آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

فواد عالم کو دیگر کرکٹرز کی طرح پورا چانس ملنا چاہئے

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق اور کپتان اظہر علی کو کریڈٹ دینا ہوگا کہ انہوں نے بالاخر فواد عالم کے ساتھ انصاف کرلیا۔کھیل میں اچھی بری کارکردگی عام بات ہے۔کھلاڑیوں کے کھیلنے کے انداز پر بھی بحث ہوتی رہتی ہے لیکن فواد عالم کے ساتھ گیارہ سالوں کے دوران جو رویہ روا رکھا گیا وہ کسی طرح مناسب نہیں تھا۔فواد عالم بدقسمت رہے کہ ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی پر بغیر کوئی رن بنائے آوٹ ہوگئے ۔

فواد عالم کا تعلق میرے شہر کراچی سے ہے اس لئے جب میں پی سی بی گورننگ بورڈ میں تھا تو میں نے فواد کے لئے کئی میٹنگ میں آواز اٹھائی لیکن بدقسمتی سے فواد عالم کو محنت اور صبر کا پھل تاخیر سے ملا۔دس سال 258 دن کا وقت کم نہیں ہوتا اس دوران انہوں نے پاکستان ٹیم کو باہر بیٹھ کر88ٹیسٹ میچ کھیلتے ہوئے دیکھا۔ایسا بھی شائد کبھی نہ ہوا ہو کہ ایک بیٹسمین اپنے پہلے ٹیسٹ میں ملک سے باہر168رنز بنائے پھر تین ٹیسٹ کھیل کر منظر سے طویل عرصے کے لئے غائب ہوجائے۔

جب وہ پاکستان ٹیم سے ڈراپ ہوئے ان کی پانچ فرسٹ کلاس سنچریاں تھیں۔ٹیم سے ڈراپ ہونے کے بعد فواد عالم نے مزید26فرسٹ کلاس سنچریاںاور ساڑھے سات ہزار رنز بنائے ان کی بیٹنگ اوسط58کی تھی۔2014میں ایشیا کپ میں ان کی ون ڈے ٹیم میں واپسی ہوئی فواد عالم نے سیمی فائنل میں نصف سنچری اور فائنل میں سنچری بنائی لیکن آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز میں ناکامی کے بعد فواد عالم منظر سے غائب ہوگئے۔

میڈیا چلاتا رہا لیکن فواد کو گیارہ سال بعد موقع مل سکا۔جس وقت وہ ٹیم سے ڈراپ ہوئے ان کی عمر24سال تھی لیکن جب وہ 35سال کے ہونے کو ہیں تو انہیں اپنے کیئریئر کو چوتھا ٹیسٹ کھیلنے کا موقع ملا۔1 1سال بعد اپنی پہلی ٹیسٹ اننگز میں فواد عالم صفر پر آؤٹ ہوگئے۔ انھیں کرس ووکس نے ایل بی ڈبلیو کیا۔ اس دوران کمنٹیٹرز نے ان کی غیر معمولی تکنیک پر بھی کافی تبصرہ کیا۔ وہ کریز پر محض چار گیندوں کے مہمان رہے۔

عام تاثر ہے کہ فواد عالم ٹیسٹ کرکٹ میں اپنے انتخاب کو درست ثابت کرنے میں ناکام رہے۔لیکن طویل عرصے کے بعد ٹیم میں آکر اپنے آپ کو منوانا کسی بھی کھلاڑی کے لئے آسان نہیں ہوتا۔میری ذاتی رائے میں فواد عالم کو اعتماد دینے کے لئے سری لنکایا بنگلہ دیش کی ہوم سیریز کھلانا چاہئے تھا۔لیکن ٹیم انتظامیہ نے جو بہتر سمجھا وہ کیا لیکن فواد عالم کو ایک ٹیسٹ کھلانا ناکافی ہوگا انہیں بھی دیگر کرکٹرز کی طرح پورا چانس ملنا چاہیے۔

فواد عالم کی طرح حالیہ دنوں میں سرفراز احمد کو جس طرح ٹیم سے ڈراپ کیا گیا ہے اس نے بھی ماہرین کو حیران کردیا ہے۔اپنے آخری ٹیسٹ میں جنوبی افریقا کے خلاف کیپ ٹاون میں دس کیچ اور نصف سنچری بنانے والے سرفراز احمد کو مکھن میںبال کی طرح ٹیم سے نکال دیا گیا۔انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ کے دوسرے دن ایک تصویر سوشل میڈیا کی زینت بنی جو اس وقت کھینچی گئی جب سابق کپتان سرفراز احمد بیٹسمین کے لیے پانی اور جوتے لے کر میدان میں آئے۔

اس تصویر پر کچھ لوگوں کی جانب سے یہ اعتراض کیا گیا کہ سابق کپتان ہونے کے ناتے سرفراز احمد کو عزت دینی چاہیے تھی اور یہ کام کسی جونیئر کھلاڑی سے کروایا جاتا تو بہتر ہوتا۔ میرے خیال میں سابق کپتان کو جوتے دے کر بھیجنا مناسب نہیں تھا اس سلسلے میں سابق کپتان جاوید میاں داد کے نکتہ نظر سے میں متفق ہوں کہ اس طرح کی روایات پاکستان کرکٹ میں نہیں ہیں۔ 2017 میں ان کی قیادت میں پاکستان نے پہلی بار چیمپینز ٹرافی جیتی تھی۔ 2018 میں ان کی کپتانی میں پاکستان نے لارڈز ٹیسٹ جیتا تھا اور دو میچوں کی وہ سیریز ایک ایک سے برابر رہی تھی۔

گذشتہ سال ورلڈ کپ میں اگرچہ پاکستان رن ریٹ پر سیمی فائنل میں جگہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکا تھا لیکن سرفراز احمد کی کپتانی میں پاکستان نے جنوبی افریقا، افغانستان اور بنگلہ دیش اور فائنل کھیلنے والی دونوں ٹیمیں انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کو شکست دی تھی اور صرف سری لنکا سے میچ بارش کے باعث منسوخ ہونے کی وجہ سے وہ سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرنے سے محروم رہا۔پھر کیا ہوا کہ سرفراز احمد اچانک تینوں فارمیٹ سے باہر ہوگئے انہیں کپتانی سے بھیہٹا دیا گیا۔

فواد عالم کی طرح سرفراز احمد بھی اس وقت نا انصافیوں کی زد میں ہیں لیکن شرفاء کے اس کھیل میں اب یہ روایات ختم کرکے انصاف کے تقاضے پورے کرنا ہوں گے۔یہی تو کرکٹ ہے۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید