مولانا زبیراحمد صدیقی
تقویم(کیلنڈر) انسانی ضرورت ہے، جس کی بدولت قومیں نظام زندگی، معاملات، منصوبہ بندی، تاریخوں کا تعین، نظم اوقات وغیرہ انجام دیتی ہیں۔ایک کیلنڈرکے ساتھ ہی اجتماعی و انفرادی زندگی مرتب و منظم ہو سکتی ہے۔ کیلنڈر ماضی کو محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ حال اور مستقبل کو بھی مرتب کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ابتدائے آفرینش سے ہی سالانہ کیلنڈر کا سلسلہ اقوام عالم نے اختیار کیا۔
قمری کیلنڈر ،جس کی ضبط و ترتیب چاند کی زمین کے اردگر چکر لگانے سے ہوتی ہے۔ چاند زمین کے گرد مہینے میں ایک مرتبہ اور سال میں بارہ مرتبہ چکر لگاتا ہے۔ قرآن کریم نے چاند کی اس حرکت کے جانب یوں اشارہ فرمایا ہے :اور چاند ہے کہ ہم نے اس کی منزلیں ناپ تول کر مقرر کر دی ہیں، یہاں تک کہ وہ جب (ان منزلوں کے دورے سے) لوٹ کر آتا ہے تو کھجور کی پرانی ٹہنی کی طرح پتلا ہو کر رہ جاتا ہے۔(سورۂ یٰسین:۳۹)دوسری جگہ ارشاد فرمایا :لوگ آپ سے نئے مہنیوں کے چاند کے بارے میں پوچھتے ہیں، آپ انہیں بتا دیجئے کہ یہ لوگوں کے (مختلف معاملات کے ) اور حج کے اوقات متعین کرنے کے لیے ہیں۔(سورۃ البقرہ:۱۸۹)
مذکورہ بالا دونوں آیات سے قمری تقویم اور کیلنڈر کا اثبات اور چاند کی گردش کا مقصد واضح ہورہا ہے۔ہر چند کہ قمری مہینوں کا تعین قبل از اسلام ہو چکا تھا، جنہیں اسلام سے دوسو سال قبل حضور ﷺ کے جد امجد کعب ابن لوی نے مقرر کیا تھا، وہ بارہ مہینے: محرم الحرام، صفرالمظفر، ربیع الاول، ربیع الثانی، جمادی الاولیٰ، جمادی الاخریٰ، رجب المرجب، شعبان المعظم، رمضان المبارک، شوال المکرم، ذوالقعدہ اور ذی الحجہ ہیں۔ تاہم قمری سال کی تعیین سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے فرمائی، جس کی تفصیل ذیل میں آرہی ہے۔
ان بارہ مہینوں میں قبل از اسلام چار مہینے محترم سمجھے جاتے تھے، جنہیں اشہر حُرم کہا جاتا تھا، ان چار مہینوں میں اہل عرب باہمی جنگ وجدال کو ممنوع سمجھتے تھے، چنانچہ ان مہینوں کے شروع ہوتے ہی جاہلی ماحول میں بھی امن ہوجاتا تھا، ان چار مہینوں کا اجمالی بیان قرآن کریم میں اور تفصیلی بیان احادیث میں ہے، قرآن کریم میں ہے کہ :حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ مہینے ہے، جو اللہ کی کتاب (یعنی لوح محفوظ) کے مطابق اس دن سے نافذچلی آتی ہے ،جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا۔ ان (بارہ مہینوں) میں سے چار حرمت والے مہینے ہیں۔(سورۃ التوبہ:۳۶)
دوسری جگہ ارشاد فرماتے ہیں:لوگ آپ سے حرمت والے مہینے کے بارے میں پوچھتے ہیںکہ اس میں جنگ کرنا کیسا ہے؟آپ کہہ دیجیے کہ اس میں جنگ کرنا بڑا گناہ ہے۔ (سورۃ البقرۃ:۲۱۷)
احادیث میں ان چار مہینوں کی وضاحت کی گئی ،آپﷺ نے خطبۂ حجۃ الوداع میں جہاں کفار عرب کی مہینوں کی تقدیم و تاخیر کی رسم جاہلیت (نسی) کے خاتمے کا اعلان فرمایا، وہیں اشہر حرم کی وضاحت بھی فرمادی۔حضرت ابوبکرصدیق ؓ سے روایت ہے،نبی کریم ﷺنے ارشادفرمایا:زمانہ پھر اپنی پہلی صورت وہیئت پر آگیا ہے، جس پراللہ تعالیٰ نے آسمان وزمین کی تخلیق کی تھی، سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے،ان میں سے چارحرمت والے مہینے ہیں، تین تومتواتر یعنی:ذولقعدہ،ذوالحجہ اورمحرم (جبکہ چوتھا مہینہ) رجب مضر ہے، جو جمادی الاخری اور شعبان کے درمیان میں واقع ہے۔(صحیح بخاری:۴۶۶۲)
اسلام دین فطرت ہے اور اس کے متبعین دنیا بھر کے قیامت تک آنے والے انسان ہیں، جن میں ذہین و غبی، عالم و غیر عالم، پڑھے لکھے وان پڑھ، مردو زن، بچے اور بوڑھے سب شامل ہیں، اس لیے احکام اسلام کا مدار شمسی سال کے بجائے قمری سال کو بنایا گیا، چنانچہ زکوٰۃ، حج، رمضان کے روزے، ہر ماہ ایام بیض کے روزے، قربانی وغیرہ ،قمری تقویم کے مطابق رکھے گئے، یہی وجہ ہے کہ امت میں چودہ صدیوں سے قمری کیلنڈر رائج ہے اور شرعی طور پر اسے محفوظ رکھنا اور اس کا اجراء امت پر فرض کفایہ ہے۔اگر خدانخواستہ پوری امت قمری تقویم کو ترک کر دے تو پوری امت گناہ گار ہوگی، اس لیے اسلام کی درخشندہ تاریخ بھی قمری تقویم کے لحاظ سے مرتب کی گئی۔
رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ طیبہ، خلفائے راشدینؓ اور اسلامی حکومتوں نے سرکاری کیلنڈر نیز ان کے عہد مبارکہ کی تدوین بھی قمری مہینوں کے اعتبار سے ہے۔ بر صغیر میں انگریز کے قابض ہونے کے بعد سے اس تقویم کو شمسی تقویم میں بدل دیا گیا اور مفتوح قوم نے فاتح قوم کے اثرات کو تا حال قبول کیا ہوا ہے، اس لیے بجائے قمری تقویم کے ملکی نظام شمسی تقویم کے ذریعے چلایا جا رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ رمضان ، عید وغیرہ کے معاملات میں قوم تقسیم ہوتی ہے۔ افسوس صدافسوس! نسل نو قمری تقویم سے بالکل نا بلد ہے، جدید تعلیم یافتہ طبقے کو قمری مہینوں کے نام تو در کنار، قمری سال کے سن تک کا علم نہیں، جس کی وجہ سے وہ یقینا ًبہت سارے دینی احکام کو ترک کر بیٹھتے ہیں۔ بہت سے لوگ اپنے اموال کی زکوٰۃ شمسی سال کے اعتبار سے نکالتے ہیں، عموماً مروجہ مالی سال جون تا جولائی ہوتا ہے،اور کارباری طبقہ اسی کے مطابق زکوٰۃ بھی نکالتا ہے۔ گزشتہ سطور میں یہ وضاحت کی جا چکی ہے کہ قمری سال شمسی سال سے مختصر ہوتا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر36 سال بعد دونوں میں ایک سال کا فرق ہوجاتا ہے،اگر ایک شخص شمسی سال کے اعتبار سے زکوٰۃ ادا کرتا ہے تو36 سال بعد ایک سال کی زکوٰۃ شارٹ(کم) ہوجائے گی۔
قمری تقویم کو ہجری تقویم بھی کہتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہدمبارک میں آپ کے سامنے ایک تحریر پیش ہوئی، جس پر صرف شعبان المعظم لکھا ہوا تھا ،سن وغیرہ مرقوم نہ تھا اور اس وقت تک یہی مروج تھا کہ بغیر سن کے قمری تاریخ لکھی جاتی تھی، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ یہ کون سا شعبان ہے؟ اس سال کا یا گزشتہ سال کا؟نیز آپ کو حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے سن کی تدوین کی جانب متوجہ فرمایا تو آپ نے اکابر صحابہؓ کی مشاورت بلائی اور مشورہ طلب فرمایا کہ ہمیں سن کس اہم واقعے سے شروع کرنا چاہیے؟ مختلف آراء سامنے آئیں، لیکن آپ ؓ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی رائے کو قبول فرماتے ہوئے رسول اللہ ﷺکی ہجرت سے قمری تقویم کے آغاز کا اعلان فرمایا۔
ہجرت کا آغاز صفر اور تکمیل ربیع الاول میں ہوئی تھی، لیکن محرم الحرام پہلا مہینہ جانا جاتا تھا، اس لیے محرم الحرام کو پہلا مہینہ قرار دے کر ہجرت نبوی کے سال کو پہلا سال قرار دیا گیا۔ آپ ﷺکی ولادت ووصال پر ہجرت کو ترجیح دے کر یہ پیغام دیا گیا کہ مسلمان نظریاتی قوم ہیں،وہ اپنے نظریے کومقدم رکھتے ہیں، ہجرت اگر چہ مظلومیت کی داستان ہے ،تاہم ہجرت اشاعت اسلام اور غلبہ دین کا ذریعہ بھی بنی۔ ہجرت سے ہی اسلام آفاقی دین بنا، اسی وجہ سے ہجرتِ مدینہ کو بنیاد بنایا گیا، تاکہ ہر سال محرم الحرام سے مسلمانوں کو جہد مسلسل، صبروتحمل، دین کے لیے مشقت و محنت کرنے کا پیغام و درس ملے۔
شمسی کیلنڈر کا استعمال بھی شرعاً ممنوع نہیں ہے، ضرورت کے تحت اسے استعمال کیا جا سکتا ہے، تاہم قمری کیلنڈر اسلامی ضرورت اور مسلمانوں کی پہچان ہے، اسلامی احکام کا مدار قمری مہینوں پر ہے، اس لیے اس تقویم کو رواج دینا، قائم رکھنا، اور اگلی نسلوں کو اس سے متعارف کروانا ضروری ہے۔