آپ آف لائن ہیں
پیر19؍ذی الحج 1441ھ 10؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

چین دنیا کو جوڑنا چاہتا ہے، توڑنا نہیں چاہتا۔ دنیا کو سڑکوں اور سمندروں کے ذریعے ملانے کا خواب چینی صدر شی چن پنگ کا ہے۔ انہوں نے اس مقصد کے لئے دنیا کے مختلف ممالک میں کئی ایک منصوبے شروع کر رکھے ہیں اور اب تک پانچ براعظموں کے سو سے زیادہ ممالک کسی نہ کسی طرح ان اقتصادی راہداریوں سے جڑ چکے ہیں۔

چینیوں نے پوری دنیا کو پیشکش کی تھی کہ وہ اس کا حصہ بن جائے مگر کچھ ممالک کو یہ پیشکش راس نہ آئی۔ انہوں نے اس بڑے نیٹ ورک کے راستے میں کانٹے بکھیرنا شروع کر دیے۔ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے چینی منصوبوں میں سب سے اہم گوادر ہے حالانکہ چین کے پاس جبوتی، حیفا، کولمبو، ہربن ٹوٹا اور میانمار کی بندرگاہ سمیت کئی بندرگاہیں موجود ہیں مگر چین اور پاکستان کے دشمن گوادر کے زیادہ مخالف ہیں، بہت سے ممالک ایک مسلمان ایٹمی قوت کو معاشی طور پر مضبوط ہوتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے۔

اسی لئے خاص طور پر انڈیا، اسرائیل، امریکہ اور چند مسلمان ممالک گوادر کا نام سنتے ہی ماہی بےآب کی طرح تڑپنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہمارے اس منصوبے کو خراب کرنے کیلئے اجیت کمار دوول نے کئی جال بچھائے، بڑی منصوبہ بندی کی مگر خدا کا شکر ہے اس کے سب منصوبوں پر پانی پھر گیا اور گوادر کا سفر کامیابی سے جاری ہے۔

کل تک بھارت میں شاباش وصول کرنے والا اجیت کمار دوول آج منہ چھپاتا پھر رہا ہے، چینی فوج سے مار کھانے کے بعد دہلی کے کئی اجلاسوں میں دوول کو دھو کر رکھ دیا گیا۔ یہاں تک کہ مودی کو بھی بہت کچھ سننا پڑ رہا ہے، بھارتیہ جنتا پارٹی نے مودی کے متبادل کے طور پر امیت شا ہ پر غور شروع کر دیا ہے۔ بھارت کی داخلی سیاست پر پھر کسی دن لکھوں گا، آج گوادر اور پاکستان کی بات کرتے ہیں۔

خواتین و حضرات! گوادر پاکستان کے مخالفین کی آنکھوں میں کیوں کھٹکتا ہے۔ اس لئے کہ یہ پانچ ارب انسانوں کا گیٹ وے ہے، اس لئے کہ اس سے پاکستان معاشی لحاظ سے بہت مضبوط ہو جائے گا، اس لئے کہ گوادر کی کامیابی کے ساتھ ہی دنیا کی طاقت ایشیا کے پاس ہو گی، یورپ اور امریکہ، ایشیا کے محتاج ہو کر رہ جائیں گے۔ گوادر بھی پاکستان کے لئے کیا انمول تحفہ ہے۔

گوادر پاکستان کے لئے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون نے 8؍ستمبر 1958ء کو عمان سے خریدا، جنرل ایوب خان کی حکومت میں 8؍دسمبر کو 1958ء کو گوادر سرکاری طور پر پاکستان کا حصہ بنا۔ گوادر بلوچی زبان کے دو لفظوں کا مجموعہ ہے؛ گوا یعنی ہوا، اور در یعنی دروازہ۔ تو گوادر کا مطلب بنا ہوا کا دروازہ۔ گوادر بحیرۂ عرب کے اوپر اور خلیج فارس کے منہ پر ہے۔ پاکستان اور چین کی پرانی قیادتیں بھی محبت کے رشتوں میں بندھی رہیں۔ ایوب خان کے دور میں شاہراہ قراقرم شروع ہوئی۔

