آپ آف لائن ہیں
منگل20؍ذی الحج 1441ھ 11؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آخر جون کے وسط میں ایساکیا ہواکہ بھارت اور چین ایک بار پھر خونی تصادم کا شکار ہوئے اور جنگ بس ہوتے ہوتے رہ گئی۔ گو کہ اب بھی بھارت اور چین جنگ کے دہا نے پر کھڑے ہیں بظاہر باقاعدہ جنگ کے امکانات ختم ہوئے تو نہیں مگر کم ضرور ہوئے ہیں۔

دونوں ممالک دنیا کی بڑی افواج کے حامل ہیںاور بات چیت کے ذریعے کوشش بھی کررہے ہیں کہ افواج کو حقیقی لائن آف کنٹرول سے پیچھے ہٹالیا جائے مگر ایسا فی الوقت ممکن نظر نہیں آرہا۔ اس مسئلے کےپس منظر کو دیکھا جائے تو تاریخ بڑی پرانی ہےمگر حالیہ برسوں میں چین نے اس خطے کے دیگر ممالک میں سرمایہ کاری کی ہےاور جس طرح اپنا اثر و رسوخ بڑھایا ہے اس سے بھارت خاصا پریشان معلوم ہوتا ہے۔

اس وقت بھارت بڑی مشکل میں اس لئے ہے کہ کسی طرح بھی چین کے ساتھ ایک بھرپور جنگ نہیں کرسکتا تجارت کو بھی مکمل طور پر بند نہیں کیا جاسکتا کیونکہ بھارت کی تجارت کا بڑا انحصار چین پر ہے۔ اگر تجارت بند ہوتی ہے توبھارت آسانی سے اپنے نقصان کی تلافی نہیں کرپائے گا اور جنگ ہوتی ہے تو ممکن ہے کہ بھارت مزید علاقے سے ہاتھ دھوبیٹھے اور اس کے جوہری ہتھیار دھرے کے دھرے رہ جائیں۔

ہونا تو یہ چاہئے تھاکہ بھارت بھی چین کی اس دعوت کو قبول کرتا اور دیگر ممالک کی طرح ان منصوبوں کاحصہ بن جاتا جو چین اس خطے میں لارہاہے،مگر بھارت کا مسئلہ بھی پاکستان جیسا ہی لگتا ہے ۔ جس طرح پاکستان بھارت سے برابری کاخواہش مند ہے اسی طرح بھارت چین سے برابر ٹکر لینے کےخواب دیکھ رہا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ ہر ملک اپنی حیثیت کا درست تعین کرے اور برابری کے چکر میں پڑنے کے بجائے مل جل کر اس خطے کی ترقی کے لئے کام کرے،مگر عملاً ایسا پچھلی پون صدی میں نہیں ہو ا اور ہر بڑا ملک چھوٹےکو دبانے اور چھوٹا ملک بڑے کے برابر آنے کی کوششوںمیں لگا ہواہے جس میں زیادہ نقصان چھوٹے کا ہوتاہے۔

اگر بھارت کو چین کی سرمایہ کاری سے مسئلہ ہے تو خود بھی اپنی سرمایہ کاری شروع کردے۔ بھارت کو کس نے روکا ہے لیکن بھارت کی معیشت میں اتنا دم ہے نہ خارجہ پالیسی اتنی اچھی ہے کہ پڑوسی ممالک سے تعلقات بہتر کرسکے۔ نتیجہ یہ ہے کہ چین تو برما اور بنگلہ دیش سے لے کر پاکستان اور وسطی ایشیا تک منصوبے بنارہاہےاور انہیں آگے بڑھارہا ہےمگر بھارت ابھی اپنے سرحدی تنازعات ہی حل کرنے سے قاصر ہے۔

