آپ آف لائن ہیں
منگل11؍صفر المظفّر 1442ھ 29؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

میرے ایک دوست حال ہی میں طویل علالت کے بعد صحت یاب ہوئے ہیں۔ موصوف چلنے پھرنے کے قابل ہوئے تو پہلا ’’بیان‘‘ انہوں نے عیادت کرنے والوں کے خلاف داغا، بولے ’’تمہیں پتہ ہے بیمار ی میں مجھے سب سے زیادہ تکلیف کس نے پہنچائی؟‘‘

’’کس نے؟‘‘ میں نے پوچھا

’’عیادت کرنے والوں نے‘‘ دوست نے جواب دیا

’’وہ کیسے؟‘‘

’’وہ ایسے کہ صبح سے شام تک ان کا تانتا بندھا رہتا تھا۔ایک آتا تھا دوسرا جاتا تھا۔‘‘

’’یہ تو اچھی بات ہے اپنوں اور غیروں کا پتہ ایسے موقع پر چلتاہے!‘‘

’’میں نے کب کہا ہے کہ یہ اچھی بات نہیں!‘‘

’’تمہاری باتوں سے تو مجھے یہی محسوس ہوا‘‘

’’تم نے ابھی میری بات سنی کب ہے؟ یہ عیادت کرنے والے میری حالت دیکھ کر ایسے مغموم چہرے بناتے تھے کہ لگتا تھا مجھ سےزیادہ دکھی یہ ہیں۔‘‘

’’ظاہر ہے عزیز و اقارب کو دکھ تو ہوتا ہی ہے۔‘‘

’’ہاں! تمہاری بات اصولی طور پر ٹھیک ہے۔ غلط تو یہ اس وقت ثابت ہوئی جب ان میں سے کچھ نے کہا کہ کوئی مسئلہ ہو تو ہمیں بتائو، اس پر میں نے ان کا شکریہ ادا کیا لیکن انہوں نے اصرار کیا کہ نہیں ہمیں خدمت بتائو ہم تمہیں صحت یاب دیکھنا چاہتے ہیں!‘‘

’’تو پھر کیا ہوا؟‘‘

’’میں سمجھا کہ وہ خلوص دل سے اس مشکل وقت میں میرے کام آنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ میں نے ایک سے جھجکتے جھجکتے کہا ’’میری علالت کی وجہ سے بچے اسکول نہیں جارہے کیونکہ انہیں لانے لے جانے والا کوئی نہیں جس سے ان کی تعلیم کا حرج ہورہا ہے آپ اپنے بچوں کو اسکول چھوڑنے جاتے ہیں رستے میں میرے بچوں کو بھی ’’پک‘‘ کر لیا کریں۔‘‘

’’تو کیا انہوں نے انکار کردیا؟‘‘

’’نہیں ! پورے ایک ہفتے تک بچوں کو لے جاتے رہے اس کے بعد انہوں نے شکل ہی نہیں دکھائی!‘‘

’’یہ تو واقعی بری بات ہے!‘‘

’’ابھی تو میں نے تمہیں اور بھی بہت سی بری باتیں سنانی ہیں۔‘‘

’’مثلاً‘‘

’’مثلاً یہ کہ میری بیوی میری دیکھ بھال کرتے کرتے خود بیمار ہوگئی اس پر میں نے ایک غم خوار سے کہا کہ آپ آج کی رات میری دیکھ بھال کیلئے یہیں رک جائیں میں کل کوئی اور انتظام کرلوں گا۔‘‘

انہوں نے خندہ پیشانی سے کہا’’کیوں نہیں، کیوں نہیں میں گھر اطلاع دے کر ابھی آتا ہوں۔‘‘ مگر تھوڑی دیر بعد ان کی جگہ ان کی بیوی کا فون آیا کہ انہیں تیز بخار ہوگیا ہے اس لئے وہ نہیں آسکیں گے!‘‘

’’چلو چھوڑو یار! کوئی اوربات کرو!‘‘ میں نے بدمزہ ہو کر کہا۔

’’کیسے چھوڑوں! مجھے تو ان خالی عیادت کرنے والوں سے چڑ ہوگئی ہے، شکر ہے تم ان دنوں بیرون ملک تھے۔‘‘

’’اچھا دفع کرو، کوئی اور بات کرتے ہیں....‘‘

’’میں نے ابھی اپنی بات نہیں کی، کیونکہ یہ عیادت کرنے والے اب بھی سخت پریشان کرتے ہیں۔‘‘

’’وہ کیوں! تم تو ٹھیک ہوگئے ہو!‘‘

’’میں تو ٹھیک ہوگیا، یہ ٹھیک نہیں ہوئے، ابھی کل ایک صحافی دوست آئے، ملکی حالت پر سخت پریشان تھے۔ پاکستان کا نام ان کی زبان پر آتا تھا تو آب دیدہ ہو جاتے تھے۔ میں نے ان کی یہ حالت دیکھی تو یہ کہا کہ آپ اگر چاہیں تو ملک کو ان خطرات سے نکال سکتے ہیں بولے وہ کیسے؟ میں نے کہا آپ ان تمام افراد کے چہروں پر سے نقاب اٹھائیں جو ملکی سالمیت کے خلاف کام کررہے ہیں! کہنے لگے حتمی المقدور یہ کام کرتا رہتا ہوں، میں نے کہا حتی المقدور کیا ہوتا ہے، اگر ملک بچانا ہے تو پورا سچ لکھنا ہوگا۔ کہنے لگے، تم ان باتوں کو نہیں سمجھتے میں بے عمل ضرور ہوں تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ مجھے پاکستان سے محبت نہیں.... اور پاکستان کا نام زبان پر آنے پر ایک بار پھر وہ آب دیدہ ہوگئے!‘‘

’’یہ عیادت کے ذکر میں پاکستان کہاں سے آگیا‘‘میں نے پوچھا۔

’’کیا تمہیں نہیں پتہ یہ کیسے درمیان میں آگیا؟ یہ لوگ بیمار پاکستان کی عیادت دن میں کئی بار کرتے ہیں مگر ان میں سے کوئی اس کی صحت یابی کے لئے اپنا کردار ادا نہیں کرتا۔ صحافی سچ نہیں لکھتا۔ استاد موسیٰ کی بجائے فرعون پیدا کرتا ہے۔ نالائق سیاست دان کسی کی پشت پناہی پر اقتدار میں آ جاتے ہیں اور ملک کو پیچھے لے جاتے ہیں، عالم فساد پھیلاتے ہیں، انکم ٹیکس والے لاکھوں کےلئے کروڑوں کا ٹیکس چھوڑ دیتے ہیں، صنعت کار ہوس زر میں مبتلا ہے، دانشور دل کی باتیں کہنے کی بجائے فیشن ایبل باتیں کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ سب لوگ پاکستان کی عیادت بھی کرتے رہتے ہیں اس طرح یہ اس کے دکھوں میں اضافہ کررہے ہیں۔ میں انہی دنوں میں ایک تختی لکھوا کر مینار پاکستان پر لگوا رہا ہوں!‘‘

’’کون سی تختی؟‘‘

’’چند لفظوں پر مشتمل تختی..... اس پر لکھا ہوگا، ’’عیادت کرنا منع ہے‘‘۔شاید اس تختی کے طفیل پاکستان کے یہ ’’گل باتیے ‘‘ عاشق باز آ جائیں۔

(قند ِ مکرر)