا، لااُبالی اور غیرذمہ دار انسان ہے جو کسی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیتا۔ عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان کے مزاج میں تبدیلی آتی ہے مگر ہمارے ہیرو عمران نے تبدیل نہ ہونے کی قسم کھائی ہے۔ عمران کی شخصیت اس قدر سدا بہار ہے کہ وہ نہ تو بوڑھا ہوتا ہے اور نہ ہی گزرتے وقت کیساتھ اس کی کشش اور جاذبیت ماند پڑتی ہے۔ عمران نہ صرف مارشل آرٹ کا ماہر ہے بلکہ جمناسٹک اور میک اپ کرکے چہرے بدلنے کے فن میں بھی کوئی اس کا ثانی نہیں۔ ویسے تو وہ غیرسنجیدہ اور نٹ کھٹ محسوس ہوتا ہے اور ہر بات کو ہنسی مذاق میں اُڑا دیتا ہے مگر جب اسے کوئی ٹاسک پورا کرنے کو کہا جاتا ہے تو پھر نہ صرف اس پر سنجیدگی طاری ہو جاتی ہے بلکہ اس کی خوابیدہ صلاحیتیں بیدار ہوجاتی ہیں اور یوں لگتا ہے جیسے اس میں بجلیاں بھر دی گئی ہوں۔ اگرچہ عمران کی ٹیم میں شامل افراد بھی باصلاحیت ہیں مگر ہیرو کا کردار ادا کرنے والا عمران تو دنیا کے ہر مسئلے سے نمٹنا جانتا ہے۔ بظاہر تو یہ جاسوسی ناول ہیں مگر عمران کا پالا ہر طرح کے مسائل اور مشکلات سے پڑتا ہے، کبھی اسے سفارتی محاذ پر لڑنا پڑتا ہے، کبھی اسے معیشت کو تباہ کرنے کے لئے کی جا رہی عالمی سازشوں کو ناکام بنانا ہوتا ہے تو کبھی اسے کرپٹ سیاستدانوں اور نااہل سرکاری افسروں کو سبق سکھانے کا ٹاسک دیا جاتا ہے۔ اس سیریز کے ہیرو عمران کی ڈکشنری میں ناکامی کا لفظ تو جیسے ہے ہی نہیں۔ وہ جہاں، جس میدان میں قدم رکھتا ہے، کامیابیاں اس کے قدم چومتی ہیں اور ہر مشن سے کامیاب لوٹتا ہے۔ بعض اوقات وہ اپنی علت اور جبلت کے ہاتھوں مجبور ہوکر بہت بڑی غلطی کر جاتا ہے، دشمن اس کی بیوقوفی سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے حاوی ہو جاتا ہے اور یوں لگتا ہے جیسے اس بار عمران کو شکست فاش ہو جائے گی اور اس کا قصہ تمام ہو جائے گا لیکن اچانک عمران کوئی ایسی چال چلتا ہے کہ صورتحال یکسر بدل جاتی ہے۔ ’’عمران سیریز‘‘ کے ناولوں کے نام بھی حقیقی زندگی، حقیقی کرداروں اور حقیقی صورتحال سے نہایت قریب محسوس ہوتے ہیں اور بعض اوقات یوں لگتا ہے جیسے یہ تو ہماری کہانی ہے۔ مثال کے طور پر ’’پُراسرار چیخیں‘‘ کے نام سے لکھا گیا ناول سامنے آتا ہے تو گمان ہوتا ہے کہ ’’عمران سیریز‘‘ کا ہیرو عمران بھی چیخیں نکلوانے کا شوقین رہا ہوگا۔ اسی طرح ایک ناول ’’بھیانک آدمی‘‘ کے نام سے لکھا گیا، میرے ذہن میں بھی کئی بھیانک افراد کے نام آتے ہیں مگر آپ یہ پڑھتے ہوئے اس شخص کا نام تصور میں لاسکتے ہیں جسے آپ’’بھیانک ترین‘‘ سمجھتے ہیں۔ ایک اور ناول کا نام ہے ’’دیوانگی کا سمندر‘‘۔ گاہے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم سب دیوانگی کے اس سمندر میں غوطے کھا رہے ہیں اور جب کبھی منہ باہر نکالتے ہیں تو ایک ہی نام زبان پر آتا ہے ’’عمران‘‘۔ ایک ناول ’’گیند کی تباہ کاری‘‘ کے نام سے بھی لکھا گیا جسے پڑھ کر لگتا ہے کہ گیند اور بلے کی تباہ کاریوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ’’عمران سیریز‘‘ کا ایک مشہور ناول ہے ’’عمران کا اغوا‘‘ جس میں ہیرو عمران کو یرغمال بنا لیا جاتا ہے۔ سوچتا ہوں افسانے بھی کیسے حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں۔

مجھے آج بھی وہ معصوم اور سادہ لوح کلاس فیلو یاد آتا ہے جس نے ’’عمران سیریز‘‘ پڑھنا شروع کی مگر جب تک وہ ایک ناول ختم کرتا، دوسرامارکیٹ میں آچکا ہوتا۔ ایک روز پوچھنے لگا، یار یہ عمران سیریز کب ختم ہوگی؟ میں تب عمران سیریزسے ترقی پاکر نسیم حجازی کے ناولوں کا رسیا ہو چکا تھا۔ اپنے معصوم دوست کے سوال پر میں نے ہنستے ہوئے کہا، دو ہی صورتوں میں ’’عمران سیریز‘‘ کا خاتمہ ممکن ہے یا تو تم بڑے ہو جائو یا پھر عمران کے جادوئی مگر من گھڑت اور فرضی کارنامے لکھنے والا مصنف دی اینڈ کردے۔ افسوس نہ ہم بڑے ہوتے ہیں نہ ’’عمران سیریز‘‘ کی جھوٹی کہانیوں سے قوم کو بیوقوف بنانے والے دی اینڈ کرتے ہیں۔