اگر چین ایشیا سے یورپ تک سڑکوں اور بندرگاہوں کا جال بچھارہاہے تو اس پر بھارت کو جزبز ہونے کی کیا ضرورت ہےاگر چین اپنے سامان کو عالمی منڈیوں تک پہنچارہا ہے تو بھارت بھی پہنچالے۔ لیکن اس کے بجائے بھارت نے چین کی مخالفت شروع کردی اور چین کو سفارتی کوششوں کا بھی مثبت جواب نہیں دیا۔

اس لئے لداخ کے موجود تنازع کو اس کے وسیع پس منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس کشیدگی کے پیچھے چین کے بڑے منصوبوں سے بھارت کی جلن بھی شامل ہوسکتی ہے بظاہر تو یہ بھارت اور چین کے مابین وادی گلوان کامسئلہ ہے مگر یہ صرف یہاں تک محدود نہیں ہے۔

موجودہ تنازع کی دو تشریحات ہیں ایک تو یہ کہ بھارت نے لداخ میں چین کو للکارا ہے کیونکہ مودی حکومت کے پاس اپنے ملک میں دکھانے کے لئے کچھ نہیںہے نہ ہی معاشی ترقی مطلوبہ طور پر ہوئی ہے نہ ہی دیگر وعدے پورے ہوئے بلکہ حالیہ کورونا وائرس کے معاملے کو بھارت میں اچھی طرح سے نہیں دیکھا گیا۔نتیجے میں بھارت میں متاثرین کی تعداد تیزی سے بڑھی اور اموات بھی اب دنیا میں اوپری درجوں پر آرہی ہیں اس لئے عوام کی توجہ ہٹانا ضروری تھا۔اس دوران بھارت نے اس سڑک کی تعمیر میں تیزی کردی جو حقیقی لائن آف کنٹرول پر چین کی طرف جاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ سڑک چین کے مقاصد کو للکارنے کے مترادف ہے۔ چین نے اس سڑک کی تعمیر کو اچھا نہیں سمجھا اور اسے اپنے مفادات کے لئےخطرہ قرار دیا۔ چین بالکل یہ نہیں چاہےگا کہ کوئی بھی ملک چین کے سرمایہ کاری کے منصوبوں کے خلاف کام کرے اور پھر سرحدوں پر بھی مسائل کھڑے کرے۔

چین اس وقت پوری دنیا میں بڑے بڑے منصوبوں پر کام کررہا ہے اور اس کے لئے اس چھوٹی سی وادی گلوان میں اس مسئلے کو فوجی طریقے سے حل کرنا بھی ممکن ہے اور پھر چین کی کمیونسٹ پارٹی چین میں حکمران ہے جو بھارت میں برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مستحکم اور منظم بھی ہے اور سیاسی و فوجی طور پر تیار بھی۔

چین کی کمیونسٹ پارٹی نے 1980ء کے بعد پچھلے چالیس سال میں شاندارکارکردگی دکھائی ہے، گو کہ خود اس کا زورکمیونزم سے ہٹ کر سرمائے کی طرف منتقل ہوگیا ہے پھر بھی یہ سرمایہ داری اور کمیونزم کا ملغوبہ بڑی حد تک کام کر رہا ہے گو کہ اس میں جمہوری حقوق کی پامالیاں بھی ہوئیں لیکن بنیادی انسانی ضرورتیں لوگوں کو ضرور فراہم کی گئی ہیں۔

