آپ آف لائن ہیں
ہفتہ8؍ صفر المظفّر 1442ھ 26؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

امریکہ اور چین کے درمیان کشیدگی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور اب معاشی تنازعات کے ساتھ سفارتی تنازعات بھی جنم لے رہے ہیں جس کی تازہ مثال امریکہ کا ہیوسٹن میں چینی قونصلیٹ کو جاسوسی کے الزام میں بند کرنا ہے۔ ’’نیویارک ٹائمز‘‘ کے مطابق دفاع، جدید ٹیکنالوجی، تجارت اور سفارتکاری میں امریکہ اور چین کے مابین تنازع بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں۔ عالمی معیشت کا 40فیصد انحصار امریکہ اور چین پر ہے۔ چین کی سب سے بڑی مارکیٹ امریکہ اور امریکہ کی تیسری بڑی مارکیٹ چین ہے۔ دونوں ممالک کی گڈز اور سروسز کی مجموعی تجارت 656ارب ڈالر ہے جو گزشتہ سال 760ارب ڈالر تھی جس میں چین کی امریکہ کو ایکسپورٹ 493ارب ڈالر ہے جو گزشتہ سال 582ارب ڈالر تھی جبکہ امریکہ کی چین کو ایکسپورٹ 163ارب ڈالر ہے جو گزشتہ سال 177ارب ڈالر تھی لہٰذا اس سال چین کے حق میں تجارتی خسارہ 330ارب ڈالر ہے جبکہ گزشتہ سال یہ 405ارب ڈالر تھا۔ امریکہ چین تجارتی جنگ میں امریکہ نے چینی مصنوعات پر اضافی ٹیکسز اور ڈیوٹیاں عائد کی ہیں جواباً چین نے بھی امریکی مصنوعات پر ڈیوٹیاں عائد کیں جس کی وجہ سے دونوں ممالک کی تجارت میں اس سال تقریباً 104ارب ڈالر کی کمی آئی۔

امریکہ کی سب سے بڑی ناراضی چین کی ایک بڑی موبائل کمپنی سے ہے جو فائیو جی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس میں دنیا بھر کی کمپنیوں کو پیچھے چھوڑ چکی ہے اور اِسی خوف سے امریکہ چین تجارتی جنگ شروع ہوئی۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے چین پر یہ کہہ کر تجارتی پابندیاں لگائیں کہ چین کی جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے اُن کا اہم ڈیٹا چینی کمیونسٹ پارٹی کے ہاتھ لگ سکتا ہے اور امریکہ کے بڑے اتحادی برطانیہ نے دبائو میں اُس چینی موبائل کمپنی، جس کے بارے میں امریکہ کا کہنا ہے کہ چین اسے جاسوسی کیلئے استعمال کررہا ہے، پر پابندی عائد کردی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو بھارت پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ٹیلی کمیونی کیشن اور صحت کے شعبوں میں چین پر انحصار کم کرے۔ امریکہ نے الزام لگایا ہے کہ چینی انٹیلی جنس نے کوڈ 19ویکسین سمیت درجنوں کمپنیوں کےملکیت کے حقوق چرانے کی سازش کی ہے لیکن دراصل یہ امریکی اسٹیبلشمنٹ کی جنگ ہے۔ اس کا تعلق ڈونلڈ ٹرمپ تک نہیں بلکہ اگر جوبائیڈن بھی صدر بنے تب بھی یہ پالیسی جاری رہے گی۔ گزشتہ دنوں چین اور ایران کے مابین طے پانے والے 400ارب ڈالر کے چابہار معاہدے کے تحت ایران اگلے 25برس تک چین کو سستا تیل فراہم کرے گا جس کے بدلےمیں چین ایران کے آئل، گیس اور پیٹروکیمیکل کے شعبوں کی ترقی کیلئے 280ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ معاہدے کے تحت ایران کے ٹرانسپورٹ اور مینوفیکچرنگ سیکٹر کے انفرااسٹرکچر کو اپ گریڈ کرنے کیلئے چین 120ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا جبکہ بارٹر نظام کے تحت ایرانی تیل کے بدلے اپنی مصنوعات اور خدمات ایران کو دے گا۔ اس معاہدے کے بعد ایران نے بھارت کو چابہار زاہدان ریلوے لائن منصوبے سے الگ کردیا اور اب ایران بھارت کے بغیر اس منصوبے کو مکمل کرے گا۔ یاد رہے کہ 2016ءمیں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے تہران کے دورے پر ایرانی صدر حسن روحانی اور افغانستان کے صدر اشرف غنی کے ساتھ 400ملین ڈالر کے سہ فریقی معاہدے پر دستخط کئے تھے جو 2022ءتک مکمل ہونا تھا جس کا بنیادی مقصد پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو ناکام بنانا اور خشکی کے راستے افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا تھا لیکن 4سال گزرنے کے باوجود چابہار زاہدان ریلوے لائن منصوبے پر کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی حالانکہ امریکہ نے اس منصوبے کو ایران پر امریکی پابندیوں سے مستثنیٰ رکھا تھاجبکہ ہم نے امریکی دبائو میں پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے جو ایران کی طرف سے تقریباً مکمل ہے، پر اپنے حصے کاکام روک دیا ہے۔ امریکہ کی پوری کوشش ہے کہ ایران کو معاشی طور پر کمزور کرنے کیلئے اس کی تیل کی ایکسپورٹ کو روکے۔ بھارت جو ایرانی تیل کا تیسرا بڑا خریدار تھا، نے امریکی دبائو میں آکرایران سے تیل کی خریداری بند کردی۔ ٹرمپ انتظامیہ کی اس جارحانہ پالیسی سے ایران کی تیل کی پیداوار جو 2018ء میں 4ملین بیرل یومیہ تھی، مارچ 2020ء میں کم ہوکر 2.5ملین بیرل یومیہ رہ گئی ہے جس سے ایران کی معاشی گروتھ میں 3.7فیصد کمی آئی ہے لیکن چین اور ایران کے حالیہ 25سالہ تیل کا معاہدہ دونوں ممالک کیلئے Win,Winصورتحال ہے۔ اطلاعات کے مطابق مستقبل میں چابہار بندرگاہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا حصہ بن جائے گی اور سی پیک پلس جس میں چین، پاکستان، روس، ترکی، ایران شامل ہیں، سی پیک کو وسط ایشیا اور یورپ سے ملادے گا جبکہ ہائی اسپیڈ ٹرین کے ذریعے چین کو وسط ایشیا اور ترکی کے ذریعے یورپ تک رسائی حاصل ہو جائے گی اور چین، پاکستان، ایران، روس اور ترکی خطے میں امریکہ اور بھارت کے مقابلے میں ایک طاقتور بلاک بن کر ابھریں گے۔

امریکہ خطے میں چین، ایران اور روس کی حکمت عملی سے پریشان ہے جنہوں نے گزشتہ دسمبر میں خلیج اومان میں مشترکہ فوجی مشقیں کی تھیں جو خطے میں امریکی دفاع کیلئے واضح پیغام تھا۔ چین پاکستان کا نہایت قابلِ اعتماد دوست ہے جس نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کی سفارتی، مالی اور تجارتی مدد کی ہے۔ 65ارب ڈالر کے سی پیک منصوبوں میں چینی سرمایہ کاری مستقبل میں خطے میں گیم چینجر ثابت ہوگی۔ جنوبی ایشیا میں تیزی سےرونما ہونے والی تبدیلیوں کے پیش نظر میری سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ سے درخواست ہے کہ وہ سی پیک کے منصوبوں کو بروقت پایہ تکمیل تک پہنچائیں تاکہ چینی حکومت کا ہم پر اعتماد قائم رہے ،بصورت دیگر حالات بدلنے سے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور چین کیلئے ان مواقع سے فائدہ اٹھانا آسان ہوگا۔ بھارتی اخراج اور چین ایران حالیہ معاہدہ اس کی ایک زندہ مثال ہے۔