آپ آف لائن ہیں
جمعرات13؍ صفر المظفّر 1442ھ یکم اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

یسریٰ اصمعی

’’لوگ کیا کہیں گے؟‘‘ ہماری آپ کی زندگیوں میں رائج وہ معروف جملہ جس سے ہماری زندگی کے اسّی فی صد سے زائد مسائل جڑے ہوئے ہوتے ہیں، اپنی اثرانگیزی میں اس جملے کا کوئی دوسرا ثانی نہیں۔ ’’لوگ کیا کہیں گے؟‘‘ کا خوف ہم سے ہر جائزو ناجائز عمل کروانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر غورکریں تو ہمارے ہر دوسرے عمل کے پیچھے یہی جملہ کارفرما نظر آتا ہے۔ اس طاقت ور جملے کا شکار عام طور پر مردوں سے زیادہ خواتین نظر آتی ہیں۔ فلاں کو اچھا تحفہ نہیں دیا تو ’’لوگ کیا کہیں گے؟‘‘بچّوں کو شہر کے مہنگے ترین تعلیمی اداروں سے تعلیم نہ دلوائی تو ’’لوگ کیا کہیں گے؟‘‘

نیا فرنیچر نہیں لیا تو ’’لوگ کیا کہیں گے؟‘‘بیٹی کو اچھا جہیز نہیں دیا تو ’’لوگ کیا کہیں گے؟‘‘اور تواور بعض خواتین تو لوگوں کے خوف کا اس حد تک شکار ہوتی ہیں کہ اگرکوئی جوڑا ایک سے زائد بار پہننا پڑجائے تو بھی ان کو یہ فکر دامن گیر ہوجاتی ہے کہ رشتہ دار خواتین کیا کہیں گی؟ غرض لوگوں کا یہ خوف زندگی میں بیش تر فکروں اور پریشانیوں کی جڑ بنتا جارہا ہے۔ ہم اس سے خوف زدہ ہوکر اپنی بساط سے بڑھ کر اپنے آپ کو وہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جو ہم نہیں ہوتے، اگر ہم اس جملے کا اثر لینا چھوڑ دیں تو زنذگی بے حد سادہ اور آسان ہوسکتی ہے۔

آیئے آج سوچتے ہیں کہ آخر یہ ’’فارغ‘‘ خواتین کون ہیں، جن کو دوسروں کے معاملات میں ٹانگ اڑانے والے، تبصروں اور اعتراضات کے سوا کوئی کام نہیں ہوتا۔ یہ خواتین ہم اور آپ میں سے ہی ہیں، ان کی زندگیاں عام طور پر امن و آشتی اور سکون کا کوئی اعلیٰ نمونہ نہیں ہوتیں اور نہ ہی کوئی بے مثال شخصیت کی مالک ہوتی ہیں۔ دوسروں کے معاملات میں غیرمعمولی دل چسپی لینا، ایک نفسیاتی مسئلہ ہے۔ 

ایسی خواتین کی باتوں کو ذہن پر حاوی کرنے کے بجائے ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکالنا زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ بہ صورت دیگر ان کی باتیں اور اعتراضات آپ کو ضرورکسی نفسیاتی عارضے کا شکار کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ اپنے ہر عمل کو لوگوں اور معاشرے کے طے کردہ معیارات اور پیمانوں پر جانچنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے طے کردہ پیمانوں پر جانچنے کی عادت ڈالیں اور اگرآپ کا عمل اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ہے تو پھر اپنا دل مطمئن رکھیںاور وہ کریں جو آپ کو درست لگتا ہے۔ 

لوگوں کی فکر بس اس حد تک کریں کہ وہ آپ کی ذاتی زندگی پراثر انداز نہ ہوسکے۔ حقوق العباد کا خیال رکھنا اور لوگوں کے ساتھ اخلاق سے پیش آنا ہر انسان کی بنیادی ذمے داری ہے۔ اس کی ادائیگی کا خیال ضرور رکھیں، لیکن کسی کواپنی ذاتی زندگی میں مداخلت کا اختیار مت دیں۔ لوگوں کو خوش کرنے کی خاطراپنی زندگی میں فکریں اور ٹینشن پالنا سوائے بے وقوفی کے کچھ نہیں۔

اعتراض کرنے والی خواتین کو نرم اور دھیمے لہجے میں یہ کہہ کر خاموش کروایا جاسکتا ہے کہ ’’ممکن ہے کہ آپ کی بات درست ہو، لیکن مجھے یہ زیادہ مناسب لگا‘‘ دوسروں کی فکر چھوڑ دیں، کیوںکہ وہ کبھی خوش نہیں ہوں گی، اگرآپ اور ہم اپنی زندگی میں صرف اللہ کی خوشنودی کی فکرکریں تو زندگی کے بیش تر مسائل خود بہ خود حل ہوجائیں گے۔ اپنے آپ کو ’’لوگ کیا کہیں گے؟‘‘ کے اس خود ساختہ خوف سے نجات دلائیں اور ایک آزاد، پُرسکون زندگی گزاریں۔ کیا خیال ہے؟ اس بارے میں ضرور سوچیں۔