یاد رہے کہ تین برس قبل 2017ء میں ڈوکلام میں بھی بھارت اور چین اسی طرح آمنے سامنے کھڑے ہوئے تھے بھارت اس بات پر بھی غصے میں ہے کہ چین اپنے منصوبوں کے تحت ایک بڑی ہائی وے بھوٹان کے راستے میں تعمیر کررہا ہے گو کہ وقتی طور پر بھوٹان نے بھارت کے دبائو میں آکر اس سڑک کی تعمیر روک دی ہے۔ بھارت اور چین کا موازنہ کیا جائے تو ہم دیکھتے ہیں چین نے اپنی تقریباً ڈیڑھ ارب کی آبادی کو مختلف کاموں میں لگایا ہواہے یعنی روزگار جیسی بنیادی ضرورت پوری کرنے میں چین بڑی حد تک کامیاب رہاہے جب کہ بھارت اس معاملے میں بہت پیچھے ہے۔ پھر یہی نہیں کہ چین میں لوگ انتہائی غربت سے باہر نکل آئے ہیں بلکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ چین میں ایک بہت بڑا درمیانی طبقہ بھی ابھر چکا جو بھارت کی بڑی آبادی سے نسبتاً بہتر زندگی گزار رہاہے۔

اگر بھارت کے ماہرین دنیا بھر میں اعلی عہدوں پر کام کررہےہیں تو چین دنیا میں بڑے کاروبار بھی چلارہاہے، چین میں ہر سال کروڑوں کی تعداد میں نوجوان ملازمتوں میں آتے ہیں، جب کہ بھارت میں تعلیم اور مہارتوں میں کمی کے باعث نوجوان بیروزگاروں میں اضافہ کرتےہیں اور اگر تعلیم اچھی تو ملک سے باہر جانے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس پس منظر میں دیکھا جائے تو موجودہ کشیدگی کا بھارت کو زیادہ نقصان ہوگا۔ اس بات سے اندازہ لگالیجئے کہ وسط جون میں لداخ میں وادی گلوان کی جھڑپ میں درجنوں بھارتی فوجی ہلاک ہوئے جن کی تعداد بیس سے پچاس تک بتائی جاتی ہے جب کہ سو کے قریب فوجی زخمی بھی ہیں۔ خود چین نے اپنے جانی نقصان پرخاموشی اختیار کی ہوئی ہے گزشتہ نصف صدی میں کسی غیر ملکی فوج کے ہاتھوں بھارت کا یہ سب سے بڑا نقصان ہے جو کسی باقاعدہ جنگ کے بغیر ہوا ہے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ چین نے سرحدی اور سیاسی تنازعات کے باوجود اپنے معاشی مفاد مقدم رکھے ہیں اور تجارت جاری رکھی ہے۔ تائیوان کو چین اپنا حصہ کہتا ہے مگر تائیوان ایک الگ ملک ہے جس کےساتھ چین نے بھرپور تجارتی تعلقات رکھے ہوئے ہیں، اسی طرح بھارت سے تمام سرحدی تنازعوں کے باوجود پچھلے بیس سال میں بھارت اور چین کےرمیان باہمی تجارت تقریباً تیس گنا بڑھ چکی ہے جن میں ادویات اور میڈیکل یا طبی آلات بھی شامل ہیں اور اب لداخ کے تنازع میں تیزی آنے کے بعد چین سے بھارت پہنچنے والی اشیا پھنس گئی ہیں کیونکہ کسٹمز کلیئرنس بہت سست کردی گئی ہے جس سے خود بھارت میں زیادہ نقصان ہورہا ہے۔

بہتر تو یہی ہے کہ اس پورے خطے کے لئے دیرپا حل ڈھونڈے جائیں اور کشمیر و لداخ سے لے کر ارونا چل پردیش تک کے مسائل باہمی افہام و تفہیم اور گفت و شنید کے ذریعے حل کئے جائیں مگر اس کے لئے بھارت، پاکستان اور چین تینوں کی قیادت کو اہم فیصلے کرنے چاہئیں۔

