آپ آف لائن ہیں
جمعرات 22؍ ذی الحج 1441ھ13؍اگست2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

انسان کی فطرت کی ایک بہت بڑی خوبی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے حالات میں معمولاتِ زندگی کو کسی نہ کسی طرح چلانے کی کوشش کرتی ہے۔ افغانستان یا شام جہاں برسوں سے جنگ چل رہی ہے، کے عوام کی جگہ پر اگر ہم اپنے آپ کو رکھ کر سوچیں تو ہمیں لگے گا کہ ہم ایک جگہ چھپ کر بیٹھ جائیں گے لیکن وہاں شادیاں بھی ہوتی ہیں، جشن بھی منائے جاتے ہیں، سالگرہ کا اہتمام بھی ہوتا ہے، کاروبار بھی چل رہا ہے، بچے کھیلتے بھی ہیں اور ہنسی مذاق بھی جس حد تک ہو سکے، چلتا ہے۔ ہیومن سائیکالوجی کے ایکسپرٹ اِس کو ہماری بقا کے لیے نہایت اہم سمجھتے ہیں، اگر انسان کی فطرت میں یہ خوبی نہ ہو تو اس کا برے سے برے حالات میں بچنے اور ان سے باہر نکلنے کا چانس کم سے کم ہو جاتا ہے کیونکہ نفسیاتی طور پر ناامیدی ہمارے لیے تباہ کن ہوتی ہے۔

پاکستان میں بھی جب چند سال قبل ہم دہشت گردی کی لپیٹ میں تھے، ہر دوسرے دن کسی دھماکے کی خبر آتی تھی اور درجنوں جانیں چلی جاتی تھیں تو مغربی ممالک کے لوگ حتیٰ کہ ہالی ووڈ بھی سمجھتا تھا کہ یہاں زندگی پتا نہیں کیسی ہو گی اور ہالی ووڈ فلموں اور ڈراموں میں پاکستان کو عجیب و غریب طریقے سے پیش کیا جاتا تھا۔ اگر ابھی ہم بھی اس وقت کا سوچیں تو شاید حیران ہوں کہ اس وقت ہم نے ایک بالکل معمول کی زندگی کیسے گزار لی؟

کورونا وائرس کی اِس وبا کو پاکستان میں پھیلے اب 6ماہ ہونے کو ہیں۔ دنیا بھر میں ایئر پورٹس بند ہونا، پروازیں معمول کے مطابق نہ چلنا، اسکول اور کالجز کا بند ہونا، بہت سی یونیورسٹیز میں آن لائن کلاسز اور باہر کسی بھی ریسٹورنٹ جاکر کھانا نہ کھانا یا کوئی شادی اٹینڈ نہ کرنا، بازاروں کا محدود اوقات میں کھلنا یہ سب ’نیو نارمل‘ ہے، آپ سوچیں اتنے عرصے سے ہم ان حالات سے گزر رہے ہیں اور اپنی اسی فطرتی خوبی کی وجہ سے ہم اِس نئے معمول کے شاید عادی ہونا شروع ہو گئے ہیں لیکن یہ آفت اور مشکل جس نے اِس وقت تمام انسانیت کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے، ماضی کی آفتوں سے تھوڑی مختلف ہے۔ جنگ یا کسی اور حادثے میں تباہی آپ کے سامنے ہوتی ہے، کورونا وائرس کی تباہی خاموش اور چھپی ہوئی ہے۔ تباہی کا جائزہ لینے کے لیے ملک بھر سے ڈیٹا اکٹھا کرنا، ٹیسٹ کرانا اور دیگر فزیکل اور انٹلیکچول انفراسٹرکچر وغیرہ کے مسائل موجود ہیں جن کے باعث پاکستان کیا، ترقی یافتہ ممالک بھی سمجھ نہیں پا رہے کہ کورونا کدھر اور کس طرح پھیل رہا ہے۔ پھر جو پاکستان میں لوگوں کے لیے تلخ حقیقت ہے وہ یہ کہ یہاں کتنے لوگ ہزاروں روپے کا ٹیسٹ کرا سکتے ہیں؟ اس طرح کے مسائل تمام پسماندہ ممالک کو درپیش ہیں۔ پھر ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ روزانہ ٹیسٹنگ کی تعداد میں کمی آتی جا رہی ہے جس کی وجہ سے کیس بھی کم ہوتے جا رہے ہیں، لیکن جتنے ٹیسٹ ہم کر رہے ہیں اس میں بھی دنیا کے کئی ممالک کے مقابلے میں ہمارے ہاں مثبت نتائج کے تعداد زیادہ ہے۔ اس لئے شاید ہم اِس خوش فہمی کا شکار ہو گئے ہیں کہ یہ آفت ٹل رہی ہے اور سرکاری اعداد و شمار میں کیسز کی تعداد کم ہو رہی ہے۔

