آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پاکستان نے بہت اچھی کرکٹ کھیلی، شکست پر مایوسی ضرور ہوئی

اولڈ ٹریفورڈ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم جیتا ہوا میچ ہار گئی۔پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ اوراور چیف سلیکٹر مصباح الحق کا کہنا ہے کہ فتح اور شکست کے درمیان ہمیشہ ایک بہت معمولی فرق ہوتا ہے، ہار کے بعد خود کو کوسنا بھی بہت آسان ہوتا ہے، مگر ہمیں یہ ضرور یاد رکھنا چا ہئےکہ پاکستان نے بہت اچھی کرکٹ کھیلی اور میچ کے آخری سیشن کے علاوہ پاکستان کرکٹ ٹیم نے اس ٹیسٹ میچ میں اپنی گرفت برقرار رکھی۔ شکست پر مایوسی ضرور ہے مگر ہمیں اسے اپنے ذہنوں میں برقرار نہیں رکھناورنہ واپسی مشکل ہوگی اور لڑکوں کو بھی خود پر بھروساہے کہ وہ ابھی واپس آسکتے ہیں۔سابق کپتان نے کہا کہ مایوس اور افسردہ ضرور ہیں۔

مگر ہمیں ناامید نہیں ہونا چا ہیے۔مداحوں کو میرا پیغام ہے کہ پاکستانیوں نے اب تک ہمیں گھروں سے بھرپور سپورٹ کیا ہے۔ برائے مہربانی ہماری حمایت کرتے رہیں اورہم سیریز میں واپسی کی ہر ممکن کوشش کریں گے اور مجھے یقین ہے کہ اس ٹیم کے پاس یہ صلاحیت موجود ہے۔اگر ہم پورے ٹیسٹ میچ کا جائزہ لیں تو آخری سیشن کے علاوہ ہم نےتقریباًتمام تر سیشنز میں اپنی گرفت برقرار رکھی۔آپ کہہ سکتے ہیں کہ دوسری اننگز میں ایک سیشن ہم پر بہت بھاری پڑا اور پھرایسے ہی کرس وؤکس اور جوز بٹلر کے درمیان ایک شراکت بھی۔

انہوں نے بہترین جوابی وار کیا اورپھر کچھ ناتجربہ کاری اور پریشانی کے سبب ہماری ٹیم کو نقصان اٹھانا پڑا۔مصباح الحق نے کہا کہ یہ ایک غیرمعمولی دورہ ہے مگر ہم اس "ببل" میں بہت خوش اور پرسکون محسوس کررہے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ بہت زیادہ وقت گزار رہے ہیں جس کی وجہ سےاس گروپ کا آپس میں تعلق بہت مضبوط ہورہا ہے۔ 

ہم سب ایک ساتھ کھانا کھاتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مختلف گیمز کھیلتے ہیں۔ہمارے گروپ میں ٹیبل ٹینس کے بہت سے اچھے کھلاڑی موجود ہیں، جیسا کہ امام الحق اور عماد وسیم۔اولڈ ٹریفورڈ ٹیسٹ میچ کے بعد ہم بھی مداحوں کی طرح دل شکستہ ہیں مگر اسے ہی کرکٹ کہتے ہیں۔ فتح اور شکست کے درمیان بہت معمولی سا فرق ہوتا ہے اور ہار کے بعد خود کو کوسنا بھی بہت آسان ہوتا ہے۔

پاکستان کے سابق ٹیسٹ کپتان کا کہنا ہے کہ مگر ہمیں یہ ضرور یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان نے بہت اچھی کرکٹ کھیلی اور میچ کے آخری سیشن کے علاوہ پاکستان کرکٹ ٹیم نے اس ٹیسٹ میچ میں اپنی گرفت برقرار رکھی۔ یقیناً ہمیں اپنے کھیل میں 10 سے 15 فیصدمزید بہتری اور دباؤ میں بہتر کھیل پیش کرنے کی ضرورت ہے مگرہمیں ناامید ہونے کی ضرورت نہیں ۔

