آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پاکستان کرکٹ بورڈ میں غیرجانب داری وقت کی اہم ضرورت

پاکستان کرکٹ ٹیم کے پاس اس وقت مصباح الحق ،یونس خان،وقار یونس اور مشتاق احمد کی صورت میں کوچز کی ایسی ٹیم ہے جس کے پاس تین سو سے زائد انٹر نیشنل میچوں کا تجربہ ہے۔ایسے میں پاکستان کرکٹ بورڈ اپنے ہائی پرفارمنس سینٹر کے لئے محمد یوسف اور عبدالرزاق جیسے بڑے کھلاڑیوں کی تقرری کررہا ہے۔

پی سی بی کا خیال ہے کہ بڑے ناموں کے آنے سے پاکستان کرکٹ کا سسٹم تبدیل ہوجائے گااور پاکستان کی ٹیم دنیا کی صف اول کی ٹیم بن جائے گی۔دنیا میں کسی ٹیسٹ کھیلنے والے ملک میں ایسی مثال کم کم ملتی ہے کہ بڑے کھلاڑیوں کو کوچ بنادیا جائےتاکہ وہ اپنے تجربے سے نوجوان کھلاڑیوں کوبڑا کھلاڑی بنانے میں مدد دیں۔احسان مانی اور وسیم خان کے آنے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کا منظر نامہ تبدیل ہوگیا ہے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم میں کپتان اور کوچنگ اسٹاف کو تبدیل کردیا گیا ہے۔اسی طرح پی سی بی ہیڈکوارٹر میں بھی کئی پرانے چہرے اب رخصت ہوچکے ہیں ہر کمرے کے باہر نئے افسر وں کی تختیاں لگی ہوئی ہیں اسی طرح قومی اکیڈمی کو قومی ہائی پرفارمنس سینٹر میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ڈپارٹمنٹل کرکٹ کا بوریا بستر سمیٹ دیا گیا ہےجس سے سینکڑوں کھلاڑی بے روزگار ہوچکے ہیں۔پاکستان کرکٹ بورڈ دعوی کررہا ہے کہ یہ ساری تبدیلیاں کرکٹ کے نظام کو درست کرنے کے لئے کی جارہی ہیں۔

حالانکہ پاکستان سپر لیگ کی فرنچائز آج پی سی بی انتظامیہ سے ناراض ہیں جبکہ کئی فرنچائز نے ابھی ادائیگی نہیں کی ہے۔پی ایس ایل کے براڈ کاسٹرز اور پی سی بی کے درمیان تنازع لندن کی ثالثی عدالت میں ہے۔

جبکہ ایک کمپنی نے ڈیجیٹل حقوق کی مد میں پی سی بی کو ساڑھے چھ کروڑ روپے ادا کرنا ہیں۔یہ کمپنی دیوالیہ ہوچکی ہے۔پاکستان سپر لیگ اب ادارہ بن چکا ہے اس کے ایک اہم افسر کو میڈیا میںخبریں لیک کرنے پر تحقیقات کا سامنا ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ کا نظام شائد اس وقت ٹھیک ہوگا جب پی سی بی حکام ہیڈ کوارٹر میں بیٹھ کر کام کریں گے۔احسان مانی اور وسیم خان پہلے گھر سے ویڈیو لنک پر تھے اب برطانیہ سے ویڈیو لنک پر ہیں۔پی سی بی کا کاروبار زندگی چل رہا ہے۔پاکستان ٹیم کو نا قابل تسخیر بنانے کے لئے تقرریاں ہورہی ہیں لیکن انگلینڈ میں پاکستانی ٹیم مشکل میں گھری ہوئی ہے۔

ساوتھپمٹن میں بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے فواد عالم کو انگلینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ کے لیے پاکستانی ٹیم میں شامل کر لیا گیا لیکن وہ میچ کو اپنی کارکردگی سے یادگار نہ بناسکےاور چار گیندیں کھیلنے کے بعد صفر پر آوٹ ہوگئے۔ فواد عالم نے دس سال اور 258 دن کے طویل وقفے کے بعد دوبارہ پاکستان کی طرف سے ٹیسٹ میچ کھیلا۔فواد نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز اگست 2009 میں سری لنکا کے خلاف کولمبو میں کیا تھا اور دوسری اننگز میں 168 رنز کی شاندار اننگز کھیلی تھی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ کسی پاکستانی بیٹسمین نے ملک سے باہر اپنے اولین ٹیسٹ میں سنچری اسکور کی ہو تاہم اس کے بعد وہ صرف دو ہی ٹیسٹ کھیل پائے۔

نومبر 2009 میں نیوزی لینڈ کے خلاف ڈنیڈن ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں وہ 29 اور دوسری اننگز میں پانچ رنز ہی بنا سکے۔ اس میچ کے بعد سے وہ ٹیسٹ کرکٹ سے باہر ہیں۔ ٹی وی ا سپورٹس شو میں ایک بار فواد عالم نے کہا تھا کہ جب ڈنیڈن ٹیسٹ کے بعد ا نہیں وطن واپس جانے کے لیے کہا گیا تھا تو ا نہیں سمجھ نہیں آیا کہ ایسا کیوں ہوا اور نہ ہی ا ن کو اس کی کوئی وجہ بتائی گئی۔ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے طویل وقفے کے بعد ٹیسٹ کرکٹ میں واپس آنے کا ریکارڈ جنوبی افریقا اور زمبابوے کے آف اسپنر جان ٹرائکوس کا ہے جنھوں نے 22 سال اور 222 دن کے وقفے کے بعد دوبارہ ٹیسٹ کھیلا تھا۔

پاکستانی کھلاڑیوں میں یہ ریکارڈ یونس احمد کا ہے جنھوں نے 17 سال اور 111 دن کے وقفے کے بعد ٹیسٹ میچ کھیلا تھا۔ اس طرح فواد عالم طویل وقفے کے بعد دوبارہ ٹیسٹ کھیلنے والے پاکستانی کھلاڑیوں میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ اس دوران پاکستان نے 88 ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں۔فواد عالم نے اس ایک دہائی میں پاکستان کرکٹ بورڈ میں چھ چیئرمین آتے جاتے دیکھے۔ ان کے سامنے نو چیف سلیکٹرز تبدیل ہوئے، آٹھ کپتان آئے اور گئے لیکن فواد عالم پاکستان کی کرکٹ کا ایک ایسا مسئلہ بن گئے جسے حل کرنے کے لیے کوئی تیار نہ ہوا۔ ایسا دکھائی دیتا تھا کہ جیسے ہر آنے اور جانے والا ان کے معاملے میں ایک پیج پر ہے کہ انھیں سلیکٹ نہیں کرنا چاہتا۔کہیں ایسا تو نہیں تھی کہ ٹیم سے باہر ہونے کے بعد فواد عالم کی ڈومیسٹک کرکٹ میں پرفارمنس تسلی بخش نہ رہی ہو اور وہ صرف پبلک فیگر بن کر ٹیم میں واپسی کے لیے عوامی ردعمل کا سہارا لینا چاہتے ہوں۔

ہرگز نہیں، بلکہ ٹیم سے باہر ہونے کے بعد ان کی پرفارمنس بہت بہتر ہوئی ہے جس کی مثال ان کا ڈمیسٹک کرکٹ میں ریکارڈ ہے۔فواد عالم جب 2009 میں پاکستانی ٹیسٹ ٹیم کاحصہ بنے تھے تو انھوں نے 2008 کے فرسٹ کلاس سیزن میں صرف نو میچوں میں 977 رنز بنائے تھے جن میں 296 رنز ناٹ آؤٹ کی اننگز اور آٹھ نصف سنچریاں شامل تھیں۔ٹیسٹ ٹیم سے باہر ہونے کے بعد سے انھوں نے دس فرسٹ کلاس سیزنز میں سے آٹھ میں 50 سے اوپر کی اوسط سے رنز بنائے ہیں اور باقی دو سیزن میں بھی ان کی بیٹنگ اوسط 40 سے اوپر رہی ہے۔فواد عالم ٹیسٹ ٹیم سے باہر ہونے کے بعد سے اب تک فرسٹ کلاس کرکٹ میں 26 سنچریاں کر چکے ہیں اور ان کے 58.16 کی اوسط سے بنائے گئے رنز کی تعداد 7561 ہے۔دس سال کے اس عرصے میں کسی دوسرے بیٹسمین نے پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ میں فواد عالم سے زیادہ رنز اور سنچریاں ا سکور نہیں کی ہیں۔

فواد عالم نے اپنے فرسٹ کلاس کیریئر میں مجموعی طور پر 34 سنچریوں اور60 نصف سنچریوں کی مدد سے 12265 رنز بنائے ہیں ان کی بیٹنگ اوسط 56.78 ہے۔گذشتہ دس برس کے دوران فواد عالم کو محدود اوورز فارمیٹ میں ضرور موقع ملا۔ 2014 کے ایشیا کپ میں بنگلہ دیش کے خلاف سیمی فائنل میں نصف سنچری اور پھر سری لنکا کے خلاف فائنل میں سنچری بنا کر انھوں نے بین الاقوامی کرکٹ میں کم بیک کی کوشش کی لیکن ورلڈ کپ 2015 سے قبل آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز اور ورلڈ کپ کے بعد بنگلہ دیش کے خلاف ون ڈے سیریز میں مایوس کن کارکردگی کے سبب وہ ٹیم میں جگہ برقرار نہ رکھ پائے۔

فواد عالم گیارہ سال ٹیم سے باہر رہے ایسے میں پاکستان کی مڈل آرڈر بیٹنگ کا بوجھ موجودہ کپتان اظہر علی اور اسد شفیق نے سنبھالا لیکن اب دونوں کی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ایسے وقت میں جبکہ اظہر علی اور اسد شفیق کی کارکردگی میں تنزلی دکھائی دے رہی ہے۔پاکستانی بیٹنگ لائن کا بوجھ نوجوان بیٹسمین شان مسعود اور بابر اعظم جیسے نوجوان بیٹسمینوں نے اپنے کاندھے پر اٹھایا ہے۔

پاکستانی بیٹنگ کے نئے اسٹار سامنے آرہے ہیں۔انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے قبل بیٹنگ کوچ یونس خان ازراہ تفنن کہا تھامیں بولنگ کوچ وقار یونس سے جادو کی وہ چھڑی لینے کی کوشش کروں گا جس سے انہوں نے فاسٹ بولر سہیل خان کو دو منٹ میں لیٹ سوئنگ سکھا دی۔ جبکہ میں وقار یونس سے گالف بھی سیکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔حقیقت یہی ہے کہ پاکستان کرکٹ کے نظام کو واقعی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے لیکن سلیکشن میں جانبداری کا خاتمہ اور میرٹ ہی پاکستان ٹیم کو دنیا کی نمبر ایک ٹیم بناسکتا ہے۔یہ ناممکن نہیں ، غیر جانب داری وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید