آپ آف لائن ہیں
منگل11؍صفر المظفّر 1442ھ 29؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group


مسجد الحرام، منٰی، عرفات، مزدلفہ اور قیام طعام سے متعلق قواعد وضوابط مقرر 

سعودی وزیر صحت توفیق الربیعہ نے کہا ہے کہ اس سال حج کو اندرون مملکت افراد تک محدود کرنے کا فیصلہ مسلمانوں کی سلامتی کے لیے کیا گیا ہے۔ سعودی وزیر حج و عمرہ محمد صالح بنتین کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران ڈاکٹر الربیعہ نے کہا کہ رواں سال ان افراد کو حج کی اجازت ہو گی جن کی عمر 65 برس سے کم ہے اور وہ کسی دیرینہ مرض کا شکار نہیں ہیں۔سعودی وزیر صحت نے واضح کیا کہ رواں سال حج سے قبل عازمین کا مکمل طبی معائنہ ہو گا اور حج کے فریضے کی ادائیگی کے بعد تمام حجاج کرام کو اپنے گھروں میں 14 روز کے لیے قرنطینہ میں رہنا ہو گا، الربیعہ نے بتایا کہ رواں سال حج کے کارکنان اور خدام کا بھی کورونا ٹیسٹ ہو گا اور مناسک کے دوران ان کی نگرانی کی جاتی رہے گی۔ سعودی وزیر صحت نے انکشاف کیا کہ حج کے دوران کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے مشاعر مقدسہ میں ایک مربوط ہسپتال تیار کیا گیا ہے۔ 

علاوہ ازیں حج سیزن کے لیے خصوصی طبی پروٹوکولز کو بھی بہتر بنایا گیا ہے۔پریس کانفرنس میں سعودی وزیر حج و عمرہ ڈاکٹر صالح البنتن نے کہا کہ ’’رواں سال حج کے لیے ہم نے خصوصی ایگزیکٹو پلان تیار کیے ہیں"۔ڈاکٹر صالح نے رواں سال حج میں بیرون ملک سے حجاج کی شرکت کے کسی بھی امکان کو مسترد کر دیا خواہ انہوں نے کورونا کا معائنہ کرا بھی لیا ہو۔ اس حوالے سے کوئی استثنا نہیں دیا جائے گا۔ڈاکٹر صالح کے مطابق حجاج کرام کی تعداد نہایت محدود ہو گی اور اندازاً کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز نہیں کرے گی, حاجیوں کی تعداد کے حوالے سے مسلسل جائزہ لیا جاتا رہے گا ممکن ہے کہ ایک ہزار یا اسے کم وبیش دس ہزار بھی ہو سکتے ہیں۔لیکن تعداد دس ہزار سے زیادہ نہیں ہوگی۔

28 ذی القعدہ سے بارہ ذی الحجہ 1441ھ تک منی، مزدلفہ اور عرفات میں اجازت لیے بغیر جانا منع ہوگا، حج پر جانے والوں اور حج کرانے والوں کو حفاظتی ماسک اور دستانے پہننا ہوں گے، حاجی حضرات رابطے کے وسائل، ملبوسات، سر کے بال تراشنے، مونڈنے، داڑھی بنانے والے آلات اور تولیے ایک دوسرے کے استعمال نہیں کرسکیں گے-عمارت کی لفٹ استعمال کرتے وقت سماجی فاصلہ برقرار رکھنا ہوگا۔ذاتی صفائی کا ہر حاجی کو خیال رکھنا ضروری ہوگا۔رہائشی عمارتوں اور ہوٹلوں میں بیٹھنے، انتظار کرنے کی جگہوں کو مسلسل سینیٹائز کیا جائے گا- دروازوں کے ہینڈل، کھانے کی میز، کرسیوں اور صوفوں کے ہینڈل سینیٹائز کیے جائیں گے- سینیٹائزر نمایاں مقامات پر رکھنا ہوں گے، جماعت کے ساتھ نماز کی اجازت ہوگی تاہم نماز کے دوران ماسک پہننا لازمی ہوگا اور نمازی ایک دوسرے سے دو میٹر کے فاصلےکی پابندی کریں گے۔

مسجد الحرام، منی، عرفات اور مزدلفہ میں کولرز ہٹا دیے جائیں گے۔پانی پینے یا زم زم کے استعمال کے لیے ایسی بوتلیں اور ڈبے استعمال کیے جائیں گے جو صرف ایک مرتبہ کے بعد غیر موثر ہوجائیں۔کھانا تیار کرنے، پیش کرنے سے قبل حمام سے نکلنے کے بعد رفقائے کار یا مسافروں کو چھونے یا براہ راست رابطے کے بعد صابن اور پانی سے کم از کم بیس سیکنڈ تک ہاتھ دھونا ہوں گے۔ کھانے پینے میں استعمال ہونے والے برتن دوبارہ استعمال نہ کیے جائیں، بسوں میں مسافروں کی تعداد متعین ہوگی۔ پورے سفر کے دوران ہر حاجی کی نشست متعین ہوگی- کسی بھی حاجی کو بس میں کھڑے ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔

ڈرائیوروں اور تمام مسافروں کو بس میں سفر کے دوران ماسک اتارنے کی اجازت نہیں ہوگی- میدان عرفات اور مزدلفہ میں مخصوص مقامات پر قیام کی پابندی کرنا ہوگی- عبادت کے دوران حاجیوں کو ماسک اتارنے کی اجازت نہیں ہوگی- حاجی حضرات کو بند پیکٹوں والے کھانے پیش کیے جائیں گے- طواف کے لیے مطاف جانے والوں کی قافلہ بندی کورونا وائرس کے مشتبہ کسی کارکن کو کام کی اجازت نہیں دی جائے گی. جمرات کی رمی کے لیے پیک شدہ کنکریاں فراہم کی جائیں گی۔

وزارت حج و عمرہ کے مطابق رواں سال اندرون مملکت سے 70 فی صد مقیم غیر ملکی اور 30 فی صد سعودی شہریوں کو حج کرنے کی اجازت دی جائے گی۔سعودی شہریوں میں صرف صحت کی خدمات فراہم کرنے والے اور کورونا وائرس سے شفایاب ہونے والے سکیورٹی اہلکار شامل ہوں گے-اس سال عازمین حج کا انتخاب کورونا وائرس سے صحت یاب افراد کے ریکارڈ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

ان میں ایسے لوگوں کا انتخاب کیا جائے گا جو صحت کے معیار پر پورے اتر رہے ہوں گے-یہ فیصلہ کورونا کی وبا سے ہر مرحلے پر نمٹنے کے سلسلے میں مختلف طبقوں کی خدمت گزاری میں سکیورٹی فورس کے اہلکاروں اور صحت کی خدمات فراہم کرنے والوں کے کردار کے اعتراف میں کیا جا رہا ہے-مملکت میں مقیم غیر ملکیوں میں سے حج کے لیے ترجیح ان تارکین وطن کو دی جائے گی جو لاعلاج امراض سے پاک ہوں گے- حج کا ارادہ کرنے والے غیر ملکیوں سے یہ اقرار نامہ لیا جائے گا کہ حج سے پہلے اور حج کے بعد وزارت صحت کی طرف سے مقرر کردہ قرنطینہ کے دورانیے کی پابندی کریں گے۔

وزارت حج کا کہنا ہے کہ حج کے خواہشمند جو غیر ملکی مقررہ شرائط پر پورے اتر رہے ہوں وہ وزارت کی ویب سائٹ (localhaj.haj.gov.sa) کے ذریعے رجسٹریشن کرا سکتے ہیں-وزارت حج نے واضح کیا ہے کہ غیر ملکی عازمین کا انتخاب صحت سے متعلقہ شرائط پر پورے اترنے والے رجسٹرڈ افراد میں سے الیکٹرانک بنیادوں پر کیا جائے گا- امیدواروں کو مقررہ مدت کے اندر دستاویزی کارروائی مکمل کرانا ہوگی- حجاج کرام کی صحت و سلامتی کی خاطر دقیق ترین حفاظتی انتظامات اور صحت سے متعلقہ اعلی ترین ضوابط لاگو کیے جائیں گے۔ 

اس سال حج کے لیے ہنگامی اسکیمیں تیار کر لی گئی ہیں-وزارت حج نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ اندرون ملک سے حج کے امیدواروں سے درخواستوں کی وصولی ابتدائی نوعیت کی ہے- اسے حتمی شکل صحت اور انتظامی ضوابط پر پورا اترنے کی یقین دہانی کرائے جانے کے بعد منظوری کی صورت ہی میں حاصل ہوگی، درخواست کی منظوری پر امیدوار کو ایس ایم ایس کے ذریعے مطلع کیا جائے گا۔

بلادی سے مزید