دشوار راستوں میں سڑک بنانے میں پاکستان اور چین کو بیس سال لگے۔ ساٹھ کی دہائی میں بھٹو پاک چین دوستی کے لئے سرگرم رہے۔ 2002ء میں پرویز مشرف اور چینی صدر کے مابین اقتصادی معاہدہ ہوا پھر مئی 2013ء میں آصف زرداری اور چینی قیادت کے مابین سی پیک کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے۔ 2015ء میں میاں نواز شریف اور چینی قیادت کے درمیان کئی معاہدوں پر دستخط ہوئے۔

سی پیک کے تحت شروع کئے گئے کئی منصوبے مکمل ہو چکے ہیں۔ کچھ پہ کام جاری ہے۔ چین پاکستان میں سڑکوں کا جال بچھا رہا ہے، پشاور سے کراچی تک ریلوے ٹریک درست کر رہا ہے، پاور پروجیکٹس لگا رہا ہے، انڈسٹریل زون بنا رہا ہے، مختلف ڈیمز بن رہے ہیں، بلوچستان کی بےآباد اور بنجر زمینوں کو ہرا بھرا کرنے کیلئے پانی کے ذخیروں پر کام ہو رہا ہے، گوادر میں آئل ریفائنری پر کام جاری ہے۔

اعلیٰ سڑکوں نے سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، کشمیر اور گلگت بلتستان کو ایک کر دیا ہے۔ پاکستان کے پسماندہ ترین علاقے بھی ترقی کا راستہ دیکھ رہے ہیں۔ گوادر میں ایک شاندار انٹرنیشنل ایئر پورٹ بن رہا ہے۔

مگر دوستو! یہی بناوٹ، سجاوٹ اور ترقی ہمارے دشمنوں کو ہضم نہیں ہو رہی، ہمارا دشمن خاص طور پر بلوچستان سے ایسے بے وفائوں کو تلاش کرتا ہے جو بلوچستان کی ترقی نہیں دیکھنا چاہتے، چند لالچی افراد خوبصورت بلوچوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، محض چند ڈالروں کے لئے نفرت کی فصل اگانا چاہتے ہیں، یہ بزدل چوہے بیرون ملک بیٹھ کر ملک کا امن تباہ کرنا چاہتے ہیں، ان کی کمر تو ٹوٹ چکی ہے مگر یہ چھپ چھپا کر کوئی نہ کوئی واردات کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس میں غریب بلوچ مارا جاتا ہے مگر ان سرداروں کو کچھ نہیں ہوتا۔

را کے ٹکڑوں پر پلنے والوں نے نام نہاد تنظیمیں بنا رکھی ہیں، حال ہی میں انڈین نیوز ایجنسی ’’ویان‘‘ میں ایک مضمون شائع ہوا ہے، یہ مضمون بلوچستان نیشنل موومنٹ کے سربراہ خلیل بلوچ نے لکھا ہے، انڈیا کو خوش کرنے کے چکر میں اس نے پاکستان کے ساتھ ساتھ چین کے خلاف بھی ہرزہ سرائی کی ہے کہ جیسے چین گوادر پر قابض ہو گیا ہو۔

خلیل بلوچ کو یہ پتا ہی نہیں کہ پاکستان اور چین کے مابین اقتصادی معاہدوں کے علاوہ ایک زبردست دفاعی معاہدہ ہے۔ اس معاہدے کا ایک روپ حال ہی میں چین نے لداخ میں دکھایا ہے۔ سی آئی اے، موساد اور را کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ آخر پاکستان اور چین کے مابین معاہدہ ہے کیا؟ سمجھداروں کیلئے اشارہ کافی ہے، چین کی سرحدیں چودہ ملکوں سے ملتی ہیں، صرف ایک پاکستان ہے جس سے اس کا کبھی جھگڑا نہیں ہوا۔

پچھلے سال ڈیڑھ میں سی پیک سست روی کا شکار تھا مگر اب اس میں عاصم سلیم باجوہ نے تیز رفتاری کی جان ڈال دی ہے۔

چوہدری عاصم سلیم باجوہ فوج میں بھی اپنی صلاحیتیں منوا چکے ہیں اب وہ دن رات سی پیک پر لگے ہوئے ہیں، تیز رفتاری کا یہ منظر آپ کو آنے والے دنوں میں خوشیوں بھری کئی خبریں دے گا، عاصم سلیم باجوہ کام کے دھنی ہیں، جہاں جاتے ہیں کمال کرتے جاتے ہیں، وطن کی محبت میں ان کی تیز رفتاری لاجواب ہے۔