اب بھارت نے لداخ میں جو سبکی اٹھائی ہے اس پر بھارتی حزب مخالف بھی مودی حکومت پر خوب الزامات لگارہی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ خود بھارتی حکومت کی طرف سے متضاد بیانات سامنے آرہے ہیں۔ ایک طرف تو چین میں بھارتی سفیر نے کہا کہ بھارت اپنی سرحد کے اندر کام کررہا ہے اور زمینی سطح پر چین کو یہ اقدامات نہیں کرنے چاہئے تھے لیکن اس کے برخلاف بھارتی وزیراعظم مودی نے انیس جون کو کہا کہ نہ تو کوئی ہمارے علاقے میں داخل ہوا اور نہ ہی کسی پوسٹ پر قبضہ کیا پھر ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کیا کہ سرحد پرکشیدگی میں بیس بھارتی فوجی ہلاک ہوئے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ فوجی اگر بھارتی سرحدکے اندر ہے تو ثابت ہوا کہ بھارت اپنی سرحد کا دفاع نہیں کرسکا اور اگر وہ چین میں ہلاک ہوئے تو اس کا مطلب ہے بھارتی افواج نے سرحد کی خلاف ورزی کی۔ یہ ایسے بیانات ہیں جن سے مودی اوربھارت کی اور سبکی ہوتی ہے۔

یاد رہے کہ 1962ء میں بھارت اور چین کی ایک باقاعدہ جنگ ہوچکی ہے جس میں بھارت کو شکست ہوئی تھی۔ اکسائی چن کا متنازع علاقہ بھارت کے ہاتھ سےچلا گیا تھا۔

اب اس وقت بھارت بڑی مشکل میں اس لئے ہے کہ کسی طرح بھی چین کے ساتھ ایک بھرپور جنگ نہیں کرسکتا اور یہی حال تجارت کا ہے جس کو مکمل طور پر بند نہیں کیا جاسکتا کیونکہ بھارت کی تجارت کا بڑا انحصار چین پر ہے۔ اگر تجارت بند ہوتی ہے توبھارت آسانی سے اپنے نقصان کی تلافی نہیں کرپائے گا اور جنگ ہوتی ہے تو ممکن ہے کہ بھارت مزید علاقے سے ہاتھ دھوبیٹھے اور اس کے جوہری ہتھیار دھرے کے دھرے رہ جائیں۔

جنگ کی صورت میں امریکابھی اس وقت ایسی حالت میں نہیں ہے کہ وہ بھارت کی کھل کر مدد کرسکے۔ صدر ٹرمپ سے تمام تر دوستی کے باوجود مودی امریکا کو اس جنگ میں گھسیٹ نہیں سکیں گے۔

لداخ کے معاملے میں ایک اور خاص بات ذہن میں رکھنے کی یہ ہے کہ پچھلے سال اگست میں جب بھارت نے یک طرفہ طور پر خود اپنے آئین کی نفی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیرکا بھارت میں الحاق کیا تو اس خطے کی صورتحال تبدیل ہوگئی۔ لداخ کوئی سرسبز و شاداب علاقہ نہیں ہے بلکہ مون سون کی ہوائیں یہاں نہ آنے کے باعث یہ ایک خشک اور بہت ٹھنڈا صحراہے اور نہ ہی یہاں پر کوئی خاص بارش ہوتی ہے۔

تاریخی طور پر لداخ کا علاقہ تبت سے ملحق رہا ہے اور یہاں کی آبادی بھی تبتی نسل کی سمجھی جاتی ہے۔ 1834ء میں ڈوگرا رہنما گلاب سنگھ نے لدا خ پر قبضہ کرکے اپنے رنجیت سنگھ کی سکھ سلطنت میں شامل کیا تھا۔

1799ء میں قائم ہونے والی رنجیت سنگھ کی حکومت جس کا دارالحکومت لاہور تھا بہت جلد وسیع ہو کر لداخ تک پہنچ گئی تھی۔ لداخ کا علاقہ روایتی طور پر بھیڑ بکریوں کی پرورش اور تجارت اور اس کے نتیجے میں اعلی معیار کے اون کے لئےخاصا مشہور تھا۔ اس علاقے پر قبضے سے رنجیت سنگھ کو اس تجارت پر قابو پانے اور اس سے معاشی فوائد حاصل کرنے کے مو اقع ملے۔

1834ء کے بعد تبت اور چین جو اس علاقےکو سکھوں سے آزادکرانے کے لئے لڑتے رہے اور کچھ عرصے کے لئے اس چھڑا بھی لیا لیکن 1842ء کے بعد سے یہ علاقہ بھی چین یا تبت کے قبضے میں نہیں رہا۔

1839ء میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی موت کے بعد دس سال کے اندر انگریزوں نے پنجاب پر بھی قبضہ کرلیا تو سکھوں کی حکومت پنجاب سے تو ختم ہوگئی لیکن کشمیر کے ڈوگرے لداخ پر بھی حکومت کرتے رہے۔ قیام پاکستان کے بعد جب کشمیرکا مسئلہ شروع ہوا تو دونوں ملک یعنی بھارت اور پاکستان کشمیر کے دعوے دار بنے جس میں لداخ بھی شامل تھا۔ 1948ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد کشمیر کا کچھ حصہ آزاد ہوگیا جسے اب ہم آزاد کشمیر کہتے ہیں لیکن زیادہ بڑے حصے پر بھارت نے قبضہ کیا جس میں لداخ بھی شامل تھا۔

اب صورتحال یہ ہے کہ مشرقی لداخ کے بائیں جانب قراقرم کا سب سے بلند مقام ہے جسے دولت بیگ اولڈی کہتے ہیں جو گلوان کی وادی کے ساتھ منسلک ہے اس طرح اس علاقے میں رہنا یا جنگ کرنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا کہ سیاچن گلیشیئر پر ہے۔ یہ علاقہ انتہائی ہوادار بتایا جاتا ہے جہاں کھلی فضا میں آپ صرف چند منٹ میں جم کر رہ جائیں گے یا پھر اڑ جائیں گے۔ اس کے علاوہ یہ علاقہ انتہائی پتھریلا بھی ہے جس کی وجہ سے یہاں کھدائی کرنا یا تعمیرات کرنا بہت ہی مشکل ہے۔ نہ ہی یہاں پر مشینری آسانی سے آسکتی ہے اس لئے دونوں ممالک کی کوشش رہی ہے اس علاقے میں کچھ سڑکیں بنالی جائیں جن کی مدد سے تعمیراتی مشینری اور سامان کو یہاں آسانی سے پہنچایا جاسکے۔

اس کے باوجود یہاں بھارتی افواج نے دولت بیگ اولڈی کے مقام پرا یک لینڈنگ گرائونڈ بنالیا ہے جو غالباً دنیا کا بلند ترین فوجی اڈہ ہے جس کی بلندی سطح سمندر سے سولہ ہزار فٹ سے بھی زیادہ ہے اور یہاں چھوٹے موٹے فوجی جہاز بھی اترسکتے ہیں۔

چین کو یہ فائدہ حاصل ہے کہ پہاڑیوں کے دوسری طرف کا چینی علاقہ جو دراصل تبتی میدانی علاقہ ہے جو سطح سمندر سے تو اتنا ہی اونچا ہونے کے باوجود میدانی علاقہ ہے جس میں تعمیرات کرنا اور سڑکیں وغیرہ بنانا نسبتاً آسان ہے اگر اس پورے علاقے کے نقشے پر نظر ڈالی جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس متنازع علاقے کے مغرب میں لداخ ہے اور مشرق کی طرف دیکھیں تو ڈوکلام، نتھولا اور بھارتی ریاست اروناچل پردیش کی وادیوں تک پھیلا ہوا متنازع علاقہ ہے۔ چین کی نظریں ارونا چل پردیش پر بھی رہی ہیں۔ خاص طور پر ارونا چل پردیش کا توانگ نامی علاقے کو چین تبت کا حصہ کہتا ہے اور اس میں کسی حد تک حقیقت بھی ہے کیونکہ ثقافتی اور مذہبی طور پر توانگ اور تبت بہت ملتے جلتے ہیں اور پھر توانگ میں بدھ مت کے ماننے والوں کے لئے ایک بہت مقدس مقام بھی موجود ہے۔ لیکن اس سے کیا فرق پڑتاہے کیونکہ سکھوں اور ہندوئوں کے بہت سےمقدس مقامات پاکستان میں بھی ہیں اور جس طرح پاکستان نے کرتارپور کے گردوارے کو سکھوں کے لئے کھول دیا ہے اس طرح بھارت بھی چین اور تبت سے آنے والے بدھوں کے لئے توانگ کے مقدس مقامات کھول سکتا ہے۔

