آپ آف لائن ہیں
ہفتہ8؍ صفر المظفّر 1442ھ 26؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سب سے مشکل کام تو یہ ہے کیسے ڈھونڈیں کامگلیوں میں آوارہ پھرتے رہتے ہیں بدنام کالم یعنی کالم کا موضوع ڈھونڈنا بھی ’’کام‘‘ ڈھونڈنے سے کم نہیں ہوتا۔ شرط یہ ہے اگر واقعی کالم لکھنا ہو، ورنہ تھوڑی سی خالی جگہ پُرکرنا تو کوئی کام نہیں۔ مثلاً آج ایک بھرپور کالم پاک سعودی تعلقات میں حالیہ ٹینشن پر بھی لکھا جا سکتا ہے۔

صرف ’’برادر اسلامی ملک‘‘ جیسی اصطلاح پر ہی الف لیلیٰ و لیلیٰ کی طرح ایک ہزار ایک کالم لکھا جا سکتا ہے۔ خلافتِ راشدہ کے بعد بنو اُمیہ اور بنو عباس تک، آلِ عثمان سے لیکر آلِ تیمور تک، سلاطینِ دہلی سے لیکر ایران کے صفویوں تک ’’برادران‘‘ اور ‘‘برادرانِ یوسف ‘‘ کی فہرست عمر خضر سے بھی لمبی ہے۔

’’برادر اسلامی‘‘ کی تاریخ میں نہ جھانکتے ہوئے صرف اپنے پاکستان کی صرف 72سالہ تاریخ ہی دیکھ لیں کہ عہدِ حاضر میں ’’برادر سیاستدانوں‘‘ نے ’’برادر عوام‘‘ اور خود اپنے برادر سیاست دانوں کے ساتھ کیا کِیا اور آج کی تاریخ تک کیا کچھ کر رہے ہیں۔

’’پاور پلے‘‘ تو کم بخت چیز ہی ایسی ہے جس میں نہ کوئی باپ ہوتا ہے نہ بیٹا، نہ برادر کیونکہ تلوار، تختہ دار اور اقتدار کبھی کسی کے رشتہ دار نہیں ہوتے۔ ’’پاور پلے‘‘ تو چھوڑیں ’’پاور ٹی پلے‘‘ میں بھی یہی کچھ ہوتا ہے کہ ’’برادر‘‘ ایک گلی میں بھی اکٹھے نہیں ہوتے ورنہ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد جیسے محاورے جنم نہ لیتے اور نہ یہ دعا اس مصرع میں ڈھلتی کہ’’ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے‘‘اس لئے اس موضوع سے پرہیز ہی بہتر ہے کیونکہ پوری طبی تاریخ اس بات پر متفق ہے کہ پرہیز علاج سے بہتر ہوتا ہے۔

بات شروع ہوئی تھی کالم کے موضوع کی تلاش سے تو دور کیا جانا، لاہور کے اس ’’جڑواں شہر‘‘ پر بھی بات ہو سکتی ہے جس کا افتتاح ہو چکا۔ اس پر دھیان دو سوالوں کو جنم دیتا ہے۔ پہلا یہ کہ جو شہر چلانے سے قاضر ہوں وہ شہر بنانے پر قادر کیسے؟ دوسرا یہ کہ ہمارا بسایا گیا تازہ ترین شہر اسلام آباد ہے جو شروع شروع میں جتنا خوبصورت اور صاف ستھرا تھا آج نہیں ہے اور جتنا آج ہے، خاکم بدہن کل نہیں ہو گا کیونکہ مکان اور مکین ہم زاد ہوتے ہیں۔

ہمارا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہم کچھ کئے بغیر بہت کچھ کر گزرنا چاہتے ہیں۔ پھر وہی منیر نیازی جو کہتے ہیں کہ ’’حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ‘‘۔ شاعری کی اپنی بہت سی مجبوریاں ہوتی ہیں ورنہ سچ یہ کہ کئی حوالوں سے سفر تو ریورس کا ہے ورنہ ’’تبدیلی‘‘ کے خواب کو گاہک کہاں سے ملتے؟ لیکن یہ ایک پہلو بہت مثبت ہے کہ ’’مومن‘‘ اس بار کسی پرانے سوراخ سے نہیں ڈسے گئے، سوراخ سو فیصد نیا تھا جو بذات خود اک بہت بڑی ’’تبدیلی‘‘ ہے۔اک اور سرسبز موضوع یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ملکی تاریخ کی سب سے بڑی شجر کاری مہم کا آغاز ہو چکا۔

