آپ آف لائن ہیں
جمعرات11؍ ربیع الاوّل 1442ھ 29اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مریم نواز کی پیشی، نیب لاہور کے باہر ہنگامہ، پتھراؤ، لاٹھی چارج، شیلنگ، علاقہ میدان جنگ بن گیا، نیب آفس کے شیشے ٹوٹ گئے، کئی کارکن و اہلکار زخمی

 مریم نواز کی پیشی، نیب لاہور کے باہر ہنگامہ، پتھراؤ، لاٹھی چارج، شیلنگ


لاہور(نمائندہ جنگ)پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی رہنما اور نائب صدر مریم نواز کی اراضی کیس میں نیب پیشی کے موقع پر کارکنوں اور پولیس کے درمیان شدید ہنگامہ ہوگیا، پتھرائو، لاٹھی چارج، شیلنگ سےعلاقہ میدان جنگ بن گیا،نیب آفس کے شیشے ٹوٹ گئے ،کئی کارکن،اہلکار زخمی ہوگئے۔ 

کشیدہ حالات کے باعث نیب نے مریم نواز کی پیشی منسوخ کر کے انہیں باہر سے ہی واپس بھجوا دیا تاہم مریم نواز کچھ دیر بعد دوبارہ نیب کے دفتر کے باہر پہنچ گئیں ہنگامہ آرائی پر نیب کی مدعیت میں 14ایم پی ایز سمیت 300کارکنوں کیخلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ان میں سے 168نامزد ملزم ہیں۔

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز گزشتہ روز پارٹی رہنمائوں اور کارکنوں کے بڑے جلوس میں جاتی امراء سے نیب کے ٹھوکر نیاز بیگ پر واقعہ ہیڈ کوارٹرز میں پیشی کیلئے روانہ ہوئیں ۔ 

پولیس نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی جانب سے لیگی کارکنوں کو جمع ہونے کی کال کے پیش سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے اور کئی شاہراہوں کو مختلف مقامات پر بیرئیر زاور خار دار تاریں لگا کر بند کر دیا گیا۔

نیب ہیڈ کوارٹر کے اطراف میں بھی باہر بیرئیر اور خار دار تاریں لگا کر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ۔ 

مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد صبح سویرے ہی نیب ہیڈ کوارٹر کے باہر پہنچ گئی تھی جو وقفے وقفے سے نعرے بازی کرتے رہے جبکہ اس موقع پر کارکنوںکی جانب سے متعدد بار رکاوٹیں ہٹا کر نیب کے مرکزی دروازے تک پہنچنے کی کوشش میں پولیس سے دھکم پیل اور ہاتھا پائی بھی ہوتی رہی ۔

مریم نواز کا قافلہ نیب ہیڈ کوارٹر زکے قریب پہنچنے پر پہلے سے موجود اور قافلے کے ہمراہ آنے والے کارکنوں نے آگے جانے کے لئے پولیس رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کی اور رکاوٹیں گرانا شروع کر دیں جس پر پولیس کی جانب سے کارکنوں پر ہلکا لاٹھی چارج کیا گیا ۔ 

کارکنوں نے پیچھے واپس جا کر پولیس اہلکاروں پر پتھرائو شروع کر دیا جس کے جواب میں پولیس نے بھی جوابی پتھرائو کیا ۔

 پتھرائو کے نتیجے میں مریم نواز کی سکیورٹی سمیت کئی گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے ،جوابی پتھرائو کے نتیجے میں ن لیگی رکن پنجاب اسمبلی چوہدری ارشد، سابق لارڈ میئر لاہور کرنل (ر) مبشر جاوید سمیت پاکستان مسلم لیگ ن کے درجنوں کارکنوں،پولیس اہلکاروں سمیت وہاں پر موجود عام شہری بھی زخمی ہوگئے جبکہ 50سے زائد کو حراست میں لیکر مختلف تھانوں میں منتقل کردیا،پولیس نے مشتعل ن لیگی کارکنوں کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس اور واٹر کینن سمیت لاٹھی چارج کا استعمال کیا۔ 

