آپ آف لائن ہیں
منگل11؍صفر المظفّر 1442ھ 29؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ارطغرل ڈرامہ پاکستانی ڈراموں کیلئے رول ماڈل ہے، لیلیٰ زبیری

پاکستانی ڈرامہ انڈسڑی کی سنیئر اداکارہ لیلیٰ زبیری نے ترک ڈرامہ سیریل ’ارطغرل غازی‘ کو پاکستانی ڈراموں کے لیے رول ماڈل قرار دے دیا ہے۔

ترک سیریز ’دیرلیش ارطغرل غازی‘ کے پاکستان میں نشر ہوتے ہی پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری دو حصوں میں بٹ گئی ہے، چند فنکاروں کی نظر میں ترکی ڈراموں کا پاکستان میں نشر کیے جانے میں کوئی قباحت نہیں اور چند اداکار اس ڈرامے کے نشر ہونے کے خلاف بول رہے ہیں جبکہ پاکستانی عوام کی جانب سے اس ڈرامے کو بے حد پسند کیا جارہا ہے ۔

حال ہی میں پاکستانی اداکارہ لیلیٰ زبیری سے انٹرویو کے دوران ڈرامہ سیریل ارطغرل غازی سے متعلق سوال کیا گیا جس پر اُن کا کہنا تھا کہ ’وہ شروع سے ہی غیر ملکی ڈراموں کے پاکستان میں نشر ہونے کے خلاف رہی ہیں، وہ بھارتی ڈراموں کے بہت زیادہ خلاف ہیں کیوں کے بھارتی ڈرامے پاکستانی ثقافت پر اثر انداز ہو رہے تھے، بھارتی ڈرامے پاکستان میں نشر ہونا بند ہو گئے ہیں یہ بہت اچھا ہوا ہے۔‘


لیلیٰ زبیری کا کہنا تھا کہ ’ہمارے لیے یہ ڈرامہ ایک طرح سے سبق ہے اور ہمارے ڈراموں کے لیے رول ماڈل ہے، ہمیں بھی ایسے ڈرامے بنانے چاہیے، ہمارے پاس اتنا بڑا بجٹ نہیں مگر کوشش کی جا سکتی ہے ۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’جہاں تک ارطغرل کا سوال ہے تو وہ سمجھتی ہیں کہ ارطغرل ایک اسلامی تاریخ پر مبنی ڈرامہ ہے اور اچھی بات ہے کہ ہمیں اسلامی تاریخ کا پتہ ہونا چاہیے، اگر ارطغرل غازی جیسے ڈرامے دکھائیں تو اِس پر اُنہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔‘

لیلیٰ زبیری کا کہنا تھا کہ ’ اگر غیر ملکی ڈرامے ہمارے چینلز پر نشر ہوں گے اس سے ہمارے فنکاروں اور ہمارے ڈراموں پر منفی اثر پڑتا ہے، ہمارے فنکاروں کو کام نہیں ملتا ہے اور بے روزگار ہو جاتے ہیں۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ارطغرل ڈرامہ بہت دیکھا جا رہا ہے، اس کا مطلب ہے عوام ایسا ڈرامہ دیکھنا چاہتی ہے ،ہمیں بھی ایسے ڈرامے بنانے چاہئیں بجائے اس کے کہ فضول قسم کے پیار، محبت اور افیئرز سے ہٹ کر ہمیں ایسے موضوع پر کام کرنا چاہیے۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید