آپ آف لائن ہیں
جمعرات 15؍ ذی الحج 1441ھ6؍اگست2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

’لوڈ پستول پولیس افسر کے ہاتھ میں تھی، عقب سے ایک گولی ماری گئی‘

کراچی میں ناردرن بائی پاس پر گزشتہ رات پولیس افسر کی ٹارگٹ کلنگ کے وقت لوڈ پستول مقتول پولیس سب انسپکٹر یار محمد کے ہاتھ میں تھی انہیں عقب سے ایک ہی گولی ماری گئی۔ کاونٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ تھانے میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جبکہ نماز جنازہ کے بعد میت فیصل آباد روانہ کر دی گئی ہے۔

پولیس کے مطابق گلشن معمار تھانے میں دن کی ڈیوٹی پر تعینات سب انسپکٹر یار محمد گزشتہ رات 8 بجے ڈیوٹی ختم کرکے پولیس کانسٹیبل غوث بخش کے ساتھ قائد آباد میں واقع اپنے گھر جانے کے لیے روانہ ہوئے۔

ایس ایس پی ملیر عرفان بہادر کے مطابق اکثر ایسا ہوتا تھا کہ سب انسپکٹر یار محمد پولیس کانسٹیبل غوث بخش کے ساتھ موٹر سائیکل پر تھانے سے گھر کے لیے روانہ ہوتے تھے، وہ عباس کٹ سے نادرن بائی پاس سے ہوتے ہوئے موٹروے سے ملیر ماڈل کالونی لنک روڈ لیتے تھے۔

عرفان بہادر کے مطابق پولیس کانسٹیبل غوث بخش سب انسپکٹر یار محمد کو ملیر ہالٹ بس اسٹاپ پر موٹرسائیکل سے اُتار دیتے تھے جہاں سے یار محمد بس میں سوار ہوکر قائد آباد کے لیے روانہ ہو جاتے تھے۔ پولیس کے مطابق واردات کے وقت بھی غوث بخش ساتھ تھے جو سی ٹی ڈی تھانے میں قتل اور انسداد دہشتگردی کی دفعات کے تحت درج مقدمہ نمبر 114 میں مدعی ہیں۔

پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق گلشن معمار تھانے سے روانہ ہوکر نادرن بائی پاس تک پہنچنے کے لیے ویران علاقے میں وارداتوں کا خطرہ رہتا ہے جس بنا پر سب انسپکٹر یار محمد نے موٹر سائیکل پر سفر کے دوران اپنا لائسنس یافتہ پستول لوڈ کرکے اپنے ہاتھ میں رکھا ہوا تھا اور وہ کسی بھی ممکنہ واردات کی صورت میں پہلے سے چوکنا تھے۔

پولیس ذرائع کے مطابق واردات کرنے والوں کو شاید اس بات کا اندازہ تھا اور شاید اسی بنا پر ملزمان نے عقب سے وار کیا۔

ایس ایس پی عرفان بہادر کے مطابق عقب سے ماری گئی ایک ہی گولی یار محمد کے دل کو چھیدتے ہوئے سامنے سے نکل گئی اور یہ ایک ہی گولی یار محمد کی فوری موت کا سبب بنی۔

اس واردات کے واحد عینی شاہد اور مدعی کانسٹیبل غوث بخش کے مطابق ملزمان دو تھے جنہیں وہ سامنے آنے پر شناخت کر سکتے ہیں۔

غوث بخش کے مطابق ملزمان نے ایک ہی گولی چلائی میڈیکل رپورٹ کے مطابق یار محمد کو ایک ہی گولی لگی تاہم پولیس کے مطابق اسے گولی کا خول تاحال برآمد نہیں ہو سکا۔

جولائی میں ہونے والی پولیس کی ٹارگٹ کلنگ کی تین وارداتوں میں ملزمان شہید اہلکاروں سے اسلحہ بھی چھین کر لے جاتے رہے ہیں مگر اس واردات میں پستول سامنے ہونے کے باوجود ملزمان کو مبینہ طور پر اسلحہ چھیننے کی ہمت نہیں ہوئی یا ان کا مقصد محض پولیس افسر کی ٹارگٹ کلنگ تھی۔

پولیس کا خیال ہے کہ ملزمان نے سب انسپکٹر یار محمد کا تھانے سے روانگی کے وقت ہی تعاقب شروع کر دیا تھا اور وہ ویران مقام پر واردات کے بعد فرار ہوگئے۔

کراچی میں دہشت گردی کے واقعات کی تفتیش کے ماہر سی ٹی ڈی افسر راجہ عمر خطاب کے مطابق کراچی میں پولیس کی ٹارگٹ کلنگ میں ایم کیو ایم لندن کے ملوث ہونے کا شبہ کیا جا رہا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس دہشت گردی میں کالعدم لشکر جھنگوی کے ملوث ہونے کا بھی شبہ کیا جا رہا ہے۔

ایس ایس پی عرفان بہادر کے مطابق گلشن معمار کا علاقہ ایم کیو ایم لندن کے ساتھ ساتھ کالعدم دہشتگرد مذہبی تنظیموں کا بھی طویل عرصے سے محفوظ ٹھکانا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یار محمد نے اب تک کن کن ملزمان کو گرفتار کیا یا کن کیسز کی تفتیش کی؟ یہ تمام تفصیلات جمع کی جارہی ہیں۔

مقتول پولیس سب انسپکٹر یار محمد نے چار بیٹیوں، دو بیٹوں اور بیوہ کو سوگوار چھوڑا ہے۔ مقتول یار محمد کی نماز جنازہ گارڈن پولیس ہیڈ کوارٹر میں ادا کی گئی، جس میں ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن اور دیگر پولیس افسران نے شرکت کی۔

پولیس ترجمان کے مطابق شہید یار محمد کی میت تدفین کے لیے آبائی شہر فیصل آباد روانہ کردی گئی ہے۔

قومی خبریں سے مزید