آپ آف لائن ہیں
اتوار2؍صفر المظفّر 1442ھ 20؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اسلام کا فلسفہ قربانی اور اس کا تاریخی پس منظر

مولانا نعمان نعیم

(مہتمم جامعہ بنوریہ عالمیہ)

ارشادِ ربانی ہے:ترجمہ: اور انہیں آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کا قصہ بھی ٹھیک ٹھیک سنا دیجئے جب ان دونوں نے قربانی کی تو ایک کی قربانی قبول ہوئی اور دوسرے کی قبول نہیں ہوئی۔ (سورۃ المائدہ :۱۸۳ )

علامہ اِبن کثیر رحمہ اللہ نے اِس آیت کے تحت حضرت اِبن عباسؓ سے رِوایت نقل کی ہے کہ ہابیل نے مینڈھے کی قربانی کی اور قابیل نے کھیت کی پیداوار میں سے کچھ غلہ صدقہ کرکے قربانی پیش کی، اُس زمانے کے دستور کے موافق آسمانی آگ نازل ہوئی اور ہابیل کے مینڈھے کو کھا لیا، قابیل کی قربانی کو چھوڑ دِیا۔( تفسیر ابن کثیر ۲/۵۱۸)اِس سے معلوم ہوا کہ قربانی کا عبادت ہونا حضرت آدَم علیہ السلام کے زمانے سے ہے اور اس کی حقیقت تقریباً ہرملت میں رہی، البتہ اس کی خاص شان اور پہچان حضرت اِبراہیم و حضرت اِسماعیل علیہما السلام کے واقعے سے ہوئی، اور اسی کی یادگار کے طور پراُمتِ محمدیہ پر قربانی کو واجب قرار دیا گیا۔

جس کی تفصیل یہ ہے۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام جلیل القدر نبی و پیغمبر ہیں۔ اولاد آدم کی سب سے عظیم قربانی سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں دیکھا تھا کہ میں اپنے بیٹےاسماعیل ؑکو ذبح کر رہا ہوں۔ نبیوں کا خواب سچا اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوتا تھا، چناںچہ صبح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے فرمایا: بیٹے میں نے ایک خواب دیکھا ہے جس میں میں اپنے ہاتھ سے تجھے بحکمِ الٰہی ذبح کررہا ہوں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اس قربانی کا ان الفاظ میں ذکر فرمایا ہے۔ ترجمہ: اے میرے بیٹے میں دیکھتا ہوں خواب میں کہ میں آپ کو ذبح کرتا ہوں پس بیٹا آپ کی کیا رائے ہے؟ بیٹے نے کیا ہی خوب جواب دیا۔ ابا جان، آپ کو جو حکم ہوا ہے، اس پر عمل کر گزریے، آپ مجھے انشاء اللہ صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔((سورۃ الصافات)

چناںچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو مکہ مکرمہ سے لے کر چلے اور منیٰ میں ذبح کرنے کی نیت سے ایک چھری ساتھ لی، جب منیٰ میں داخل ہونے لگے، آپؑ کے بیٹے کو شیطان بہکانے لگا حضرت ابراہیم علیہ السلام کو پتہ چلا تو شیطان کو ’’اللہ اکبر‘‘ کہہ کر سات کنکریاں ماریں جس کی وجہ سے وہ زمین میں دھنس گیا دونوں باپ بیٹے آگے بڑھے تو پھر زمین نے اسے چھوڑ دیا کچھ دور جاکر شیطان پھر بہکانے لگا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پھر اسے’’ اللہ اکبر‘‘ کہہ کر سات کنکریاں ماریں وہ پھر زمین میں دھنس گیا، یہ دونوں آگے بڑھے زمین نے اسے چھوڑ دیا تو یہ شیطان پھر سے ورغلانے لگا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پھر اسے ’’اللہ اکبر‘‘ کہہ کر سات کنکریاں ماریں پھر وہ زمین میں دھنس گیا اس کے بعد آگے بڑھ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو پیشانی کی بل لٹادیا۔

ایک بزرگ نے فرمایا تیسری دفعہ شیطان عورت کی شکل میں حضرت ہاجرہؑ کے پاس آیا اور کہا تمہیں معلوم ہے یہ اسماعیل کو کہاں لے کر گئے ہیں؟ حضرت ہاجرہؑ نے فرمایا: حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے دوست سے ملنے گئے ہیں؟ تو شیطان نے کہا وہ تو اسے ذبح کرنے لے گئے ہیں۔ حضرت ہاجرہؑ نے فرمایا: ایسا نہیں ہو سکتا تو شیطان خبیث کے منہ سے نکل گیا ،اللہ کا حکم ہے۔ حضرت ہاجرہؑ کا جواب یہ تھا: اگر اللہ نے حکم دیا ہے تو ایک اسماعیل کیا سو اسماعیل بھی قربان ہیں۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹا دیا، ابھی ذبح کرنے نہ پائے تھے کہ آسمان سے ندا آئی ’’یا ابراہیم قد صدّقت الرُّؤیا‘‘۔ یعنی اے ابراہیم تم نے اپنا خواب سچا کر دکھایا، پھر اللہ نے ایک مینڈھا بھیجا جسے اپنے بیٹے کی جانب سے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ذبح کردیا۔ ذبح تو کیا مینڈھا اور ثواب مل گیا بیٹے کی قربانی کا۔

اسی قربانی کی یادگار میں اہلِ ایمان ہر سال جانوروں کے قربانی کرتے ہیں۔ حج کے موقع پر جو کنکریاں ماری جاتی ہیں، ان کی ابتدا بھی اسی واقعے سے ہوتی ہے ،حجاج ان ہی تین جگہوں پر کنکریاں مارتے ہیں ،جہاں شیطان زمین میں دھنس گیا تھا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے جانوروں کی قربانی کرنا عبادت میں شمار ہوگیا۔ چناںچہ حضرت محمدﷺ کی امت کے لیے بھی قربانی مشروع کی گئی، ہر صاحب حیثیت پر قربانی واجب ہے اور اگر کسی کی اتنی حیثیت نہ ہو اوروہ قربانی کردے ،تب بھی عظیم ثواب کا مستحق ہوگا۔

حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے فرمایا کہ رسول اکر م ﷺ نے مدینہ منورہ میں دس سال قیام فرمایا اور ہر سال پابندی سے قربانی فرماتے تھے۔(مشکوٰۃ)

حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ حضور اقدسﷺ نے فرمایا: بقرعید کے دن قربانی کا خون بہانے سے بڑھ کر کوئی عمل اللہ کے نزدیک محبوب نہیں ہے اور بلاشبہ قربانی کرنے ولا قیامت کے دن اپنی قربانی کے سینگوں، بالوں اور کھروں کو لے کر آئے گا (یعنی یہ حقیر اشیاء بھی اپنے وزن اور تعداد کے اعتبار سے ثواب میں اضافے کا سبب بنیں گی اور (یہ بھی) فرمایا کہ بلاشبہ قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے نزدیک درجہ قبولیت حاصل کرلیتا ہے ،لہٰذا خوب خوش دلی سے قربانی کرو۔ (مشکوٰۃ)

حضرت زیدبن ارقمؓ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ سے صحابہؓ نے عرض کیا کہ یا رسولﷺ یہ قربانیاں کیا ہیں؟آپﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے، صحابہؓ نے عرض کیا، ہمارے لیے اس میں کیا ثواب اور اجر ہے؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا : ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے۔ صحابہؓ نے عرض کیا، اگر اون والا جانور ہو (یعنی دنبہ ہو جس کے بال بہت ہوتے ہیں) اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: اس کے بھی ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے۔ (مشکوٰۃ)

مذکورہ احادیث مبارکہ سے معلوم ہوا عیدالاضحی کے دن قربانی کرنا، اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب ترین عمل ہے، پس جو عمل محبوب حقیقی کو محبوب ہو، اسے کس قدر محبت اور اہتمام سے کرنا چاہیے، اس دن قربانی کرنا ہمیں اللہ سے کتنا قریب لے جائے گا اور ہم پر سے کتنی مصیبتیں ٹل جائیں گی، اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے، اگران تین دنوں میں کوئی شخص واجب قربانی نہ کرے اور اس کے بجائے سونا چاندی خرچ کرے اللہ کے راستے میں یا درہم و دینار خرچ کرے یا اور خیر خیرات کے کام کرے، رفاہی اداروں میں رقم دے، یہ اللہ کو پسند نہیں، سوائے اس کے کہ قربانی کےجانور کے گلے پر چھری پھیرے ،قربانی کے دنوں میں اللہ کو اولاد آدم کا یہ عمل بے حدمحبوب ہے۔

قربانی کی دعا…!

قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت اسے قبلہ رُخ لٹائیں اور اس کے بعد یہ دعا پڑھیں:

’’اِنِّیْ وجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّمَا اَنَا مِنَ المُشْرِکِیْنَ o

اِنَّ صَلٰوتِیْ وَنُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنo

لاَ شَرِ یْک لَہ‘ وَبِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَاََنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَoاَللّٰھُمَّ مِنْکَ وَلَکَ‘‘۔

اس کے بعد’’ بِسْمِ اللہِ اَللہُ اَکْبَر‘‘ کہہ کر قربانی کا جانورذبح کریں۔(سنن ابو داؤد)

ذبح کرنے کے بعد یہ دعا پڑھیں:

اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْہُ مِنِّیْ کَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ حَبِیْبِکَ مُحَمَّدٍ وَّ خَلِیْلِکَ اِبْرَاھِیْمَ عَلَیْھِمَاالسَّلامُ۔