درخت ہمارے ’’کزن‘‘ ہوتے ہیں۔ میں نے خود اپنے ہاتھوں سے ہزاروں نہ سہی سینکڑوں درخت لگائے اور پھر انہیں پروان چڑھتے جوان ہوتے ہوئے بھی دیکھا تو میرے لئے یہ مہم بہت ہی پُرکشش ہے۔ دعا ہے یہ خوب پھلے پھولے اور ہریالی کے حوالے سے پورا ملک جنگل بن جائے لیکن اک ایسا جنگل جس میں نہ درندے ہوں نہ جنگل کا قانون، چھوٹے چھوٹے پرندے ہوں جن کی اوجھڑیاں نہیں ’’پوٹے‘‘ ہوں جو جلدی بھر جایا کرتے ہیں۔ ساتھ ہرنوں، خرگوشوں جیسے بےضرر معصوم جانوروں کی بھرمار ہو جنہیں شکار کرنے پر شکاریوں کو نشانِ عبرت بنا دیا جائے۔

ذکر طوفانی بارشوں کا بھی ہو سکتا ہے جو تقریباً 20جانیں لے گئی۔ پہلے بارش کا لفظ سنتے ہی مجھے بےساختہ کئی شعر اور نغمے یاد آجاتے تھے لیکن اب صرف بلاول کا یہ قول زریں یاد آتا ہے کہ’’بارش آٹی ہے تو پانی آٹا ہے‘‘ان بدتمیز بارشوں کے نتیجہ میں سندھ سے بلوچستان تک کا زمینی راستہ منقطع ہو گیا۔ ندی نالوں میں طغیانی، درجنوں گھر منہدم، فصلیں تباہ، مویشی، پل، انسان بہہ گئے۔

حفاظتی بند ٹوٹ گئے، بجلی غائب، نائی گج ڈیم کو شدید نقصان، فوج کی امدادی کارروائیاں جاری۔سالہا سال سے یہی ہوتا آ رہا ہے اور جمہوریت جانے کب تک ایسا ہی ہوتا رہے گا۔

بارش’’ آٹی‘‘ رہے گی، پانی ’’آٹا‘‘ رہے گا، ضمیر کی منڈی میں شرم کا گھاٹا رہے گا اور دور دور تک یونہی سناٹا رہے گا۔الوداعی خبر بہت حوصلہ افزا اور خوبصورت ہے۔ گزشتہ دو تین بلکہ چار ٹی وی انٹرویوز میں میں نے ایسے ہی مثبت انڈیکیٹرز کا ذکر کیا تو ہوسٹ خواتین و حضرات نے تفصیل مانگی۔

میں نے ’’رپورٹ کارڈ‘‘ فیم علینہ شیخ سمیت سب سے کہا کہ تھوڑا انتظار کرلیں کیونکہ ایسے پروگرامز میں ایسی خبروں کا احاطہ ممکن نہیں تو تفصیلات اخباروں میں پڑھ لیں۔ موٹی بات یہ کہ ’’موڈیز‘‘ کے مطابق پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بی 3پر مستحکم ہے، کرنٹ اکائونٹ خسارہ میں کمی آئی ہے، شرح نمو ایک تا 2فیصد کے درمیان، ٹیکس ریونیو میں اضافہ کی توقع ہے۔

مختصراً یہ کہ بہتری کی ہوائیں سلوموشن میں چلنا شروع ہو چکیں، اسی لئے عرض کیا تھا کہ تازہ ترین کیفیت یہ ہے کہ خاکسار پنڈولم کی طرح امید اور ناامیدی کے درمیان جھول رہا ہے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998)