مشتعل کارکنوں کی جانب سے مسلسل پتھرائو پر پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ اور واٹر کینن کا بھی استعمال کیا جس کی وجہ سے وہاں موجود رہنمائوں اور کارکنوں کی طبیعت خراب ہو گئی جبکہ میڈیا کے نمائندے بھی آنسو گیس کی شیلنگ سے بری طرح متاثر ہوئے ۔

قبل ازیں صبح سویرے ہی پارٹی رہنما اور لیگی کارکنان جاتی امراء پہنچنا شروع ہوگئے تھے۔ کارکنان تیری آواز میری آواز مریم نواز مریم نواز، چاروں صوبوں کی آواز مریم نواز مریم نواز ، ظلم کے ضابطے ہم نہیں مانتے ، سلام ہے سلام مریم تیرے جذبے کو سلام ہے کے نعرے لگاتے رہے۔ 

مریم نواز کی نیب پیشی کے موقع پر پارٹی کے مرکزی رہنما پرویز رشید، محمد زبیر، خرم دستگیر، طلال چوہدری،عابد شیر علی، تہمینہ دولتانہ، مصدق ملک، پروز ملک، خواجہ عمران نذیر، شائستہ پرویز ملک سمیت اراکین قومی صوبائی اسمبلی اور لاہور ڈویژن سے تعلق رکھنے والے اضلاع کے پارٹی رہنمائوں اور کارکنوں کی کثیر تعداد موجود تھی ۔

 مریم نواز نے نیب میں پیشی کیلئے گھر سے روانگی سے قبل اپنی والدہ کی قبر پر حاضری دی ۔مریم نواز نے جاتی امراء میں اپنی والدہ کی قبر پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔

بعدازاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ پیشی کے موقع پر جس ریاستی، حکومتی خوف، جبر اور دہشت گردی کا میں نے مشاہدہ کیا ہے وہ میرے لیے یا مسلم لیگ (ن)کے لیے نہیں بلکہ اس جعلی اور سلیکٹڈ حکومت کے لیے لمحہ فکریہ ہے،نیب کے دفتر کے سامنے ریاستی دہشتگردی اور جبر کا مظاہرہ کیا گیا، پر امن نہتے کارکنوں پر تشدد کیا گیا، آنسو گیس اور پتھر لگنے سے کارکن زخمی ہوئے،میری گاڑی پر پتھر برسائے گئے، مجھے گھر سے بلانے کا واحد مقصد نقصان پہنچانا تھا۔

بلٹ پروف گاڑی نہ ہوتی تو پتھر مجھے لگتے،پولیس یونیفارم میں لوگوں نے پتھر مارے، پتھر لگنے سے مجھے ہیڈ انجری بھی ہوسکتی تھی اور شاید اس وقت میں ہسپتال میں ہوتی ، مجھے واپس جانے کیلئے پیغام بھی آئے، مجھے کہا گیا بی بی واپس چلی جائیں، نیب والوں نے دروازہ نہیں کھولا، چھپ کر بیٹھے رہے، نیب کے دروازے کے باہر کھڑی رہی اور کہا مجھ سے جواب لے لیں۔

