آپ آف لائن ہیں
بدھ12؍ صفر المظفّر 1442ھ30؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آرٹیکل 149 کی بات سمجھ سے بالاتر ہے، مراد علی شاہ


وزیراعلیٰ سندھ سید مرا دعلی شاہ نے کہا ہے کہ آرٹیکل 149 سمجھ سے بالاتر ہے جسکو سمجھ آئے مجھے بھی سمجھائے، ابھی تو ان کے بہت سے سونپے گئے کام بھی ہم نہیں کرتے۔

کوشش کررہے ہیں کہ ڈی ایم سی اور کے ایم سی کے ساتھ مل کر شہر کے مسائل حل کئے جائیں۔ اس سال وہاں پانی جمع ہوا جہاں توقع بھی نہیں تھی، تین روز بارشیں متوقع ہیں اسی کی تیاری کررہے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج کراچی کے مختلف علاقوں کے ہنگامی دورے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ 

اس موقع پر وزیر بلدیات سید ناصر شاہ، سعید غنی اور مرتضیٰ وہاب بھی انکے ہمراہ تھے۔

وزیراعلیٰ نے جن علاقوں کا آج دورہ کیا ان میں قیوم آباد، محمود آباد نالہ، گجرنالہ لیاقت آباد نمبر چار، اورنگی نالہ، گرین لائن کے ڈی اے چورنگی اور حیدری کا علاقہ شامل تھا۔

اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ مسائل بہت زیادہ ہیں لیکن حیرت اس بات پر ہوئی کہ اس بار جو 26 اور 27 جولائی کو بارشیں ہوئی اس میں وہاں پر پانی جمع ہوا جہاں ایسا نہیں ہوتا، جن وجوہات پر مسائل آرہے ہیں انہیں ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے اس سال صفائی ستھرائی کا کام میں تاخیر ضرور ہوئی ہے لیکن ہم نے ورلڈ بینک کے سوئپ پروگرام کے تعاون سے فنڈز سے قبل ہی کام شروع کردیا ہے جسکو وہ بعد میں جاری کرینگے۔

مراد علی شاہ نے بتایا کہ رواں سال مون سون کا تیسرا اسپیل 6 اگست سے آرہا ہے اس کے لئے جتنی تیاری کرنی ہے کرلیں خصوصاً کراچی شہر میں ضروری ہے، کوشش ہے آئندہ اسپیل سے پہلے تیاری کرلیں گے۔

انھوں نے بتایا کہ تھرپارکر، حیدرآباد، میرپورخاص جیسے دیگر شہر کا بھی ارادہ رکھتا ہوں کہ دورہ کرکے صفائی ستھرائی کے کام کا جائزہ لوں اور جو مسائل ہیں انکی حل کی ہدایت کرسکوں۔ انھوں نے بتایا کہ عوام کو آگاہی دی جائے گی کہ بارشوں سے کیسے نمٹا جاسکتا ہے۔

گرین لائین سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ چیئرمین ڈی ایم سی وسطی ریحان ہاشمی نے منصوبے سے متعلق آگاہی دی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ وزیراعظم کو گزشتہ اجلاس میں بتایا تھا کہ ایس آئی ڈی سی ایل یا کے آئی ڈی سی ایل جو بھی کام کرے وہ مقامی لوگوں کے ساتھ مشاورت کے ساتھ شروع کرے تاکہ ڈپلی کیشن نہ ہو اور نہ وہ ہمارے کام میں خلل ڈالیں نہ ہم انکے کام میں خلل ڈال سکیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ قانون تو موجود ہے لیکن ہم اگر  نالوں پر آبادی کا ذکر کرتے ہیں تو سیاسی انتقام کا الزام لگتا ہے، لیکن جو یہ کام کرتے ہیں انکو میڈیا بھی ہائی لائٹ کرے جیسا کے بہت سی چیزیں اس بار میڈیا نے مثبت بتائی ہیں، نالوں پر تجاوزات بنانے والوں کو میڈیا بے نقاب کرے۔ 

 ایک صحافی کی جانب سے پوچھے گئے اعداد و شمار کے سوال کے جواب میں بتایا کہ تمام اعداد و شمار صحیح نہیں۔ انھوں نے بتایا کہ نالوں کی صفائی ضرور ہوئی ہے ۔ ہم کے ایم سی کو پیسے دیتے تھے، 2017 میں وزیر بلدیات جام خان شورو کے دور میں سندھ حکومت نے نالے صاف کروائے تھے۔ کراچی بہت بڑا شہر ہے۔ برساتی نالے سیوریج کی لائنوں سے ملے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے مشکلات ہوتی ہیں۔

آرٹیکل 149 سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ جو اس آرٹیکل کی بات کی جارہی ہے وہ سمجھ سے بالاتر ہے جسکو سمجھ آجائے مجھے بھی سمجھائے۔ اس وقت تو وہ اپنے بہت سے کام ہمیں سونپتے ہیں جسکو ہم نہیں کرتے۔ 

قومی خبریں سے مزید