آپ آف لائن ہیں
جمعرات 22؍ ذی الحج 1441ھ13؍اگست2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

میں نے اپنے گزشتہ کالموں میں تحریر کیا تھا کہ کورونا وائرس کے بعد دنیا کی معاشی ترجیحات یکسر بدل گئی ہیں۔ تیل اور گیس پیدا کرنے والے ممالک توانائی کی طلب اور قیمتوں میں کمی کے باعث شدید معاشی بحران کا شکار ہیں جبکہ کورونا وائرس سے آنے والی بینک کرپسی سونامی سے دنیا کی سب سے بڑی معیشت امریکہ میں معروف کار ساز کمپنی نسان موٹرز، عالمی کار رینٹل کمپنیوں Hertzاور Thrifty، معروف ڈپارٹمنٹل چین JCPennyاور دیگر معروف کمپنیوں نے بینک کرپسیاں فائل کردی ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے سرمایہ کار وارن بفٹ کو گزشتہ 2مہینوں میں 50بلین ڈالر کا نقصان ہوا ہے اور اب تک امریکہ میں 40ملین سے زیادہ افراد بیروزگار ہو چکے ہیں۔ تیل و گیس سے مالا مال امیر ممالک اب جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹلائزیشن، گلوبل ٹیلی کام کے شعبوں میں متبادل سرمایہ کاری کر رہے ہیں کیونکہ اُنہیں اندازہ ہو گیا ہے کہ مستقبل میں تیل اور گیس سیکٹرز کے بجائے دنیا کا مستقبل ٹیکنالوجی انقلاب ہے۔ بھارت میں موبائل فون کے مجموعی صارفین 1.15ارب ہیں جس میں مکیش امبانی کے ریلائنس گروپ کی سب سے بڑی کمپنی JIOٹیلی کام کے صارفین 360ملین ہیں جو مارکیٹ کا 32فیصد ہیں۔ حال ہی میں بھارت میں مکیش امبانی کے ریلائنس گروپ نے اپنی JIOٹیلی کام کمپنی کے 25فیصد شیئرز بیرونی سرمایہ کاروں کو آفر کئے اور 3مہینوں میں دنیا کی 10نامور آئی ٹی کمپنیوں اور فیس بک نے 5.7بلین ڈالر (10 فیصد)، سلور لیک نے 1.35بلین ڈالر، وسٹا نے 1.5بلین ڈالر، سعودی عرب فنڈ 1.5بلین ڈالر، ابوظہبی انویسٹمنٹ اتھارٹی 752ملین ڈالر اور دیگر سرمایہ کاروں نے 15.2بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دنیا کے بڑے گروپ آئل اور گیس کے علاوہ ڈیجیٹل اور گلوبل ٹیلی کام سیکٹر میں محفوظ سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہے ہیں۔

میں نے انٹرنیشنل ڈیجیٹل کانفرنس میں بطور اسپیکر اپنی پریذنٹیشن میں بتایا تھا کہ 2017سے 2022تک ڈیجیٹل ٹرانفارمیشن کی گروتھ میں 16.7فیصد اضافہ متوقع ہے اور 2022تک دنیا میں جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ٹرانفارمیشن میں سرمایہ کاری بڑھ کر 7.4ٹریلین ڈالر تک ہو جائے گی جبکہ انٹرنیشنل ڈیجیٹل کارپوریشن (IDC) کے مطابق 40فیصد نئی سرمایہ کاری ڈیجیٹل ٹرانفارمیشن کے شعبے میں ہوگی۔ دنیا میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی 5بڑی کمپنیوں کی مجموعی ہولڈنگ 327بلین ڈالر ہے جس میں ایپل کا حصہ 146.8بلین ڈالر، مائیکرو سافٹ کا 80.7بلین ڈالر، گوگل کا 56.5بلین ڈالر، سام سنگ 49بلین ڈالر اور اوریکل کا حصہ 37بلین ڈالر ہے۔ گوگل نے حال ہی میں پاکستان کو ڈیجیٹل دنیا میں تیزی سے ابھرتا ہوا ملک قرار دیا ہے اور پاکستان ،بھارت، انڈونیشیا اور برازیل کو شامل کیا ہے جو دنیا کو مزید ایک ارب اسمارٹ فون صارفین فراہم کریں گے۔ پاکستان میں 59ملین اسمارٹ فون صارفین ہیں جبکہ انٹرنیٹ صارفین کی تعداد 76.38ملین ہے جو پاکستان کی آبادی کا تقریباً 35فیصد ہے۔ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والے 73فیصد صارفین کے موبائل فون پر ٹیکسی سروس ایپس موجود ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2019ء میں پاکستان میں 15 ملین صارفین نے موبائل فون استعمال کیا جن میں سے 63فیصد کے پاس انٹرنیٹ کنکشن اور 60ملین سے زائد صارفین نے تھری جی اور فورجی سروس استعمال کی جس کو ڈیجیٹل انقلاب کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں موبائل ٹیلیفون کے مجموعی صارفین 166ملین ہیں جس میں سب سے بڑی ٹیلی کام کمپنی کے پاس 60ملین صارفین (37.29فیصد مارکیٹ شیئر)، دوسری بڑی کمپنی کے پاس 45ملین صارفین (27.05فیصد مارکیٹ شیئر)، تیسری بڑی کمپنی کے پاس 23ملین صارفین (13.80فیصد مارکیٹ شیئر) چوتھی بڑی کمپنی کے پاس 12ملین صارفین (9فیصد مارکیٹ شیئر) اور پانچویں بڑی کمپنی کے پاس 13ملین صارفین (9فیصد مارکیٹ شیئر) ہے۔ پاکستان میں گزشتہ 3برسوں میں یوٹیوب دیکھنے والوں کی تعداد میں 78فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیامیں انٹرنیٹ اکانومی میں بھارت پہلے نمبر پر (آبادی کا 12.6فیصد)، پاکستان 9ویں نمبر پر (آبادی کا 10فیصد) اور بنگلہ دیش 10ویں نمبر پر (آبادی کا 6.3فیصد) ہے۔ اِن اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان میں اگلی دہائی انفارمیشن اینڈ کمیونی کیشن ٹیکنالوجیز کے انقلاب کی ہوگی جس میں مصنوعی ذہانت، بلاک چین، روبونکس اور آئی او ٹیز ٹیکنالوجی اہم کردار ادا کریں گی۔دنیا میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے اور چین اس شعبے کی تحقیق میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔ میرے گزشتہ چین کے دورے میں ژیامنگ میں میری ملاقات پاکستانی طالبعلموں سے ہوئی جو اسکالر شپ پر چین میں مصنوعی ذہانت میں پی ایچ ڈی کررہے ہیں جو فارغ التحصیل ہوکر پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے شعبے کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہونگے۔ برطانیہ وہ پہلا ملک ہے جس نے 2021تک بغیر ڈرائیور چلنے والی روبوٹس گاڑیوں کی اجازت دی ہے۔ پاکستان میں بھی بٹیری سے چلنے والی ہائبرڈ گاڑیاں سڑکوں پر آچکی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ آئندہ عشرے تک جدید ٹیکنالوجی دنیا کی معیشت کو تبدیل کردے گی جسے ٹیکنالوجی انقلاب کہا جاتا ہے۔ دنیا کی معیشت کروٹ لے چکی ہے جس میں پاکستان بھی شامل ہے۔ کوئی ملک، ادارہ یا فرد جو اس دور میں پیچھے رہ گیا، جدید ٹیکنالوجی اِسے کچل کر آگے بڑھ جائے گی۔ دنیا کی معروف کمپنیاں کوڈک اور نوکیا فون جنہوں نے جدید ٹیکنالوجی نہیں اپنائی، کی مصنوعات میوزیم کی زینت بن چکی ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد صنعتی انقلاب آیا تھا اور اب ٹیکنالوجی انقلاب دنیا کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