نیب کا کردار پہلے سے ہی پتہ تھا، نواز شریف، رانا ثنااللّٰہ، شاہد خاقان عباسی، حمزہ شہباز، سعد رفیق اور نیب گردی کا نشانہ بنانے والے ہمارے رہنمائوں کو پہلے سے پتہ تھا لیکن نیب کے ان ہتھکنڈوں پر مہر سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے معزز جج صاحبان نے اپنے ریمارکس اور اپنے فیصلوں کے ذریعے لگا دی ہیں اور رہی سہی کسر ہیومن رائٹس واچ نے پوری کردی جس میں یہ واضح طور پر کہا گیا کہ نیب کو سیاسی انجینئرنگ، سیاسی انتقام، مخالفین کو بلیک میل اور دبانے کے لیے اور حکومت کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ ایسے نیب کے سامنے پیش نہ ہونا شاید قانون کی زیادہ پاسداری ہو گی کیونکہ نیب تو ان ریمارکس اور حربوں کے بعد اب تو خود ایک مطلوب ادارہ ہے، نیب کو تو اب خود جواب دینے ہیں کہ انہوں نے پاکستانی خزانے کو سیاسی انجینئرنگ کے لیے بے دریغ استعمال کیوں کیا، کیوں نیب نے اس پیسے کے ذریعے مخالفین کی جوڑ توڑ کی، سیاسی جماعتوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی اور حکومت کی مدد کی۔

انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں ان پر خوف طاری ہے ،عوامی سروے میں نواز شریف اور (ن) لیگ کا گراف بلند ہوا ہے ،عوامی سروے سے یہ گھبرا گئے ہیں، ہرحربہ استعمال کیا گیا لیکن نواز شریف کے گھبراگئے ہیں،عمران خان کو اقتدار میں آنے کا شوق تھا ،ناکامی کی وجہ سے اب انھیں آقتدار سے جانے کا خوف ہے ۔

ان کو اب اپنے انجام سے خوف آتا ہے ،کبھی کسی کو بلاتے ہیں کبھی کسی کو،پانامہ بھی ختم اقامہ بھی ختم،(ن) لیگ نے بہت سہ لیا لیکن آپ کا کیا بنے گاآپ نے خود کہا کہ چھ ماہ کا وقت ملا ہے ورنہ معاملات کہیں اور چلیں جائیں گے ،آپ نے کہا کہ کشتیاں جلا دیں جس کا مطلب ہے انہوں نے عوام پر ظلم کیا ہے آپ کی حکومت کو ہر محاذ پر ناکامی کا سامنا ہے ،آپ کو ہم پر مسلط کیا گیا ہے آپ کی ترجیحات کچھ اور ہیں آپ کی ترجیحات میں نواز شریف اور نواز شریف ہیں تمام حکومتی میٹنگ نواز شریف سے شروع ہوکر نواز شریف پر ختم ہوجاتی ہیں۔

نواز شریف کی تصویر سے آ پ کو پریشانی ہو جاتی ہے آپ کی حراست میں نواز شریف موت کے منہ میں پہنچاآپ کی اجازت سے نواز شریف ملک سے باہر گیا،انسانی ہمدردی کے تحت یا نواز شریف رحم کھا کران کو باہرنہیں بھیجا گیابلکہ آپ کو اپنے اوپر رحم آیا نواز شریف پر نہیں اگر نواز شریف کو کچھ ہوا جاتا تو عوام اپ کا گریبان پکڑ لیں گے ۔

اب آپ نے نواز شریف کی صحت پر سیاست شروع کر دی ہے ،خود ہی کہتے تھے کہ جب حکمران چور ہو تو اشیا ء کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں پھر آج چور کون ہےملک میں مہنگائی کا طوفان ہے ہر چیز مہنگی ہے بجلی گیس پیٹرول کے ریٹ آسمان پر ہیںمریم نواز کی آمداور پیشی منسوخ ہونے پر واپس جانے کے بعد نیب آفس کے باہر تعینات پولیس اہلکاروں نے لاہور کے مقامی نیوز چینل کے کیمرہ مین ثاقب ملک اور انکےڈرائیور پر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بناکرشدید زخمی کردیا۔

دونوں کو اس وقت تشدد کا نشانہ بنایاگیا جب پولیس گنتی پوری کرنے کیلئے بے گناہ راہگیروں کو بھی گرفتار کر رہی تھی۔ پولیس کے اس اقدام کی کیمرہ مین ثاقب ملک فوٹیج بنا رہے تھے کہ پولیس ان پر بھی ٹوٹ پڑی۔

اہم خبریں سے مزید