آپ آف لائن ہیں
بدھ21؍ذی الحج1441ھ12؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بچوں کے سامنے بھی جھوٹ بولنا منع ہے

تفہیم المسائل

سوال: کیا بچوں کو سمجھانے کے لیے جھوٹ بولا جاسکتا ہے؟ (سید سعد علی،کراچی)

جواب: جھوٹ بولنا ممنوع اور حرام ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (۱)’’بے شک، سچ نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور ایک شخص سچ بولتا رہتا ہے، حتیٰ کہ وہ (اللہ کے ہاں) صدیق لکھا جاتا ہے اور ایک شخص گناہ کرتا چلا جاتا ہے اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتا ہے اور ایک شخص جھوٹ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے ہاں کذّاب لکھا جاتا ہے، (صحیح بخاری:6094)‘‘۔ (۲)’’ حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں: خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: جس نے اپنے بچے سے کہا :آئو! یہ لو، پھر اُسے کچھ نہ دیا تو یہ جھوٹ ہے ،(مسند احمد:9836)‘‘۔ (۳) عبداللہ بن عامرؓ بیان کرتے ہیں کہ انہیں اُن کی ماں نے ایک دن بلایا اور رسول اللہ ﷺ ہمارے گھر تشریف فرما تھے ،اُن کی ماں نے کہا: آئو یہ لو، تو رسول اللہ ﷺ نے اُن سے پوچھا: تم انہیں کیا دینا چاہتی تھیں، انہوں نے عرض کی: میں اُسے کھجور دیتی، تو رسول اللہ ﷺ نے اُن سے فرمایا: اگر تم انہیں (آنے پر) کوئی چیز نہ دیتیں تو تم پر ایک جھوٹ لکھا جاتا ،(سنن ابودائود:4991)‘‘۔ البتہ کسی عظیم تر دینی یا ملی مصلحت یا کسی بے قصور کی جان بچانے کے لیے شریعت نے خلافِ واقعہ بات کہنے کی اجازت دی ہے۔ اُمِّ کلثوم بنتِ عقبہ ؓبیان کرتی ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جھوٹا وہ نہیں ہے جو دو آدمیوں کے درمیان صلح کرائے اور (ایک فریق کو )اچھی بات کہے اور (دوسرے فریق کی طرف) اچھی بات منسوب کرے، ابن شہاب کہتے ہیں: میں نے نہیں سنا کہ رسول اللہ ﷺ کسی مسئلے میں سوائے تین مواقع کے کوئی خلافِ واقعہ بات کہنے کی رخصت دیتے ہوں :(۱) جنگ ،(۲) دو آدمیوں کے درمیان صلح کرانا اور (۳)شوہر کابیوی کی دلداری کے لیے اظہارِ محبت میں مبالغہ کرنااور بیوی کا شوہر کی محبت حاصل کرنے کے لیے اظہارِ محبت میں غلبہ کرنا ، (صحیح مسلم:2605)‘‘۔

خلاصۂ کلام یہ کہ بچوں کے سامنے جھوٹ نہیں بولنا چاہیے ، اس سے بچوں کی نظر میں والدین کا کردار مشتبہ ہوتا ہے اور ماں باپ کی دیکھا دیکھی بچے بھی جھوٹ بولنے لگتے ہیں۔