اس تنازع کا ایک پہلو دلائی لامہ بھی ہے جو 1959ء میں تبت سے بھاگ کر بھارت پہنچے اور یہاں پناہ گزین ہوئے کیونکہ انہیں تبت پر چینی کمیونسٹ حکومت کے قبضے کے بعد خطرات لاحق تھے اب جب بھی دلائی لامہ توانگ کی درگاہ یا خانقاہ میں جاتے ہیں تو چین اس پر اعتراض کرتا ہے۔

یاد رہے کہ اس سال فروری میں بھارتی وزیراعظم مودی نے بھی ارونا چل پردیش کادورہ کیاتھا جس پر چین نے باضابطہ احتجاج کیاتھا۔ تاریخی طور پر ارونا چل پردیش بھی جنوبی تبت کا حصہ رہاہے اور یہاں بھارت اور چین کی باہمی سرحد کئی سو کلومیٹر لمبی ہے۔ دلائی لامہ تبت کے لوگوں کے لئے خدائی درجہ رکھتے ہیں جب کہ چین کے لئے وہ علیحدگی پسند ہیں۔ ویسے تو تبت پر چین کی کمیونسٹ حکومت نے 1950ء میں قبضہ کرلیا تھا لیکن تبت کے لوگوں اور ان کے روحانی پیشوا ،دلائی لامہ نے چینی بالادستی کو قبول نہیں کیا، 1959ء میں چین کے خلاف بغاوت کی کوشش بھی کی جس کی ناکامی پر دلائی لامہ کو تبت سے بھاگ کر بھارت میں پناہ لینا پڑی تھی۔ اس سے قبل 1912ء میں تبت نے چین سے آزادی کا اعلان کیا تھا اور تقریباً چالیس برس تبت ایک الگ ملک کے طور پر وجود رکھتاتھا جس کے بعد سے تبت پر چین کا قبضہ ہے۔

بھارت اور چین کی کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوگیا تھا جب 1959ء میں بھارت کے وزیراعظم جواہر لال نہرو نے دلائی لامہ کو پناہ دی۔ ایک طرح سے یہ اس بات کا اعلان تھا کہ بھارت چین کے تبت پر قبضے کو تسلیم نہیں کرتا۔

اس و اقعے سے قبل بھارت اور چین کے تعلقات خاصے بہتر تھے۔ چینی وزیراعظم چو این لائی اور نہرو دوست سمجھے جاتے تھے لیکن اس دوران ایک و اقعہ اور ہوا تھا چین اور سوویت یونین کے باہمی بگڑتے ہوئے تعلقات تھے۔ نہرو سوویت یونین کے بہت قریب تھے۔ جب چین سوویت یونین سے دور ہوا تو اس نے توقع کی کہ چین روس تنازع میں بھارت چین کاساتھ دے، مگر نہرو نے سوویت یونین کو ترجیح دی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نہرو کو دلائی لامہ کو تحفظ دینے کے فیصلے کے پیچھے بھی سوویت یونین کی آشیرباد شامل تھی۔