دنیا بھر سے جو ڈیٹا آ رہا ہے اور جو ماہرین کی آراء ہیں، وہ اِس بات کی نفی کریں گی۔ مغربی ممالک میں جو ریسرچ ہو رہی ہے، وہ یہ بتا رہی ہے کہ کورونا وائرس اب زیادہ اچھوت بن گیا ہے اور اِس کی منتقلی اور تیز ہو گئی ہے، البتہ یہ زیادہ خطرناک نہیں ہے۔ اِس کے ساتھ ساتھ سب ماہرین کا یہی کہنا ہے کہ کورونا وائرس صرف تب تک کنٹرول میں رہے گا جب تک لوگ احتیاطی تدابیر پر عمل کریں گے، اِس کا آخری حل ویکسین یا علاج کا دریافت ہونا ہی ہے۔ اِس کے منطقی انجام کا ذکر میں تفصیلاً اپنے ایک گزشتہ کالم میں کر چکا ہوں۔

سوشل میڈیا، عوام اور میڈیا میں شاید اب یہی تاثر ابھر رہا ہے کہ اب شاید خطرہ ٹل گیا ہے۔ ہماری اِس سوچ کا اِس وقت سب سے بڑا نقصان یہی ہے کہ ہم جو تھوڑی بہت احتیاط کر رہے تھے، کم کر دیں گے اور اِس کے نتیجہ میں وائرس پھر تیزی سے پھیلنا شروع ہو جائے گا۔ بہت سے ماہرین کا یہی خیال ہے کہ ایسے حالات میں کورونا کی دوسری لہر آئے گی، اس لیے احتیاط اب بھی ضروری ہے۔

ہماری فطرت یہ بھی ہے کہ بری خبر دینے والے اور خوش فہمی دور کرنے والی باتوں کو پسند نہیں کیا جاتا، لیکن اِس وقت اگر ایک چیز ہم سب کو مل کر سمجھنی اور دوسروں کو سمجھانی ہے تو وہ یہی کہ خطرہ ابھی مکمل طور پر نہیں ٹلا اور ویکسین یا علاج آنے تک خطرہ ٹلے گا بھی نہیں، ہمیں اِس وائرس کے بارے میں بہت سی چیزیں نہیں پتا۔ ہمیں یہ نہیں علم کہ جس کو ایک دفعہ کورونا ہو جاتا ہے اس کے اندر امیونٹی کب تک رہتی ہے۔ یہ بھی نہیں پتا دوبارہ انفیکشن کب، کس طرح اور کن لوگوں میں ہو سکتا ہے۔ ہم کورونا وائرس کے بارے میں سن سن کر تھک گئے ہیں یا بور ہو گئے ہیں لیکن ابھی تک نہ وائرس تھکا ہے اور نہ ہی وہ بور ہوا ہے۔ لہٰذا احتیاط، احتیاط اور صرف احتیاط!

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں 00923004647998)