آپ آف لائن ہیں
اتوار2؍صفر المظفّر 1442ھ 20؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کل اور آج میں فرق

کل :لوگ روکھی سوکھی کھاکے بھی خوش ہوتے تھے

آج:ایک سے ایک چیز کھا کر کہتے ہیں مزہ نہیںآیا

کل :بچے زیادہ خرچے کم ہو اکرتے تھے

آج :بچے کم خرچے اور زیادہ ہوتے ہیں

کل :پہلے لوگ نماز اور توبہ کرکے پر سکون ہوتے تھے

آج:فلم دیکھ کر ،نیند کی گولی کھا کر بھی سکون نہیں

کل :ہم حیثیت میں غریب پر دل کے امیر ہوتے تھے

آج :حیثیت میں امیر پر دل کے غریب ہیں _۔۔۔

…٭…٭…٭…٭…

زندگی کو آسان بنا لیا

میں نے زندگی کو آسان بنا لیا ، ظرف کو وسیع کرلیا

جو ساتھ چلتا رہا اس کو روکا نہیں جو رک گیا

اسے ساتھ چلنے کو کہانہیں ، شکوے شکایتیں کم کردیں

جس نے ہاتھ بڑھایا اسے تھام لیا اور

جس نے دامن چھڑایا اسے خدا حافظ کہا

اس سے وجہ نہ پوچھی

لوگوں سے امیدیں لگانا چھوڑ دی

ملنا جلنا کم کردیا ، خواہشیں مختصر ہوگئی

اور اس طر ح زندگی آسان ہوگئی

…٭……٭……٭…

ایک لڑکی نے پوسٹ کی

اگر ماں باپ کو رکھنے کا حق بیٹیوں کو مل جاتا تو پورے ملک میں ایک بھی اولڈ ہاؤس نہیں ہوتا

اس پر ایک لڑکے نے بہت سمجھد داری کاجواب دیا :

اگر وہی بیٹیاں شادی کے بعد اپنے ساس ،سسر کو ہی اپنے ماں باپ مان لے تو ملک تو کیا پوری دنیا میں ایک بھی اولڈ ہائوس نہیں رہے گا ۔

…٭……٭……٭…

انسان تب سمجھدار نہیں ہوتا جب وہ بڑی بڑی باتیں کرنے لگے ، بلکہ وہ سمجھ دار تب ہوتا ہے جب وہ چھوٹی چھوٹی باتیں سمجھنے لگتا ہے۔

…٭……٭……٭…

یہ مرد بیچارے

بیوی کہتی ہے بھاڑ میں جائو

تو دفتر چلے جاتے ہیں

باس کہتا ہے جہنم میں

جائو تو گھر آجاتے ہیں

…٭……٭……٭…

کسی کی میٹھی باتوں کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہوتا کہ آپ اُس کے لیے خاص ہیں۔

بعض اوقات ،کبوتر کو کھلانے کے لیے نہیں ،بلکہ پکڑنے کے لیے بھی دانا ڈالا جاتا ہے _…

…٭……٭……٭…

’’خاموش نصیحت ‘‘

میں نے کہا ’’بابا جی ! میں غریب ہوں

باباجی بولے :تم دیتے جو نہیں ہو

میں نے کہا :میرے پاس کچھ ہے ہی نہیں دینے کو

باباجی بولے :کیوں نہیں ہے ؟بہت کچھ ہے

تمہارے پاس چہرہ ہے ،جس سے لوگوں کو مسکراہٹ دے سکتے ہو ،تمہاری زبان ہے ،لوگوں سے اچھی اور بھلی بات کرسکتے ہو ،تمہارا دل ہے اسے دوسروں کے لیے کھلا رکھ سکتے ہو ،تمہاری آنکھیں ہیں جس سے تم اپنی برائیاں اور دوسروں میں اچھائیاں تلاش کرسکتی ہو ،دراصل ہم اتنے غریب ہوتے نہیں ،

جتنی بچارگی دکھاتے ہیں ،

زندگی یہ نہیں کہ ہم کتنا جیتے ہیں ،

زندگی یہ ہے کہ ہم جیتے کیسے ہیں

…٭…٭…٭…٭…

والدین بیٹی کو بیٹا کہہ کر پکار لیتے ہیں

مگر بیٹے کو بیٹی کہہ کر نہیں پکارا جاتا

کیونکہ بیٹیاں خاص ہوتی ہیں

وہ وقت آنے پر بیٹا بھی بن کر دکھاتی ہیں!!

اور بیٹیوں کا کردار بھی بخوبی نبھاتی ہیں کبھی

والدین کی عزت کی خاطر آٹے میں آنسو گوندھتی ہیں

تو کبھی گھر کی بقا کے لیے مرد کے شابہ بشانہ چلتی ہیں

بے شک یہ اللہ کی رحمت ہیں ان کی ناقدری مت کیجئے