آپ آف لائن ہیں
جمعرات13؍ صفر المظفّر 1442ھ یکم اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

منع کرنے پر کل آدھے کراچی میں بجلی بند کر دی گئی: چیف جسٹس

یہ کون ہوتے ہیں بجلی بند کرنے والے؟  چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد



سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ اور کرنٹ سے ہلاکتوں کے معاملے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے کہا ہے کہ پرسوں کے الیکٹرک کو بجلی بند نہ کرنے کا کہا تو کل آدھے کراچی میں بجلی بند کر دی، ان کا دماغ ٹھیک ہے؟

انہوں نے کہا کہ آدھے کراچی میں بجلی نہیں ہوتی، یہ کون ہوتے ہیں بجلی بند کرنے والے؟

کے الیکٹرک کے وکیل نے کہا کہ سر بجلی بند نہیں ہوئی تھی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ لوگ مرتے ہیں اور یہ جا کر ہائی کورٹ سے پچاس پچاس ہزار روپے کی ضمانت کرا لیتے ہیں، ہائی کورٹ بیٹھی ہی اس کام کیلئے ہے، لوگوں کی زندگی کا معاملہ ہے، ان کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گے۔

چیئرمین نیپرا نے عدالت کو بتایا کہ کے الیکٹرک کے خلاف کارروائی ہو تو اسٹے لے لیتے ہیں، گیس، فیول اور بجلی کی پیداوار تک ان کے سارے معاملات خراب ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ساری دنیا میں ریگولیٹرز کے معاملات عدالت میں نہیں جاتے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ان کی اجارہ داری ہے جس کا خمیازہ کراچی والے بھگت رہے ہیں۔

صارفین کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ کے الیکٹرک کے خلاف پچھلے سال کارروائی ہوجاتی تو اس سال لوگ نہیں مرتے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ لوگوں کو بجلی، پانی نہیں ملتا، رہنے کیلئے جگہ نہیں ملتی، بڑے لوگ مزے کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کو جیل میں کوئی مسئلہ نہیں، ان کو اس وقت مسئلہ ہوتا ہے جب پیسہ نکلوایا جائے، جیل میں تو انجوائے کرتے ہیں، ان کی جیب پر بات آئے تب جان جاتی ہے، ان پر بھاری جرمانے لگنے چاہئیں۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سی ای او کے الیکٹرک مونس علوی پیش ہوئے جنہوں نے شہر میں لوڈ شیڈنگ سے متعلق رپورٹ پیش کر دی۔

چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے سی ای او کے الیکٹرک سے کہا کہ رپورٹ میں کیا ہے، ہمیں پڑھ کر بتائیں؟

کے الیکٹرک کے سی ای او نے عدالت کو بتایا کہ کراچی کے 75 فیصد علاقوں میں زیرو لوڈ شیڈنگ ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ دہلی کالونی، محمود آباد، ڈیفنس 5 ،6 میں کل وقفے وقفے سے بجلی بند تھی۔

سی ای او کے الیکٹرک نے بتایا کہ گیس کا پریشر کم ہونے کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ ہوئی۔

اس موقع پر چیئرمین نیپرا نے عدالت کو بتایا کہ کے الیکٹرک نے عدالتوں سے جتنے اسٹے لیے ہیں ان کی فہرست لایا ہوں، کے الیکٹرک نے صارفین کے 40 بلین روپے پر بھی حکمِ امتناع لیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نجی کمپنی سے بجلی خریدنے پر بھی کے الیکٹرک نے حکمِ امتناع لے رکھا ہے، جن صارفین کا پیسہ بنتا ہے کے الیکٹرک واپس کرے۔

چیئرمین نیپرا نے کہا کہ ان کے ہر منصوبے میں گڑبڑ ہے، سوئی سدرن کمپنی سے گیس کا منصوبہ بھی نہیں ہوا ہے۔

یہ بھی  پڑھیئے:۔

لوڈ شیڈنگ کا پلان عدالت میں جمع کرائیں گے، سی ای او کے الیکٹرک

صارفین کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ کے الیکٹرک کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے۔

عدالتِ عظمیٰ نے آئندہ سماعت پر وفاق سے کراچی کو مستقل بجلی کی فراہمی کا پلان پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کے الیکٹرک کے خلاف اوور بلنگ کی شکایات ہیں، اس ادارے پر بھاری جرمانہ عائد ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سوئی گیس، پی ایس او سارے معاملات گندے ہیں، بجلی، پانی، پیٹرول، صاف جگہ تک لوگوں کو نہیں ملتی۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ وزراء بڑی بڑی گاڑیوں، ہیلی کاپٹر میں لوگوں کو دیکھنے جاتے ہیں، لوگ سمجھتے ہیں ہم کیا بندر ہیں جو ہمیں دیکھنے آتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک والے صرف یہاں پیسہ بناتے ہیں، سیاست دان جیل چلے جاتے ہیں، ان کے لیے یہ مسئلہ ہی نہیں ہے۔

چیئرمین نیپرا نے کہا کہ ہم جرمانہ لگاتے ہیں تو یہ حکمِ امتناع لے کر آ جاتے ہیں، سوئی سدرن کمپنی سے گیس کا معاہدہ بھی نہیں ہوا ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے کراچی میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے متعلق مزید سماعت اسلام آباد میں کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 2 ہفتوں تک کے لیے ملتوی کر دی۔

قومی خبریں سے مزید