1959ء میں ابھرنے والا یہ چین بھارت تنازع سرحدوں پر بھی آشکار ہوا اور دونوں ملک جھڑپیں کرتے رہے مگر جب 1962ء میں بھارت اور چین کی باقاعدہ جنگ ہوئی تو سوویت یونین بھارت کی کوئی خاص مدد نہیں کرسکا۔ بھارت کو شکست ہوئی جس نے نہرو کو جسمانی اور ذہنی طور پر توڑ کر رکھ دیا ۔ تین سال بعد وہ انتقال کرگئے۔

تازہ ترین صورتحال یہ ہےکہ چین اپنی افواج کی تربیت کے لئے بیس ایسے مارشل آرٹ کے ماہرین کو تبت بھیج رہاہے جہاں وہ سرحدوںپر تعینات چینی محافظوں کو جوڈو کراٹے اور دیگر مارشل آرٹس کی تربیت دیں گے۔ ایسا کرنے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ 1996ء میں بھارت اور چین نے معاہدہ کیا تھا کہ کوئی بھی ملک سرحدی علاقےمیں گولہ بارود یا بندوقیں وغیرہ نہیں لے جائے گا اور سرحدوں پر تعینات محافظ دونوں طرف کے نہتے ہوں گے جب وسط جون میں بھارت اور چین کے سپاہیوں میں جھڑپ ہوئی تو گولیاں نہیں چلیں، بلکہ ڈنڈوں، لاتوں اور مکوں سے لڑائی ہوئی۔

بھارت اور چین کے سرحدی تنازعات میں ایک خوشگوار تبدیلی اس وقت آئی تھی جب 2003ء میں بھارت نے باضابطہ طور پر یہ بات تسلیم کرلی تھی کہ تبت چین کا ہی حصہ ہے۔ اس وقت بھارت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی اور چین کے صدر جیانگ زی من تھے۔ گوکہ اٹل بہاری واجپائی کا تعلق بھی بی جے پی سے تھا مگر وہ موجودہ وزیراعظم مودی کے مقابلےمیں کہیں زیادہ سمجھ دار اور نسبتاً امن پسند تھے حالانکہ بھارت نے ایٹمی دھماکے 1998ء میں واجپائی کے دور حکومت میں ہی کئے تھے مگر پاکستان کے جوابی دھماکوں کے بعد غالباً واجپائی کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیاتھا اور وہ چین اور پاکستان دونوں سے بہتر تعلقات کی کوشش کرتےرہے مگر خود بی جے پی کے انتہا پسند عناصر نے ان کی ان کوششوں کو ناکام بنادیا جس کے نتیجے میں یہ خطہ اب تک تنازعوں کا شکار ہے۔

تازہ ترین صورتحال یہ ہےکہ چین اپنی افواج کی تربیت کے لئے بیس ایسے مارشل آرٹ کے ماہرین کو تبت بھیج رہاہے جہاں وہ سرحدوںپر تعینات چینی محافظوں کو جوڈو کراٹے اور دیگر مارشل آرٹس کی تربیت دیں گے۔ ایسا کرنے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ 1996ء میں بھارت اور چین نے معاہدہ کیا تھا کہ کوئی بھی ملک سرحدی علاقےمیں گولہ بارود یا بندوقیں وغیرہ نہیں لے جائے گا اور سرحدوں پر تعینات محافظ دونوں طرف کے نہتے ہوں گے اور زیادہ سےزیادہ ڈنڈے اور چھڑیاں رکھ سکیں گے۔ اس کے بعد اب جب وسط جون میں بھارت اور چین کے سپاہیوں میں جھڑپ ہوئی تو گولیاں نہیں چلیں، بلکہ ڈنڈوں، لاتوں اور مکوں سے لڑائی ہوئی جس میں کچھ ڈنڈے ایسے تھے جن پر میخیں ٹھونک دی گئی تھیں جن کی وجہ سے وہ ڈنڈے بڑے خطرناک اور جان لیوا ثابت ہوئے جس کےنتیجے میں کم از کم دو درجن بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

