آپ آف لائن ہیں
ہفتہ6؍ربیع الاوّل 1442ھ 24؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کھڑکیاں کسی بھی گھر میں تازہ ہوا، دھوپ اور خوشگوار احساس پیدا کرنے کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ گھر کے ڈیزائن کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف طرز کی کھڑکیاں لگائی جاتی ہیں۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کھڑکیاں خراب ہونا شروع ہوجاتی ہیں اور پھر ان کی مرمت کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ گھر کی خوبصورتی کو بڑھانے یا برقرار رکھنے کے لیے آپ کھڑکیوں کی مرمت کے لیے بہتر مٹیریل اور طریقے کا استعمال کریں۔ اگر آپ گھر فروخت کرنے یا کرایہ پر دینے کی منصوبہ بندی کررہےہیں تو یہ کام آپ کے گھر کی قدر و قیمت میں اضافے کا باعث بھی بنے گا۔

بوسیدہ لکڑی والی کھڑکیاں

عام طور پر کھڑکیوں کی لکڑی کا بھربھرا، نرم اور بوسیدہ ہوجانا یا ان کے پینٹ کا اُکھڑنا فوری طور پر مرمت کا متقاضی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ وقت کے ساتھ ساتھ ان کے جوڑ بھی ڈھیلے ہونے لگتے ہیں۔ اگر آپ کو لکڑی کی بوسیدگی کے بارے میں جاننا ہے تو دیکھیں کہ آیا لکڑی نرم ہوچکی ہے یا نہیں، یا پھر اس میں پھپھوند تو نہیں لگی گئی۔ 

یہ جانچنے کے لیے آپ کو پیچ کس (اسکریو ڈرائیور) سے لکڑی کو کھودنا یاکھرچنا ہوگا، اس طرح آپ کو بوسیدہ حصہ مل جائے گا۔ اس بوسیدہ حصے کو کاٹ لیں اور خالی جگہ کو برادے یا فلر سے بھر دیں۔ اگر زیادہ حصہ خراب ہے تو اسے کاٹ کر اس کی جگہ لکڑی کانیاحصہ لگا لیں ۔ اسے آپ ڈرل کے ذریعے یا کیلوں سے لگاسکتے ہیں، پھر جو حصے رہ جائیں انہیں آپ فلنگ کے ذریعے بھردیں۔

ڈھیلے جوڑ ٹھیک کرنا

کھڑکیوں کے ڈھیلے جوڑ ٹھیک کرنا بھی ایک عام مسئلہ ہے۔ مرمت کرنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ کھڑکی کے کونوں کو اینگل بریکٹ لگاکر مضبوط کردیں، یہ بریکٹ زنگ سے پاک پیتل یا اسٹین لیس اسٹیل سے بنا ہوتا ہے۔ بصورت دیگر متبادل کے طور پر ڈھیلے جوڑ پر گلو لگادیں تاکہ اس میں مضبوطی آئے۔ 

عام طور پر لکڑی کے فریموں کو آپس میں جوڑنے (کلیمپ) کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ لکڑی کے بڑے حصے عیب دار ہوجاتے ہیں، ان کو کاٹا جاسکتا ہے اور فریموں ، داغوں کو ٹھیک اورخراب سلاخوں کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

دھندلے شیشے یا پٹ

پانی لگنے یا ہوا میں نمی کی وجہ سے کھڑکیوں کے پٹ یا شیشے دھندلے ہو جاتے ہیں۔ آپ ان پٹوں کو باہر نکالیں اور ان میں لگے شیشے صاف کردیں یا اگر وہ بہت زیادہ خراب ہوچکے ہوں تو انہیں تبدیل کردیں۔ اگر پرانا شیشہ بغیر توڑے یا کاٹے بآسانی باہر نہ نکلے تو بہترہے کہ اس کے دونووں اطراف میں کلنگ فلم لگادی جائے تاکہ شیشہ ٹوٹنے کی صورت میں اس کے ذرات نقصان نہ پہنچائیں۔ 

اگر کھڑکی کا ڈیزائن ایسا ہے کہ پوری کھڑکی کو باہر نکالنا پڑے گا تو پہلے یہ دیکھ لیں کہ کھڑکی کے اوپر کی سِل اس کے اوپر والے حصے کو سپورٹ کررہی ہے یا نہیں، اگر خدشہ ہوتو اس میں کوئی سپورٹ لگادیں۔

چوکھٹے والی کھڑکیاں

چوکھٹے والی کھڑکیاں (Sash Windows)بھاری ہوتی ہیں۔ یہ اگر خراب ہوجائیں تو پھنس سکتی ہیں، چپک سکتی ہیں یا نیچے گرسکتی ہیں۔ سیش ونڈوز کی جانچ پڑتال کرنا آسان ہے۔ عام طور پر اس کی ٹوٹی ہوئی کورڈز (Cords)، ڈوریاں اور پھنسی ہوئی پُلیاں ہی مسائل پیدا کرتی ہیں۔ اس میں2 ملی میٹر پتلےشیشے کو جدید اور موٹے شیشے (کم سے کم 3ملی میٹر ہونا چاہئے) سے تبدیل کیا جاسکتاہے۔ سائیڈ بکس میں اسے بیلنس کرنے والے لوہے یا وزن کو ایڈجسٹ کرنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ 

ایسے فریم جنہیں سیدھا سیدھا کھینچنا جاتا ہے، ان کی الائنمنٹ بھی غیرمتوازن یا ڈھیلی ہو سکتی ہے۔ سیش ونڈوز کی مرمت کرنے کے لیے آپ کو اسے فریموں سے ہٹانا ہوگا۔ سیش کورڈز یا ڈوریوں کو آسانی تبدیل کیا جاسکتاہے۔ پُلیوں کو لبریکیٹ کیا جائے، جس کے لیے ا س کی بیڈنگ کوکو الگ کرلیں۔ خراب لکڑی کو موم لگا کر ہموار کریں اور پلیوں کو چکنا کریں۔ پھر سب چیزیں دوبارہ ایڈجسٹ کرکے اس کی بیڈنگ (Beading)کو سیٹ کرلیں۔ اس کام کے لیے آپ کسی ماہر کی خدمات بھی حاصل کرسکتے ہیں۔

عیب دار چوکھٹ

دیوار میں کسی بھی قسم کا رخنہ ایک کمزور پوائنٹ ہو سکتاہے اور پرانی دیواریں اس مسئلے کا شکار ہوسکتی ہیں، خاص طورپر جہاں لکڑی کی چوکھٹ (لکڑی کے اوپر کی سلیب یا سِل) خراب ہو چکی ہو۔ اگر چوکھٹ لکڑی کے بجائے اینٹوں سے بنی ہوئی ہو یا پھر کنکریٹ یا پتھروں کی تو تب بھی ان میں سوراخ ہوسکتے ہیں یا دراڑیں پڑسکتی ہیں۔ اندرونی سطح میں کیے گئے پلاسٹر میں پڑنے والا چھوٹاشگاف بھی بڑا ہوسکتا ہے۔

ایسی صورت میں اگر کھڑکی کی تنصیب کے دوران اس بات کا خیال نہ رکھا جائے تواس سے کھڑکی کی سلائڈنگ یا بیرونی نقل و حرکت میں مشکل پیش آسکتی ہے۔ لکڑی کے دروازوں اور کھڑکیوں کی چوکھٹ کے لیے روایتی مٹیریل استعمال کیا جاتاہے۔ 

یہاں تک کہ پرانی مگر ٹھوس دیواروں والی عمارتوں میں جہاں دیوار کے باہر والے رُخ پر پر اینٹوں کی محراب یا پتھر کی چوکھٹ ہوتی ہے، اس کے پیچھے ایک ثانوی لکڑی کی بیم لگی رہتی ہے، جس پر اکثر پلستر کر دیا جاتا ہے۔ 

اگر لکڑی کی پرانی چوکھٹ نے سڑنا شروع کردیا ہے تو اسے سامنے لا کر خشک ہونے دیا جائےاور اس کے ارد گرد موجود سیمنٹ یا اکھڑے ہوئے پینٹ کو الگ کردیا جائے۔ اس کے بعد بآسانی چوکھٹ یا کھڑکی کو تبدیل کرلیا جائے۔

تعمیرات سے مزید