آپ آف لائن ہیں
اتوار9؍صفر المظفّر 1442ھ 27؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مسلم معاشرہ پاک و ہند کا ہو یا عرب و عجم کا، سب کا مشترکہ المیہ حریتِ فکر یا آزادیٔ اظہار کا فقدان ہے۔ حقیقت میں یہ عامتہ المسلمین یا ان سے فکری ہم آہنگی رکھنے والے راسخ العقیدہ اہلِ علم یا اسلامی روایات پر ایمان و ایقان رکھنے والے دانشوروں کا ایشو نہیں ہے، وہ سب جاری و ساری چلن پر متفق ہیں، سیاسی حکومتوں سے انہیں بعض اوقات جمہوری حوالے سے تھوڑا بہت مسئلہ آ جاتا ہے، ورنہ نظریاتی اسٹیٹس کو سے وہ مطمئن و یکسو ہیں بلکہ ان کے اندر جدت و اجتہاد کا چھوٹا موٹا تڑکا لگانے والے کو بھی کسی پرابلم کی بجائے پذیرائی ملتی ہے۔ اصل مسئلہ ان لوگوں کا ہے جو اپنی ان سوسائٹیوں کو جوہری طور پر تبدیل کرتے ہوئے فکری و عملی طور پر مغرب کے ہم پلہ لانے کا خواب دیکھتے یا دکھاتے ہیں، وہ اگر یہ بھی کہیں کہ ہم ماضی سے رشتہ یا تعلق توڑے بغیر اجتہادی راستہ اختیار کر کےمذہبی معاملات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا چاہتے ہیں تو ان کے سامنے طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کر دی جاتی ہیں۔اس فکری تبدیلی کے دو مدارج ہیں ایک وہ جو اجتہادی و اصلاحی تبدیلی لانا چاہتے ہیں یا اس کا خواب دیکھتے یا دکھاتے ہیں ہم اقبال کو یہاں مسلمانان جنوبی ایشیا کے لئے بطور ایک مثال پیش کر سکتے ہیں جنہوں نے اپنے خطبات Reconstruction of religious thought in Islam میں کھل کر اس

سلسلے میں اظہار خیال فرمایا ہے لیکن ساتھ ہی وہ اس بات پر پورا زور دیتے نظر آتے ہیں کہ ”ماضی سے رشتہ توڑے بغیر“ ۔اس کے پہلو بہ پہلو وہ اس حساس ایشو پر روایت پرستوں کے متوقع دباؤ کو اچھا خاصا محسوس کرتے ہیں سوایک طرح سے مدافعانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ اجتہاد یا تبدیلی مذہبی عبادات کے مسئلہ کو نہیں چھیڑے گی یہ کہ وہ جیسی ہیں ویسی ہی رہیں گی تاکہ کوئی نزاعی صورتحال پیدا نہ ہو۔مسلم سوسائٹیوں میں فکری تبدیلی کا دوسرا درجہ یا مرحلہ اتاترک کی قیادت میں ترکوں کا شعوری و عملی انقلاب ہے جو دنیا بھر کی مسلم سوسائٹیوں کے لئے ایک طرح سے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، یہ اتنی بڑی کایا پلٹ تھی جس نے ایک طرح سے روایت زدہ سوسائٹی کی چولیں ہلا کر رکھ دیں اور اسے نئی جوہری بلندیوں سے روشناس کروادیا ۔ درویش بارہا یہ سوچ کر حیرت زدہ ہو جاتا ہے کہ اتاترک کتنا گریٹ انقلابی تھا آخر وہ اپنی ترک قوم کو قدامت پسندی سے نکال لے جانے میں کیسے کامیاب ہو گیا؟ ۔ کولن جیسے ’’اسکالر و دانشور‘‘ ہوں یا اقتدار کے حریص سیاستدان، اتاترک کے جینوئن انقلاب کو برباد کرنے کے لئے کیا کچھ حربے استعمال نہیں کئے گئے لیکن اتاترک اور اس کے انقلابی ساتھیوں کے لگائے ہوئے شجر سایہ دار کو سوائے چند ٹہنیوں کے کوئی کاٹ نہیں پا رہا ہے۔ مسلم اقوام میں اتاترک کی قیادت میں ترکوں کے انقلاب جیسی مثال 14 صدیوں میں نہیں ملتی ہے۔ مت بھولیں اتاترک کا یہ انسانی جمہوری انقلاب پائیدار فکری بنیادی پراستوار ہے اور آنے والے برسوں میں پوری دنیا اس کا صد سالہ جشن منائے گی کمال کے لبرل سیکولر آئین پر ہی جدید ترکی کی بنیاد رہے گی کیونکہ اس کے محافظ خود باشعور ترک عوام ہیں۔بات شروع ہوئی تھی مسلم سوسائٹیوں میں تبدیلی کے دو مدارج سے ایک وہ جس کے علمبردار علامہ اقبالؒ تھے جن کے افکار سے متعلق اوپر بات ہو چکی ہے اور اِن کے محتاط رویے کی بھی۔بیسویں صدی میں دنیائے اسلام کے اندر سے جتنی بھی تحریکیں پھوٹی ہیں ان میں سے بیشتر تو سوائے ماضی کا ذکر کرنے کے اور کوئی سوچ نہیں رکھتی تھیں اور جو فکری تبدیلی کے نعرے لگاتی پائی گئیں ، اتنی محدود رہیں کہ وہ ایک مخصوص سرکل سے باہر قدم رکھنے کا حوصلہ ہی نہ کر پائیں یا پھر نظریہ جبر پر استوار جہادی تحریکیں تھیں اور ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ مسلم سوسائٹی ان تمام تر ادوار میں راسخ العقیدہ سوچ پر چلی آ رہی ہے۔ عصر حاضر میں سرسید اور ڈاکٹر طہٰ حسین جیسے چند بڑے اسکالرز یا ان کے ہمنواؤں نے سوچ کو آزاد کرا کے زمانے کا ہمنوا بنانے کی سعی کی، تمام روایتی ونظریاتی حصار توڑتے ہوئے انسانی حقوق اور آزادیوں کا نعرہ بلند کیا اور اپنی روایتی سوسائٹیوں کو افکار تازہ سے روشناس کروایا تو ان کا جینا اس طرح حرام کر دیا گیا جس طرح کسی زمانے میں عظیم مسلم سائنسدانوں، داناؤں، صوفیوں اور مدبروں کا کیاگیا تھا۔ یہی وہ سماجی و روایتی گھٹن ہے جس سے آج ہم نے اکیسویں صدی میں اپنی مسلم اقوام کو نکالنا ہے۔ یہی وقت کا اصل چیلنج ہے کہ کوئی دوسرا اتاترک کب پیدا ہوتا ہے۔