اب مختلف قسم کی اطلاعات کے مطابق خود بھارت کی حزب مخالف خاص طور پر کانگریس دعویٰ کررہی ہے کہ چین نے سرحد کے اندرا ٹھارہ کلومیٹر تک کے علاقے پر قبضہ کرلیا ہے۔ اس طرح کی اطلاعات بھی ہیں کہ چینی افواج دولت بیگ کے اہم دفاعی و فضائی اڈے سے صرف پچیس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور بھارتی حزب مخالف کےمطابق وادی گلوان بھی چین کے قبضے میں جاچکی ہے۔ اس اطلاعات کی تصدیق بین الاقوامی ذرائع سے نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی چین نے ایسا کوئی دعوی کیا ہے۔ البتہ یہ ضرور ہےکہ خلائی تصویروں کے مطابق وادی گلوان میں چینی تعمیرات صاف طور پر دیکھی جاسکتی ہیں جو اس سے قبل وہاں موجود نہیں تھیں۔

جہاں پچھلے ماہ تک کوئی تعمیراتی ڈھانچہ نہیں تھا وہاں اب تصویروں میں دیکھا جاسکتا ہے کہ نہ صرف چینی فوجی بنکر وجود میں آچکے ہیں بلکہ فوجی سازوسامان رکھنے کے لئے گودام بھی بنائے جاچکے ہیں۔ یہ تصویریں اس لئے بھی قابل اعتبار ہیں کہ یہ کسی حکومت نے نہیں بلکہ ایک نجی خلائی کمپنی میکسر نے بائیس جون کو جاری کیں جن کی صداقت پر شبہ نہیں کیا جاسکتا۔

اگر حالیہ واقعات کا موازنہ 2017ء میں ہونے والےڈوکلام سے کیا جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ تین سال قبل بھوٹان کے احتجاج پر چین نے سڑک کی تعمیر روک دی تھی مگر اب چین نے زیادہ جارحانہ رویہ اپنایا ہے اور شاید اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ گزشتہ اگست میں بھارت نے جو کچھ کشمیر اور لداخ کے ساتھ کیا اسے چین نے خوشی سے تسلیم نہیں کیا ہے۔

اس وقت بھوٹان نے نئی دہلی میں چینی سفارت خانے میں اپنا احتجاج درج کرایاتھا جس کے بعد چین نے صرف اتناکہا کہ ہم اپنے علاقے میں سڑک بنارہے ہیں اس وقت ڈھائی مہینے کے تنازع میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا مگر اس دفعہ چین نے بڑی منصوبہ بندی سے بھارت کو دبایا ہے اور بظاہر بھارت کچھ نہیں کرسکتا۔

اب سوال یہ ہے کہ آگے کیا ہوگا؟ اس کے دو ممکنہ راستے ہو سکتے ہیں ایک تو یہ کہ بھارت چین کی تعمیرات کو تسلیم کرلے اور خاموشی سے بیٹھ جائے، دوسرے راستے میں یہ ممکن ہےکہ ایک چھوٹی سرحدی جنگ چھڑ جائے جس میں بھارت کے نقصان کا بڑا احتمال ہے۔

اس صورتحال میں چین پوری وادی گلوان کے علاوہ دولت بیگ اولڈی کے لینڈنگ گرائونڈ پر بھی قبضہ کرلے اگر ایسا ہوتا ہے تو بھارت کے بجائے چینی طیارے وہاں پر اتر سکیں گے اور بھارت ایک اہم فوجی اڈے سے محروم ہوجائے گا۔

بہتر تو یہی ہے کہ اس پورے خطے کے لئے دیرپا حل ڈھونڈے جائیں اور کشمیر و لداخ سے لے کر ارونا چل پردیش تک کے مسائل باہمی افہام و تفہیم اور گفت و شنید کے ذریعے حل کئے جائیں مگر اس کے لئے بھارت، پاکستان اور چین تینوں کی قیادت کو اہم فیصلے کرنے چاہئیں۔