مصباح الحق کہتے ہیں کہ مانچسٹر ٹیسٹ ایک سنسنی خیز ٹیسٹ میچ تھا اور جس طرح انگلینڈ نے فائٹ بیک کیا انہیں اس کا پور اکریڈیٹ دینا چاہیے، وہ خسارے کا شکار رہنے کے باوجود ہم سے فتح چھین کرلے گئے۔دونوں ٹیموں نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا۔بعض اوقات قسمت آپ کا ساتھ نہیں دیتی، کبھی حریف ٹیم بہتر کھیل کا مظاہرہ کرتی ہے، یہی کھیل کا حسن ہےایک بحث یہ بھی جاری ہے کہ ہم مزید آگے گیندیں کرسکتے تھےیا ہم شاداب خان کو باؤلنگ کروانے جلد لگاسکتے تھے۔ 

شایدایسا ہوبھی سکتا تھا مگر آپ کو یہ بھی ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ اس پارٹنرشپ کے دوران کرس وؤکس اور جوز بٹلر کی قسمت نے بھی خوب ساتھ دیا۔ یہاں کئی مرتبہ گیند ہوا میں گئی مگر ایسی جگہ گری جہاں کوئی فیلڈر موجود نہیں تھا اور اگر ان میں سے ایک بھی فیلڈر کے پاس چلی جاتی تو نتیجہ مختلف ہوتا۔بلاشبہ ہمیں مزید بہتری کی ضرورت ہے مگر ہم نے چھ ماہ میں اپنی پہلی بین الاقوامی سیریز میں ایک صف اول کی ٹیم کے خلاف بہترین کھیل پیش کیاہے۔ن حالات میں انگلینڈ کے مضبوط ترین باؤلنگ اٹیک کے سامنے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ بہت جراؑت مندانہ تھا۔ شان مسعود نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا، انہوں نے پہلے بابراعظم اور بعد میں شاداب خان کے ساتھ عمدہ شراکت قائم کی جس نے میچ کی رفتار اور انداز بدل د یا۔

اوپنر شان مسعود کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پہلے ٹیسٹ میںشان مسعود کو اس اننگز پر بہت زیادہ سراہنا چاہیے۔ جب سے میں نے کوچنگ کی ذمہ داری سنبھالی ہے تب سے وہ پہلے شاہد اسلم اور پھر یونس خان کی کوچنگ میں بہت سخت محنت کررہے ہیں۔ وہ اس سے قبل جنوبی افریقا اور پھر آسٹریلیا میں بھی اپنی بیٹنگ کے بنیادی انداز میں معمولی تبدیلی کا مظاہرہ کرچکے ہیں۔وہ اب ایک مختلف بلے باز ہیں اور یونس خان نےبھی اس تبدیلی میں ان کی مدد کی ہے۔ بیٹنگ کے حوالے سے ان دونوں کا اچھا ربط ہے اور سال 2015 میں پالے کیلےمیں میچ کے دوران دونوں کے درمیان عمدہ شراکت قائم ہوئی تھی، جہاں شان مسعود نےاپنی پہلی سنچری بنائی تھی۔پاکستان کی بولنگ بھی شاندار رہی۔ 

محمد عباس کے علاوہ یہ ایک نوجوان پیس اٹیک ہے، شاہین شاہ آفریدی اور نسیم شاہ دونوں نے بہترین بولنگ کا مظاہرہ کیا۔ یاسر شاہ نے دونوں اننگز میں اچھی بولنگ کی۔ ایک مشکل جدوجہدکے بعد یاسر شاہ کا فارم میں واپس آنا خوش آئند ہے۔ یہ ہمارے لیے مثبت اشارے ہیں۔ایک اور مثبت بات یہ ہے کہ ہم نے اچھی فیلڈنگ کی۔ محمد رضوان نے وکٹوں کے پیچھے کے بہت اچھی کیپنگ کی۔فی الحال تمام بولر بہتر لگ رہے ہیں۔انہوں نے بہت مناسب اوورز پھینکے ہیں ، لہٰذا میرا نہیں خیال کہ ابھی فٹیگ کا کوئی مسئلہ ہوگا۔ لیکن ابھی دیکھتے ہیں کہ دوسرے میچ سے پہلے سب کیسا محسوس کررہے ہیں اور پھر وہاں کنڈیشنز کیسی ہیں اور اسی اعتبار سے پھر ہم کوئی فیصلہ کریں گے۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید