آپ آف لائن ہیں
بدھ5؍ صفر المظفّر 1442ھ23؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مفتی احمد میاں برکاتی

’’ عیدالاضحی‘‘ کے موقع پر قربانی ایک ایسی عبادت ہے، جو بلا کسی اختلاف کے چودہ سوبرس سے جاری ہے اور مسلمان ہرسال عید کے موقعے پر اس دینی فریضے کو ادا کرتے چلے آئے ہیں ۔ہر صاحب استطاعت مسلمان پر ہر سال ذوالحجہ کےمتعین دنوں میں قربانی کرنا واجب ہے،لیکن اﷲ تعالیٰ نے پہلے ہی خبر دار کر دیا کہ اسے نہ تو قربانی کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ہی خون،بلکہ اسے تو تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔نیز فرمایا کہ اخلاص والوں کو جنت کی بشارت دے دیجیے،یعنی قربانی میں بنیادی شرط اخلاص ہے جس کا بہترین نمونہ حضرت ابراہیم ؑ نے قائم کر کے دکھادیا۔ ’’قربانی‘‘ دراصل وہ ذبحِ عظیم ہے،جسے اللہ تعالیٰ نے حضرت اسمٰعیلؑ کا فِدیہ قرار دیا ‘ لہٰذا اللہ کی راہ میں جانور قربان کرنا درحقیقت اپنے آپ کو قربان کرنے کا قائم مقام ہے۔یہ اس بات کا اقرار ہے کہ ہماری جان اللہ کی راہ میں نذر ہوچکی ہے‘اور وہ جب اسے طلب کرے گا‘ ہم بِلاتامّل پیش کردیںگے۔

اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا:یوم النحر (دسویں ذوالحجہ)میں ابن آدم کا کوئی عمل اللہ کے نزدیک خون بہانے (قربانی کرنے )سے زیادہ پیارا نہیں اورقربانی کا جانورقیامت کے دن اپنے سینگ، بال اور کھروں کے ساتھ آئے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے قبل اللہ کے نز دیک مقام قبولیت کوپہنچ جاتا ہے، لہٰذااسے خوش دلی سے کرو۔‘‘(ابوداؤد، ترمذی،ابن ماجہ)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قربانی کیا کرو اور اس میں دلوں کی بشاشت بھی پیدا کرو۔اس لیے کہ جو شخص اس دن اپنے قربانی کے جانور کو پکڑ کر قبلہ رُخ لٹاتا ہے یعنی ذبح کرتا ہے تو اس کے سینگ، بال، اون اور خون وغیرہ تمام اشیاء قیامت میں حاضر کی جائیں گی اورقربانی کا خون جب زمین پر گرتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں ہوتا ہے۔ تھوڑا خرچ کرو اور بے حساب اجر پائو۔دوسری جانب جو لوگ استطاعت کے باوجود قربانی نہیں کرتے ان کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا :جو شخص قربانی کی گنجائش رکھتا ہو اور وہ اس کے باوجود قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ میں نہ آئے۔ (حاکم)

دیکھنے میں یہ آتا ہے کہ اول تو مختلف حیلوں بہانوں کے ذریعے قربانی سے بچنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اگر ناچار قربانی کرنا ہی پڑے تو کوئی سستا سا جانور تلاش کیا جاتا ہے۔ یہ عمل کم از کم کسی مسلمان کو تو زیب نہیں دیتا۔ سنت ابراہیمی کی اتباع میں اتنا تو کر سکتے ہیں اس کے دیے ہوئے مال میں سے اسی کے نام پر بہترین جانور خرید کر قربان کریں، کیوںکہ قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ اپنے نفس،اپنی خواہشات اور دل کے چور کو قربان کرنے کے عزم کے اظہار بھی ہے۔ہم قربانی کرتے ہوئے صرف جانور کے گلے پر چھری نہیں چلاتے،بلکہ اپنے نفس اور ناجائز خواہشات کو رب کائنا ت کے حکم پر قربان کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہیں اور یہی قربانی کی اصل روح اور مقصد ہے جس کے بغیر قربانی کی رسم تو پوری ہوجائے گی،لیکن ہم اس ارفع و اعلیٰ مقصد کے حصو ل سے محروم رہیں گے جو اس فریضے کا فلسفہ اور اﷲ تعالیٰ کے اس حکم کو عملی جامہ پہنانے کا ایک ذریعہ ہے کہ ’’کہہ دیجیے کہ بے شک، میری نماز اور قربانی اور میرا جینا اور مرنا سب اﷲ رب العالمین کے لیے ہے۔‘‘ قربانی قرب الٰہی کا ذریعہ ہے،اس کی اصل روح تقویٰ اور پرہیزگاری ہے۔

حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺنے ارشاد فرمایا جو مال عید کے دن قربانی میں خرچ کیا گیا اس سے زیادہ کوئی مال پیارا نہیں۔‘‘ (طبرانی)حضرت ابوہریرہؓ راوی ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایاجس میں وسعت ہو اور اس کے باوجود وہ قربانی نہ کرے،تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب بھی نہ آئے۔(ابن ماجہ )

ابن ماجہ نے زید بن ارقمؓ سے روایت کی ہے کہ صحابہؓ نے عرض کیا یارسول اﷲ ﷺیہ قربانیاں کیا ہیں؟آپﷺ نے فرمایا: تمہارے باپ ابراہیمؑ کی سنت ہے، لوگوں نے عرض کیا یارسول اﷲ ﷺہمارے لیے اس میں کیا ثواب ہے ؟فرمایا ہر بال کے مقابل نیکی ہے، عرض کیا گیا کہ اُون کا کیا حکم ہے ،فرمایا اُون کے ہر بال کے بدلے نیکی ہے۔‘‘(ابن ماجہ )

نبی کریم ﷺنے عیدالاضحی کے دن فرمایا: سب سے پہلے جوکام آج ہم کریںگے،وہ یہ ہے کہ نماز پڑھیں پھر اُس کے بعد قربانی کریںگے جس نے ایسا کیا اُس نے ہمارے(طریقہ) کو پالیااور جس نے پہلے ذبح کرلیا، وہ گوشت ہے جو اس نے پہلے سے اپنے گھر والوں کے لیے تیار کرلیا، قربانی سے اُسے کچھ تعلق نہیں۔حضرت ابوبردہ ؓ کھڑے ہوئے اور یہ پہلے ہی ذبح کر چکے تھے (اس خیال سے کہ پڑوس کے لوگ غریب تھے،انہوں نے چاہا کہ اُنہیں گوشت مل جائے )اور عرض کیا یارسول اﷲﷺمیرے پاس بکری کا چھ ماہ کا ایک بچہ ہے ،فرمایاتم اُسے ذبح کرلو اور تمہارے سواکسی کے لیے چھ ماہ کا بچہ کفایت نہیں کرے گا۔‘‘(صحیح بخاری )

حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے قربانی کے دن دومینڈھے سینگ والے چِت کبرے،خصّی کیے ہوئے ذبح کیے جب اُن کا منہ قبلے کی طرف کیا توقربانی کی دعا پڑھی۔‘‘(ابو داؤد ،ابن ماجہ)

ایک روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے یہ فرمایا:الٰہی یہ میری طرف سے ہے اور میری امت میں اس کی طرف سے جس نے قربانی نہیں کی ۔

حضرت عبد اﷲ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: قربانی میں گائے سات کی طرف سے اور اونٹ سات کی طرف سے ہے۔(طبرانی)