آپ آف لائن ہیں
منگل11؍صفر المظفّر 1442ھ 29؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group


محمد نیاز 79 سالہ ہیں ،جنہوں نے تقسیم ہند کے موقع پر ہونے والی ہجرت میں اپنے خاندان کا قتل دیکھا۔

آزادی کسی کےلیے بہت بڑی نعمت ہوتی ہے اور کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہوں نے اسے پورا ہوتے ہوئے اپنی آنکھوں سےد یکھا ہے۔

کراچی یونیورسٹی کے ریٹائرڈ ملازم 79 سالہ محمد نیاز بھی ان ہی میں سے ہیں،جنہوں نے برصغیر کی تقسیم کے موقع پر ہندوستان سے پاکستان کےلیے اپنے خاندان کے ہمراہ ہجرت کی ۔

ہجرت کے حوالے سے جیو نیوز سے گفتگو میں محمد نیاز نے بتایا کہ اس وقت میری عمر 6 یا 7سال تھی، اس سفر کی میری یادیں دھندلی سی ہیں، گاؤں کی تقسیم کچھ ایسے تھی کہ ایک طرف ہندو اور دوسری طرف مسلمان تھے۔

انہوں نے مزید کہاکہ ہجرت سے قبل گھر والے مجھے ہندوؤں کے یہاں چھوڑ گئے کہ جب وہ پاکستان امن سے پہنچ جائیں گے تو واپسی پر مجھے یہاں سے لے جائیں گے۔

محمد نیاز نے یہ بھی بتایا کہ جس چوبارے میں مجھے چھوڑا گیا وہاں میں اکیلا ہی تھا،وہاں سے گھر سامنے ہی نظر آرہا تھا، میں نے وہاں سے چھت پر چھلانگ لگائی۔

ان کا کہنا تھاکہ میں گھر کی طرف جارہا تھا کہ اس دوران میں میرے تایا جی جو اپنی بچیوں کے ساتھ ایک درزی کے گھر میں چھپے ہوئے تھے،انہوں نے میری آواز سنی تو درزی سے کہا کہ اس بچے کو نیچے لے آئیں،تو وہ مجھے نیچے لے گیا ۔

محمد نیاز کا کہنا تھاکہ اس کے بعد اس رات ہم نے سفر شروع کیا ،برسات بھی ہورہی تھی،پھر ہم اپنے نانا کے ساتھ ٹرین میں بیٹھ گئےاور پاکستان آگئے،اس سے قبل راستے میں چچا اور تایا تو شہید ہوگئے ۔

ان کا کہنا تھاکہ راستے میں ہندو کیا کرتےتھے کہ بچوں کو پیاس لگتی اور وہ پانی مانگتے تو انہیں کچھ ملا دیتے تاکہ ان کے پیٹ خراب ہوجائیں۔

محمد نیاز نے بتایا کہ جب پاکستان آزاد ملک بنا تو لوگوں میں ایمانداری، محنت اور لگن سے کام کرنے کا، ملک کو ترقی دینے اور آگے بڑھنے کا بہت جذبہ تھا ۔

انہوں نےکہا کہ اس وقت بے ایمانی نہیں تھی اور رشوت بھی اتنی نہیں تھی جتنی کہ اب ہے۔

قومی خبریں سے مزید